ایم کیوایم کی موجودہ انتخابی سیاست کے مضمرات

تحریر محمد رضا سید

ایم کیوایم پاکستان اس وقت انتخابی سیاست کے حوالے سے بدترین صورت حال سے گزر رہی ہے. اپریل 2022ء میں عمران خان کی
حکومت سے علیحدگی کے بعد  سندھ کے شہری علاقوں میں ایم کیوایم پاکستان کی مقبولیت کا گراف انتہائی نچلی سطح پر آگیا. لاہور اور پشاور
میں عوام کی بڑی تعداد حکومت کی تبدیلی کے خلاف میدان میں نکلی تو کراچی کے عوام کسی دوسرے شہر کے لوگوں  سے پیچھے نہیں
رہے. اُس روز عسکری 4 کے سامنے دسیوں ہزار اُردو بولنے والے موجود تھے اور ایم کیوایم کی اسٹبلشمنٹ نواز پالیسیوں پر سراپا احتجاج
تھے.
ایم کیوایم کی موجودہ انتخابی سیاست کے مضمرات
اس کے بعد ایم کیوایم کے بانی الطاف حسین نے پاکستان تحریک انصاف کی اسٹیبلشمنٹ مخالف تحریک کا ساتھ  دینا شروع کردیا جس
سے سندھ کے شہری علاقوں کے ووٹرز کو مزید حوصلہ ملا کہ وہ ایم کیوایم پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کرنے پر مبنی پالیسی کے خلاف
سینہ ٹھوک کر پاکستان تحریک انصاف اور کسی قدر جماعت اسلامی کی طرف رجوع  کریں.
بلدیاتی انتخابات میں ایم کیوایم پاکستان کی جانب سے بائیکاٹ کرنے کے فیصلے نے اُسے شدید نقصان پہنچایا اور الیکشن کے  عمل
سے باہر ہونے کی وجہ سے ایم کیوایم پاکستان کو شہری سندھ کی سیاست سے باہر کردیا. ایم کیوایم پاکستان کے اُمیدواروں کی فہرست پر
نظر ڈالیں تو خود ایم کیوایم پاکستان کی پسپائی نظر آتی ہے جہاں اُنھوں نے اپنی مرکزی قیادت کو رسوا ہونےسے بچانے کیلئے
آگے نہیں آنے دیا۔

ایم کیوایم کی انتخابی سیاست میں ورود کے بعد سے گزشتہ 2018ء کے عام انتخابات تک سیکولر سیاسی سوچ رہی ہے. الطاف    حسین
نے اپنی سیاسی سوچ کے مطابق ہمیشہ مذہبی اور شدت پسند عناصر سے اتحاد کی کوششوں کو مسترد کیا. اس کے باوجود کہ ایم کیوایم کے اندر
ایسی قوتیں موجود تھیں جو شدت پسند تنظیموں کے عزائم سے ہم آھنگ بھی رہیں جس میں  مصطفیٰ کمال گروپ پیش پیش تھا. اس
گروپ کے اہم افراد ایک مسلک کے لوگوں کو مسلسل نشانہ بناتے رہے.
الطاف حسین کی جانب سے فرقہ وارانہ سرگرمیوں میں ایم کیوایم کے بعض عناصر کی شمولیت کی شکایتوں پر ایکشن لئے جانے کے بعد
سے  مجموعی طور پر ایم کیوایم پر ایک شدت پسند مذہبی گروہ کا غلبہ نہیں ہوسکا. ایم کیوایم کے مختلف گروپس کے اتحاد کے بعد ایک
بار پھر شدت پسند مسلکی گروہ سے ہمدردی رکھنے والوں نے طاقت حاصل کرلی۔

ایم کیوایم پاکستان کی سیاست کو اس قدر دھچکا لگا ہے کہ اُسے ایک صوبائی نشت جس پر رؤف صدیقی کھڑے ہیں کامیابی حاصل کرنے
کیلئے ایک شدت پسند مسلکی گروہ سے اتحاد کرنا پڑا ہے. ایم کیوایم پاکستان کی قیادت کیلئے یہ لمحہ فکریہ ہے. اس شدت پسند گروہ سے اتحاد
کا نتیجہ سے نکلا ہے کہ متاثرہ مسلک کے لاکھوں ووٹرز تحریک انصاف کی حمایت کررہے ہیں۔

ایم کیوایم پاکستان کو سنہ 2018ء کے انتخابات میں کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں سے ایم کیوایم جتنی نشتوں پر  لگیں کامیاب
ہوئی تھی. کراچی اور شہری سندھ کی اب تک کی انتخابی صورت حال سے جائزہ لینے والے مبصرین اس امکان کا اظہار کررہے ہیں کہ
ایم کیوایم پاکستان فروری 2024ء کے انتخابات میں سندھ کے شہری علاقوں سے بہت کم نشتوں پر ہاتھ صاف کرسکے گی.
اُردو بولنے والے ووٹرز الطاف حسین کو اپنا رہنما مانتے ہیں اور الطاف حسین نے تحریک انصاف کے اُمیدواروں کو ووٹ دینے کی
اپیل کررکھی ہے. 8 فروری کو یہ صاف ہوجائے گا کہ ایم کیوایم پاکستان سندھ کی سیاست میں اپنا وجود  برقرار رکھ سکے گی یا نہیں؟