ایمبولینس کا بجتا ہوا ہوٹر

شیئر کریں:

تحریر: عمران اطہر

علمدار سننے اور بولنے میں جتنا خوبصورت لفظ ہے۔
اس سے کہیں ذیادہ یہاں پر بسنے والے کھرے اور سچے لوگ ہمیشہ اپنی محنت اور کام میں منگن رہتے ہیں۔
علمدار روڈ سےمیری وابستگی کا تعلق الفاظ اور جملوں کے بیانیے سے کہیں دور کا رشتہ ہےجو ایک احساس اور جذبات کا تعلق ہے۔
دوستی کا اپنائیت کا خوبصورت یادوں کا تعلق ہے ۔جن میں رہتے ہوئے کہیں اور جانے کا بے وجہ دل نہیں چاہتا ۔
ہزارہ ایک محنتی قوم ہے ، جو ہمیشہ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔
لیکن اس قوم کے حوصلے اور ہمت کو ہمیں دونوں ہاتھوں سے سلام کرناچائیے ۔
ایک ایسی جنگ میں انہیں دھکیل دیا گیا جس سے ان کا دور دور تک نہ کوئی واستہ یا تعلق ہے۔
انکے استحکام ثابت قدم اور صبر کی کہیں بھی نذیر نہیں ملتی۔
حال ہی میں مچھ کے علاقے میں مزدوروں کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر
سوائے سیکیورٹی کے اداروں کے پوری انسانیت شرم سار ہے۔

ہزارہ برادری کا 3 دن سے سٹرکوں پر لاشیں رکھ احتجاج ، ریاست مدینہ کے دعویدار غائب

کیا یہ پہلا واقعہ ہےیا پھر یوں کہیں کیا یہ آخری واقعہ ہے ہرگز نہیں ظلم جبر
بربریت کے واقعوں کا یہ لامتناہی سلسلہ کب اپنے انجام پر پہنچے گا
ہم میں سے شاید کوئی نہیں جانتا ۔لیکن ذہن میں ایک سوال ضرور اٹھتاہے کیا
ہم تمام انسان اس طرح بے وجہ موت مارے جائے اور کوئی آواز بھی بلند نہ کرے
جو مر جائے خاموشی سے اس کا جنازہ قندھوں پر رکھ کر اسے اس کی آخری آرام گاہ کے
حوالے کرنے کے بعد اپنی آنے والی باری کا انتظار کریں یا پھر انسان ہونے کا حق ادا کریں ،
چیخے چلائے ، آواز اٹھائے حق کے علم اٹھائےغلط کو غلط کہے سچ کو سچ کہیں اور حق کی راہ کوہی صراط مستقیم گرادنے۔

بلوچستان میں ہزارہ برادری کے محنت کشوں کا قتل کیوں؟

جب تک انسانوں میں بے وجہ غلط تفریق کا سلسلہ جاری رہے گا تب تک بے وجہ اور
ناحق خون بہے گا خون بھی مزدور کا جن کے لیے قرآن کہتا ہے مفہوم میں ہے
کہ ہاتھ سے روزی کمانے والا اللہ کا دوست ہے، جنہیں اللہ نے اپنا دوست بنایا
انہیں کوئی دشمن سمجھ کر اس بے دردی سے مار دے گا اور کوئی داد نہ فریاد ہوگی ۔
یہ کیسا ملک ہے یہ کیسا شہر ہے یہ کیسا معاشرہ جہاں انسانیت شرمسارہے۔
میراکوئٹہ شہر سے تعلق محبت کا ہے جہاں پر رہنے والی تمام اقوام سے محبت کا رشتہ ہے
اپنائیت کا رشتہ احترام کا رشتہ ہے اس احترام کے رشتے میں کسی کو بے وجہ بے گناہ مرتا نہیں دیکھ سکتا۔
آخر ہم کب کھڑے ہونگے آخر ہم کب یکجا ہونگے ۔ابھی بھی وقت ہے ہمیں اپنی راہ اور سمت کا تعین کرلینا چائیے
ورنا شاید آنے والے دنوں میں ہمارے پاس سوائے خاک منہ پر ملنے کےسوا کچھ نہ بچے ۔

ہزارہ برادری کا لاشیں ہائی وے پر رکھ کر احتجاج زمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

دھماکوں اور فائرنگ میں شہید ہونے والوں کا دکھ کیا ہوتاہے یہ بھلا ہم سے بہتر کون سمجھ سکتاہے
سالہ سال ان واقعات کو رپورٹ کرتے آئےاور روتے بلکتے سسکتے اس قوم کی مائوں بچوں کو دیکھاہے
مجھے علمدار روڈ پر پرل انسٹی ٹیوٹ کے قریب ہونے والا دھماکا آج بھی یاد ہے جس پر اپنی ٹیم کو جلدی
واقعے کی جگہ پر پہنچنے سے روکااور خوش قسمتی سے ہماری ٹیم صرف دو منٹ لیٹ رہی ورنا
دوسرے ہونے والے دھماکے میں ہمارے ٹیم کے لو گ بھی شہیدوں کی لسٹ میں شمار کئے جاتے ۔
وہ قیامت والی رات مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے جس دوست کا بھی پتا کرتے تھے پتا چلتا شہید ہوگیا ۔

بلوچستان میں بڑی دہشت گردی 11 افراد شہید، شناخت کرکے قتل کیا گیا

نیوز کے شعبے میں پاکستان ٹیلی وژن کارپوریشن کے ایڈیٹر مرتضیٰ بیگ سے نیوز
کو کیسے کور کرنا ہے کیسے لکھنا ہے کیسے رہنا دھماکے یا حادثے کے وقت اپنے آپ پر
کنٹرول اور اپنے حواس کس طرح برقرار رکھناہے یہ سب کچھ مجھے سیکھانے والا شخص مرتضیٰ بیگ تھا
جس کی طبعیت بچوں کی طرح تھی سامنے خوب لڑنا لیکن دل کا بلکل اجلا انسان ۔
ان سے تھوڑی دیر لڑنے کے بعد چلے جائو پھر واپس آکر کہہ دو سر میرے ساتھ تو یہ مسئلہ ہوگیا ہے
تو وہ پرانی اپنی تمام چیزیں بھول کر اس شخص کی مدد کرنے میں لگ جاتےتھے ۔
جب کسی دوست نے کہاکہ مرتضیٰ بیگ کا پتاکرو ان کانمبر بھی آف مل رہاہے اور کوئی رابطہ نہیں ہوپارہاہے
جب ہم نےاپنی نیوز ٹیم سے یہ خبر کنفرم کی تو پتا چلا وہ بھی اس دھماکے میں شہید ہوگئے ہیں
افسوس کی اس سب سے بڑی بات یہ بھی تھی کہ جس شخص نے مجھے نیوز کے ٹکر لکھنا سیکھائے تھے
اس کے شہید ہونے کا ٹکر بھی مجھے ٹائپ کرنا پڑا دکھ درد اور کرب یہ وہ عالم تھا جو آج بھی میری یادوں کا تازہ حصہ بنے ہوئے ہے۔

سوگوار ہزارہ برادری کا دھرنا جاری

مجھے یاد ہے ان دنوں آئے روز مختلف بین الاقوامی ادارے ہزارہ برادری کی
ویکٹم فیملیز یا پھر متاثرہ خاندان پر مختلف پیکجز تیار کررہے تھے میرے کسی دوست کو یہ پراجیکٹ ملاتھا
لیکن وہ اپنی مصروفیات کی وجہ سے اسے کور نہیں کرپارہاتھا تو اس نے مجھے درخواست کی تھی کہ
آپ کردیں جب میں نے وہ پراجیکٹ شروع کیا اور اس متاثرہ فیملی کے گھر پہنچے اورایک چھوٹا سامعصوم بچہ
اپنی گود مین اپنے والد کی تصویر لیے بیٹھا ہے اور باربار وہ اپنے بابا کی تصویر کے اوپر ہاتھ پھرتاہے
میں نے کیمرہ مین سلمان فیصل کو کہاکہ یار اس کے اچھے شاٹ بنا دو بعد میں جب میں نے غور کیا تو
ایک ہفتہ قبل جناح روڈ پر اسے کے والد کو نا معلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کیاتھا اور
جب غور کیا تو وہی شخص تھاکیونکہ واقعے کے فورا بعد ہم وہاں سے گزررہے تھے

کابل میں ہزارہ برادی پر خودکش حملہ 65 افراد ہلاک200 زخمی

وہ بچہ جب والد کی تصویر پرہاتھ پھیرکرروتا تھا تو دل میں تکلیف کا جو طوفان برپا ہوتاتھا وہ میں اور میراد خدا جانتا ہے۔
دل دہلادینے والی دھماکوں کی گونج ،، ایمبولینس کا بجتا ہوا ہوٹر ،کوئٹہ شہر میں ایک دم خوف کی لہر دوڑآنا ،
شہریوں کے پریشان کن چہرے ، میڈیا کے نمائندوں کی جائے وقوعہ کی جانب دوڑیں یہ مناظر
اب بھی میرے آنکھوں کے سامنے تروتازہ ہے۔
سوچتاہوں وہاں تو زندگی اب بھی ویسے ہی سسک رہی ہےجیسے کچھ سال پہلے
ہم اسے چھوڑ آئے تھے آج بھی ہزارہ مائیں بہنیں سراپا احتجاج ہے
جس پر بحیثیت قوم ہم سب کو شرم آنی چائیے ان کے ساتھ ایسا کیوں ہورہاہے
اور ہم انہیں روکنےمیں اتنے سالوں میں آخر کیوں ناکام رہے ؟؟؟


شیئر کریں: