ایک اور ہجرت کراچی کا مقدر؟

شیئر کریں:

تحریر ہارون رشید طور

کراچی میں پلتی سیاسی سازشوں نے اس عروس البلاد سے سب کچھ چھین لیا
دنیا کا پانچواں اور پاکستان کا سب سے بڑا شہر تیزی سے اس زوال کی جانب بڑھ رہا ہے جس کی منزل آخر فنا ہے۔
یہ بڑی سفاک اور نامکن نظر آنے والی سچائی ہے جیسے موت۔ شہر کہاں مرتے ہیں
موہنجو داڑو بائیس سو سال پہلے یہاں جو انسان آباد تھے بہت مہذب اور ترقی یافتہ شمار ہوتے تھے۔
جیسےکراچی والے ہیں۔ پھر کچھ ایسا ہوا کہ ہر کمال کو زوال ہے والا نظریہ اس شہر کو کھانے لگا۔
معلوم نہیں یہ کس کے غرور کا شاخسانہ ہے۔ کس کے اعمال کی سزا ہے کہ اس شہر میں موہنجو دڑو نظر آنے لگا ہے۔
بستیاں کسی کی بددعا سے تو ویران نہیں ہوتیں، شاید بستی والوں کے اعمال مقدر میں تباہی لکھ دیتے ہیں۔

کیا اسلام آباد بھی کراچی بن جائے گا؟

مگر یہاں تو ہر قومیت نسل اور ہر صوبے کے لوگ معاش کیلئے آباد ہوئے تو انہوں نے شہر کو اور شہر نے انہیں خوشحالی دی۔ مگر اب یہ ہورہا تھا کہ شہر ٹوٹ پھوٹ اور فرسودگی کا شکار تھا۔ زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی تھی۔ ہہاں پینے کا پانی خریدنا پڑتا ہے، بجلی، ٹرانسپورٹ، صفائی سب عنقا ہو رہی تھی اور لوگ صرف روتے ہیں، فریاد کرتے ہیں، تاریخ گواہ ہے ہر ویران اور تباہ ہونے والے شہر کے باسی قسمت سے حکومت تک سب کو الزام دیتے تھے خود کچھ نہیں کرتے تھے۔ نہ کوشش نہ کام، نہ اپنی مدد آپ، نہ احتجاج۔ نہ ہڑتال اور ایسا جلسہ جلوس کہ اقتدار کے ایوانوں میں زلزلہ آجائے یہی حال میرے دیس میں کراچی کا ہوچکاہے۔

عروس و بلاد کراچی کچرے میں اٹ گیا

تاریخ راوی ہے ؛ دراصل وہ منقسم تھے۔ ان کے درمیان تعصبات کی بہت سی دیواریں آگئی تھیں، حاکم اس نفاق کو ہوا دیتے تھے۔ شہر نفاق سے تباہی کی جانب جارہا تھا مگر اجتماعی سوچ سے محروم تھا۔اس وقت میرے لکھنے سے کیا ہوتا کہ یہ مستقبل کا موہنجو داڑو ہے۔ بارش کو کیا کہیں؟ قدرت کی شہر کو منزل فنا کی جانب دھکیلنے کی سازش؟ قدرت تو بقا کے قوانین بناتی ہے۔ اس پر عمل نہ کرنے والوں کیلئے یقینا فنا ہے،دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہوگئیں۔اب تک کی تباہی کے بعد یہ بالکل بعید از امکان لگتا ہے کہ ہم اس پورے شہر کی تعمیر نو کر سکیں۔ ہم اپنی حسرت تعمیر کو کیا کریں۔ دنیا بھر کے وسائل بھی مہیا ہوں تو کہاں سے آغازکریں اور کیسے۔ آیندہ سال کا پتا نہیں اس سے زیادہ بارش ہوجائے تو اتنے کم وقت میں کونسا الہ دین کا چراغ کام مکمل کر سکتا ہے؟ سب سے بڑھ کر یہ کہ جو پہلے کے وسائل کھاگئے کیا اب وہ پرہیز گار ہو گئے ہیں؟ دیوار چین بنانے والی قوم اب یہاں سی پیک کا جادو جگانے آئی ہے تو اس سے کہیں کہ کراچی بنادو، تو وہ بھی سوچ میں پڑ جائیں گے اور شاید کہیں گے کہ “اس کا تو کچھ ہو نہیں سکتا۔ ہم ایک اور کراچی بنا دیتے ہیں آس پاس کہیں اگلے سال تک، بس یہ سامان اٹھائیں اور ہجرت کرجائیں”۔ ایک اور ہجرت


شیئر کریں: