ایران کورونا کا مقابلہ مذہب سے کرے یا سائنس سے؟

شیئر کریں:

تحریر کاشان سید

کورونا وائرس نے جہاں دنیا بھر کے ممالک کو متاثر کیا وہیں ایک ملک “ایران ” بھی ہے،جہاں کئی سو افراد اس مہلک وائرس کی لپٹ میں آکر دنیاِ فانی سے کوچ کرچکے ہیں۔
ان میں کئی وزراء، مذہبی رہنما اور ارکان پارلیمان بھی شامل ہیں سیکڑوں مریض اب بھی آئسولیشن مراکز میں زیر علاج ہیں۔
کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے حساب سے ایران کا اس وقت تیسرا نمبر ہے۔
متاثرہ ملکوں میں سرفہرست چین کو پیچھے چھوڑ کر اٹلی پہلے نمبر پر آچکا ہے جہاں ہلاکتیں چار ہزار کا ہندسہ بھی پار کر چکی ہیں۔
تیسرے نمبر اسپین جہاں اموات نے ابھی گیارہ سو کا ہندسہ عبور نہیں کر سکیں۔
ایران پہلے ہی کئی جنگیں ایک ساتھ لڑ رہا ہے رہی سہی کسر وائرس نے پوری کردی۔
کہتے ہیں ایران میں کورونا وائرس کی آمد ایرانی طلبہ کو چین سے وطن واپسی پر ہوئی۔
ایرانی طلبہ کی تعداد تقریبا پانچ ہزار کے قریب بتائی گئی،شبہ یہ ظاہر کیا گیا کہ وائرس انہیں طلبہ میں سے پھیلا۔

کورونا وائرس ،مذہب،سائنس اور ایران

مذہب کو لے کر ایرانی بڑے حساس ہیں اور اس تناظر میں وائرس کو لے کر بھی اسلامی جمہوریہ ایران میں نئی بحث جاری ہے۔
ایران میں آج کل وائرس کا مقابلہ سائنسی تقاضوں کے مطابق کیا جائے یا پھر اس کے لیئے مذہب اور آل رسول ص کے احکامات سے حل تلاش کیا جائے؟
یہ بحث کافی عام ہے ایرانی نوجوان کشمکش کا شکار ہیں مگر سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کے فیصلے کے آگے خاموش دیکھائی دے رہے ہیں یا احترام یا پھر بولنے کی جرات نہیں کرپارہے۔
شیعہ مسلم اکثریتی آبادی والے ایران میں ریاستی ڈھانچے کی طرف سے عوامی اور سیاسی زندگی میں مذہب کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔
اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ اسلامی انقلاب ایران کے بعد سے سپریم کمانڈر اور اعلیٰ ترین مذہبی رہنما کا مقام ملکی پارلیمان اور ریاستی صدر سے بھی اونچا تصور کیاجاتا ہے۔
آج کل ایران کے قسمت کے فیصلے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے ہاتھوں میں ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ ایرانی قوم خامنہ ای کو خوف یا محبت میں “رہبر” مانتی ہے۔

ایران میں قم سے کورونا کی ابتداء

اس جان لیوا وائرس پر قم شہر سے تعلق رکھنے والے مذہبی علوم کے ماہر حجت الاسلام محسن الویری کہتے ہیں اس معاملے پر ایرانی مذہبی قیادت مختلف رائے کی وجہ سے تقسیم ہے۔
حجت الاسلام الویری کے بقول یہاں پر کچھ لوگ طب اور سائنس سے بھی زیادہ مذہب کے احکامات اور رسومات کو ترجیح دیتے ہیں۔
مگر کچھ افراد کا ایسا ماننا ہے کہ اگر کسی شخص کی جان بچانی ہو تو نماز بھی چھوڑی جاسکتی ہے۔
اس کے برعکس ایرانی سرکار اس اقدام کو یکسر مسترد کرتی ہے۔
شیعہ مسلمانوں کے لیئے مقدس سمجھے جانے والے ایران کے شہر قم میں جو ملک میں کورونا وائرس کی وباء کا مرکز بھی ہے۔
یہاں پر فاطمہ معصومہ قم کا روضہ بھی ہے روضہ کے انتظامی امور کے سربراہ آیت اللہ محمد سعیدی نے وائرس کے ابتدا میں بی بی معصومہ قم کا روضہ بند کرنے کی مخالفت کی تھی اور یہ کہا تھا کہ عام لوگوں کو بلا روک ٹوک آمد و رفت کی آئندہ بھی اجازت ہونا چاہیے۔
جسمانی اور روحانی بیماریوں کا علاج کا حل یہ روضہ ہی ہےمگرگزشتہ ہفتے قم شہر میں عوامی سلامتی کے نگران اعلیٰ ترین ادارے کے سربراہ نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ وہاں جمعہ کی باجماعت نمازیں اس لیے منسوخ کر دینی چاہیں کہ یہ وائرس ممکنہ طور پر کسی ایک نمازی سے دوسرے کو نہ لگ سکتا ہے۔
اس اعلان کے چند ہی گھنٹے بعد فاطمہ معصومہ کے روضہ کی انتظامیہ کی ویب سائٹ پر یہ اعلان کر دیا گیا اور روضہ پر ہونے والی تمام سرگرمیاں معطل کردی گئی تھیں۔

کورونا وائرس پر خامنہ ای کا فتوی

گزشتہ ہفتے اس بحث میں ایران کے موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شامل ہوگئے۔
انہوں نے اپنے ایک بیان میں بین السطور اس وائرس پر قابو پانے کی کوششوں میں مذہب کے ساتھ ساتھ طبی سائنس کی بھی حمایت کی۔
خامنہ ای نے ایرانی ڈاکٹروں اور نرسوں کی کوششوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ ان کی محنت سے ایران میں کورونا وائرس کا جلد ہی خاتمہ ہوجائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔
آیت اللہ خامنہ ای کے بیان کے مطابق قم شہر سے آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی نے بھی فتوی جاری کیا اور عوام کو کرونا سے بچائو کے لیئے ملکی وزارت صحت کی سفارشات کو مدنظر رکھنے کی ہدایت کی۔

ایرانیوں کی سوچ میں تصادم

اس موقف کے بالکل برعکس حال ہی میں مشہد سے ایک ایسی ویڈیو بھی وائرل ہوئی، جس میں ایک ذیلی مذہبی گروپ کے رکن کو حضرت امام رضا ع کے روضہ پر دیکھا جاسکتا ہے۔
جعفر غفوری نامی یہ سرگرم سماجی شخصیت اس ویڈیو میں امام رضا کے روضے کی جالیوں کو اپنی زبان سے چاٹتے ہوئے دیکھا گیا اور ساتھ ہی جعفر غفوری نے اپنی ویڈیو میں کپشن دیا کہ ”یہ دیکھو، میں یہ وائرس کھا رہا ہوں، تاکہ آپ کو یقین آ جائے اور آپ بھی آئندہ اس روضہ پر باقاعدگی سے آتے رہیں۔

کورونا سے ایران میں ہلاکتیں

کووِڈ انیس نامی اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیےایران مذہب پر زیادہ انحصار کرے یا سائنسی اصولوں کو اپنائے اس معاملے پر ملک میں جاری بحث جلد ختم ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔
لیکن یہ وائرس اب تک دنیا کے 185 ممالک میں پھیل چکا ہے۔
اس وائرس کی وجہ سے 11 ہزار سے زائد افراد موت کے منہ میں جاچکے ہیں.
وائرس دنیا بھر میں پونے تین لاکھ افراد کو متاثر کر چکا ہے۔
ایران میں 1 ہزار 433 افراد وائرس منتقلی کے باعث زندگی کی بازی ہار چکے ہیں 19 ہزار کے قریب افراد زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔

ایران پر عائد پابندیاں اور کورونا وائرس سے جنگ

یو این او ہو یا پھر امریکا یا پھر کوئی اور طاقتور ملک سب ایک دوسرے کی مشکل گھڑی میں مدد کے لیئے ساتھ کھڑے ہیں۔
مگر ایرانی وہ قوم ہے جس کی امداد کرنے والا کوئی نہیں جس کی سب سے بڑی وجہ امریکہ کی ایران پر سخت پابندیاں ہیں۔
ایران نے اب تک کورونا وائرس سے اصل معنوں میں اکیلے ہی جنگ لڑی ہے اور لڑ رہا ہے۔
اس کے اتحادی ممالک اگر مدد بھی کرنا چاہیں تو نہیں کرسکتے۔
البتہ پاکستان کی جانب سے ایران سے پابندی ہٹانے کی آوازیں آنا شروع ہوگئی ہیں۔
دنیا کے بڑے ممالک جب اس پریشانی کی گھڑی میں دیگر کمزور ممالک کی مدد کررہے ہیں ایسے میں ایران کی مدد کرنے کا اعلان کسی ملک کی جانب سے دیکھنے اور سننے میں نہیں آیا۔
مگر ایرانی مظلوم قوم ماضی کی طرح دوبارہ کھڑی ہونا اچھی طرح جانتی ہے۔

ایرانی ڈاکٹرز اور عالمی دنیا

غیر ملکی طبی ماہرین کہتے ہیں ایرانی ڈاکٹرز خراج تحسین کے مستحق ہیں مگر اس وائرس سےنمٹنے کے لیئے ایران کے پاس سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
موجود صورت حال میں ایران کسی بڑے خطرے میں بھی پھنس سکتا ہے۔
اگرایران کو اگلے کچھ ہفتوں میں امداد یا مطلوبہ سامان نہیں ملا تو نقصان کا اندازہ لگانا دنیا بھر کے لیئے مشکل ہوجائے گا۔
مگر ایرانی سپریم لیڈرآیتِ اللہ سید علی خامنہ ای کہتے ہیں کہ ایران سمیت دنیا بھر کے شیعہ مسلمانوں کو “حضرت امام حسین (ع) کے فرزند حضرت امام زین العابدین (ع) سے منصب دعائوں پر مشتمل کتاب صحیفہ سجادیہ سے بیماریوں سے متعلق دی گئی دعائوں کو مسلسل پڑھنے کی تلقین کررہے ہیں اور سپر پاور سمجھنے والے ممالک کے بجائے “اللہ” سے مدد کی امیدیں باندھ لی ہیں۔


شیئر کریں: