ایم کیو ایم کے باغِ جناح جلسہ کی قراردادیں

شیئر کریں:

ایم کیوایم پاکستان کے ڈپٹی کنوینرکنورنویدجمیل نے باغِ جناح میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے گیارہ قراردادیں پیش کیں۔
صوبائی حکومت کراچی کے ٹیکسوں کی مد میں وصول کرنے والی محصولات میں سے 50فیصد کراچی، حیدرآباد، میر پور خاص، نواب شاہ اور سکھرپر خرچ کیا جائے۔
غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ، زائد بلنگ کو فی الفور بند کیا جائے اور کے الیکٹرک اپنا قبلہ درست کرے۔
پانی کا منصوبہ K-4 کو ہنگامی طور پر مکمل کیا جائے۔اور کراچی کے ہر گھر میں پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
پیپلز پارٹی کی متعصب،نسل پرست اور کراچی دشمن حکومتوں کے مختلف ادوار میں سندھ کے شہری علاقے کے نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں میں نظر انداز کر کے جعلی دومیسائل اور پی آر سی پر لاکھوں ملازمتیں دے کر سندھ کے شہری علاقوں کے نوجوانوں پرملازمتوں کے دروازے بند کر کے ان کا معاشی قتل کیا گیا۔ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ فی الفور سندھ ہائی کورٹ کے ججز پر مشتمل ایک کمیشن قائم کریں جو پاکستان پیپلز پارٹی کے مختلف دور حکومتوں میں سندھ میں دی جانے والی ملازمتوں کی تحقیقات کریں اور شہری سندھ کے نوجوانوں کے ساتھ سرکاری ملازمتوں میں کی جانے والی نا انصافی کا ازالہ بھی کرے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے گزشتہ 10سالوں کے دوران بلدیاتی قوانین میں تبدیلیاں کر کے سندھ کے شہری علاقوں کے تمام محکمے بشمول کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ، ماسٹر پلان، لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی، ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی، کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی،تعلیم، صحت اور ٹرانسپورٹ بلدیاتی حکومتوں سے چھین کر اپنے ماتحت کر لیا ان تمام اداروں کو فل فور بلدیاتی حکومتوں کے ماتحت کیا جائے۔
کراچی دنیا کے 10بڑے شہروں میں شامل ہے جس کی آبادی کم و بیش 3کروڑ نفوس پر مشتمل ہے حکومت سندھ نے شہری دشمنی کی بنیاد پر کراچی کو پبلک ٹرانسپورٹ سے یکسر محروم کر دیا ہے اور پرائیویٹ ٹرانسپورٹ مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے یہ اجتماع وفاق اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرتا ہے ہنگامی بنیادوں پر کراچی کے عوام کو پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کی جائیں اور اس کا انتظام و اختیارKMC کے سپرد کیا جائے۔
مردم شماری میں کراچی کی آبادی کو ایک سازشی منصوبے کے تحت کم ظاہر کیا گیاجس کی وجہ سے کراچی میں ہونے والی حلقہ بندیوں میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کی سیٹیں کم کر کے یہاں کی آبادی کو حقیقی مینڈیٹ سے محروم کیا گیاکراچی کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کا ہر قیمت پر ازالہ کیا جائے۔
سندھ کے شہری علاقوں میں کی گئی من پسند اور انجینئرڈ حلقہ بندیاں کر کے عوام کے حقیقی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا ایسی متعصبانہ حلقہ بندیوں کو درست کرنے کے لئے فی الفور اقدامات کئے جائیں۔
علی رضا عابدی بھائی شہید کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کر کے قرار واقع سزا دی جائے۔
سندھ کی زمینوں کا از سر نو سروے کروا کر 70سالوں سے غاصب وڈیروں سے زمین وا گزار کروا کر 24جولائی 2015؁ء کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ان زمینوں کے حقیقی وارثوں کو منتقل کی جائے اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں تحقیقاتی کمشین قائم کیا جائے۔
ایم کیو ایم پاکستان سمجھتی ہے کہ شہری سندھ باالخصوص مہاجروں کے ساتھ ملازمتوں، تعلیم،صحت، ٹرانسپورٹ، ترقیاتی اخراجات، معیشت سمیت زندگی کے ہر شعبے میں رواں رکھی گئی نا انصافیوں اور محرومیوں کے خاتمے کے لئے شہری سندھ کے صوبے کے قیام کی جدو جہد شروع کی جائے جس میں تمام زبانیں بولنے والوں کو ملازمتوں، وسائل، تعلیم سمیت تمام حقوق یکساں حاصل ہوں اور جہاں وزارت اعلیٰ جیسے اہم ترین منصب پر فائز ہونے کے لئے زبان کے بجائے اہلیت پیمانہ ہو اور تمام زبانوں سے تعلق رکھنے والے اہل افراد پر اعلیٰ ترین عہدے پر بلا امتیاز فائز ہو سکیں۔


شیئر کریں: