اینکر مرید عباس کے بعد زعیم بھی پارٹنر کے ہاتھوں قتل

شیئر کریں:

کراچی میں اینکر مرید عباس قتل کیس کے بعد ایک اور واقعہ منظرعام پر آگیا۔سرمایہ کاری پر ہر ماہ منافع دینے والے ایک اور کاروبار کا بھیانک انجام۔لانڈھی کورنگی کی مختلف کچرا کنڈیوں سے ملنے والے انسانی اعضاء کے راز سے پردہ اٹھ گیا ۔بزنس پارٹنر کے زبردستی رقم طلب کرنے پر دو سگے بھائی جلاد بن گئے۔ رینجرز کے ہاتھوں گرفتار دو سگے بھائیوں نے تفتیش کے دوران سنسنی خیز انکشافات کئے۔ملزمان کے مطابق ڈھائی سے تین سال قبل مقتول سے چھبیس لاکھ پچاس ہزار روپے لئے تھے۔مقتول سے ملنے والی رقم سے فلٹر واٹر کے لئے استعمال میڈول بنانے کا کاروبار شروع کیا۔مقتول کو ہر ماہ ایک لاکھ روپے بطور منافع بھی دیتے رہے۔بقرعید پر سالانہ جانور کاٹتے ہیں۔جانور ذبح کرنے والے اوزار سے ہی زعیم کی لاش کے ٹکڑے کئے۔زعیم کی دوستی زاہد سے تھی ۔ابتداء میں کاروبار میں بہت منافع ہوا۔کچھ عرصہ قبل نقصان ہوا تو مقتول زعیم کو منافع دینے سے معذرت کی۔مقتول رقم واپس نہ کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہا تھا۔مقتول زعیم کو بات چیت کے بہانے گھر سے بلایا، اپنے اہلخانہ کو بھیج دیا تھا۔مقتول زعیم چونتیس لاکھ پچاس ہزار کا مطالبہ کررہا تھا۔دونوں ملزمان نے رسی کی مدد سے زعیم کو گلا گھونٹ کر مارا۔اہلخانہ کے واپس آنے سے قبل ہم نے گھر کو اچھی طرح دھویا۔ملزمان نے بتایا کہ مقتول اتنا پریشر دے رہا تھا کہ ہمیں اپنی زندگی سے متعلق خطرات لاحق ہوگئے ۔لاش کے ٹکڑے کرنے کا مقصد اسے باآسانی ٹھکانے لگانا تھا۔کاروبار میں ہم دو بھائیوں کے بھی تین سے ساڑھے تین لاکھ روپے لگے ہوئے تھے


شیئر کریں: