اینکر پرسن شفاعت کو کورونا کے دوران کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟

شیئر کریں:

اینکر پرسن شفاعت علی کا کہنا ہے کہ انہیں نارمل فلو تھا اور ساتھ میں منہ کا ذائقہ چلا گیا جو ان کےلیے عام بات تھی۔
شفاعت ماضی میں بھی سیزنل فلو کا شکار ہوجاتے رہیں جس کا وہ علاج کروا کر صحت بیاب ہوجاتے تھے۔

اینکر پرسن سلمان حسن سے بات کرتے ہوئے شفاعت کا کہنا تھا ان کو کورونا کی کوئی خاص علامات ںہیں تھیں۔
فلو ہونے پر کورونا کا ٹیسٹ کروایا تو وہ مثبت آگیا۔

کورونا کے ابتدائی دنوں میں زیادہ پسینہ آتا تھا، سر درد بھی زیادہ تھا اور کھانا بھی ہضم نہیں ہورہا تھا۔
قرنطینہ کے دوران شفاعت کا آکسیجن لیول بھی کم ہوا جس پر انہیں آکیسجن لگوانا پڑی۔
شفاعت نے بتایا کہ سانس لینا مشکل ہوگیا تھا اور انہیں موت نظر آنا شروع ہوگئی تھی۔
نوویں دن کے صحت مند ہونا شروع ہوگیا تھا۔
شفاعت کا کہنا ہے کہ اکیسویں دن بھی واک کرنے پر سانس پھولنا شروع ہوجاتا تھا۔
شفاعت نے بتایا کہ پھپھڑوں میں پانی جمع ہونے سے سانس لینا شدید متاثر تھا اب آہستہ
آہستہ ورزش کرنا شروع کردی ہے۔

اینکر سلمان حسن کے سوال پر شفاعت کا کہنا ہے کہ نہ تو سنا مکی سے کورونا کا علاج ممکن ہے
اور نہ ہی کسی اور دیسی دوا سے مہلک وائرس کا علاج کیا جاسکتا ہے۔

آر این اے وائرس کا علاج ممکن ہی نہیں ہے انسان کے جسم کا جو حصہ متاثر ہو کورونا اسے ٹارگٹ کرتا ہے۔
شفاعت کا کہنا ہے کہ وائرس نے ان کی بینائی اور دماغ کو بھی متاثر کیا۔
وہ قرنطینہ کے دوران اپنی بیوی تک کو پہچان نہیں سکتے تھے انہیں عجیب وغریب خیال آتے تھے۔
قرنطینہ کے دوران شفاعت کا کہنا ہے کہ انہیں خیال آتے تھے کہ وہ کسی کو قتل کردیں۔
وہ مکمل طور پر ڈپریشن میں چلے گئے تھے۔

اینکر سلمان حسن سے بات کرتے ہوئے شفاعت کا کہنا ہے کہ کورونا کے دوران ڈپریشن کی وجہ انسان ہوش
میں نہیں رہتا اس لیے اپنی اور دوسروں کی حفاظت کے لیے قرنطینہ میں چلے جائیں۔

شفاعت نے بتایا کہ لندن والے بابا جی کے سنا مکی کے نسخے پر عمل نہ کریں۔
ان کے ایک دوست کی والدہ کا انتقال سنا مکی کی وجہ سے ہی ہوا۔
کورونا کے دوران مریض پہلے ہی ڈائریا می٘ں مبتلا ہوجاتا ہے سنا مکی مریض کو مزید کمزور کردیتی ہے۔

شفاعت کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز کی ہدایات پر عمل کریں اور خود سے ادویات کا استعمال نہ کریں۔


شیئر کریں: