ایران پر حملہ دھمکی سے زیادہ کچھ نہیں، اسرائیل اور امریکا خود بھی پریشان

شیئر کریں:

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملہ دھمکیوں سے زیادہ کچھ اور نہیں۔
امریکی تھینک ٹینکس کا کہنا ہے ٹرمپ انتظامیہ حملے کی دھمکیاں دے کر صرف
ایران پر دباو بڑھا رہی ہے۔
امریکی دفاعی ماہرین کہتے ہیں امریکا ایران سے جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا اسی لیے
امریکا کو ہرصورت جنگ سے گریز کرنا ہوگا۔

ایران سے جنگ نہ کرنے کی وجوہات؟

امریکا کی ایران سے جنگ نہ کرنے کی دو بڑی وجوہات ہیں۔
پہلی بڑی وجہ یہ ہے کہ ایران افغانستان، ویتنام یا اعراق کی طرح کمزور ملک نہیں، ایران کا دفاعی نظام انتہائی مضبوط اور موثر ہے۔
ایران نے گزشتہ ایک دہائی میں اپنے دفاعی نظام بالخصوص میزائل سسٹم پر بہت کام کیا ہے ایران کا میزائل سسٹم انتہائی جدید اور موثر ہے۔
ایران خطے میں امریکی تنصیبات کو تباہ کرسکتا ہے اگر امریکا ایران سے جنگ کرنے کا ایڈونچر کرتا ہے کہ تو ایران شدید ردعمل دے سکتا ہے۔
امریکی دفاعی حلقے جانتے ہیں کہ ایران کا ردعمل نہ صرف امریکی تنصیبات بلکہ امریکی اتحادیوں کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوگا۔
ایران اپنے جدید میزائل سسٹم سے مشرق وسطی میں امریکی تنصیبات، فوجی اڈوں اور اسرائیل کو باآسانی نشانہ بنائے گا۔
جنگ کی صورت میں اگر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک امریکا کا ساتھ دیتے ہیں یا امریکی معاونت کرتے ہیں تو وہ بھی ایران کے براہ راست غضب کا شکار بنیں گے۔

مشرق وسطی میں ایران کی پراکسی

مشرق وسطی میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر اور اس کی پراکسی جنگ کا کوئی ثانی نہیں۔
امریکا اور اتحادی جانتے ہیں ایران کی افواج لیبیا، شام اور عراق سمیت دیگر عرب ممالک میں موجود ہیں۔
ایران کو مشرق وسطی میں ہرجگہ نشانہ نہیں بنایا جاسکتا ہے اگر ایران پر امریکا یا اتحادیوں کی طرف سے حملہ ہوتا ہے تو مشرق وسطی کے تمام ممالک میں موجود ایرانی پراکسی سینٹر امریکی اتحادیوں کے لیے تابوت ثابت ہوں گے۔

دوسری طرف امریکا اپنے سپر پاور کے اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کے لیے بھی ایران سے محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
اگر امریکا ایران سے محاذ کھول لیتا ہے تو اس کی پہلے سے تباہ حال معیشت مزید تباہ ہوجائے گی۔صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چین روس کے ساتھ مل کر عالمی سیاست میں امریکی کردار کا خاتمہ کردیں گے۔

سپر پاور کیسے بنتے ہیں؟

 

امریکا جانتا ہے کوئی بھی ملک فوجی طاقت کی بنا پر سپر پاور نہیں بنتا۔ روس کے پاس اس وقت بھی امریکا سے زیادہ ایٹمی تنصیبات ہیں مگر امریکا اپنی معیشت کی بنا پر سپر پاور ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد جب دنیا کے تمام بڑے ممالک معاشی طور پر تباہ ہوگئے تھے اس وقت امریکا کی صنعتیں اور معیشت دوڑ رہی تھیں۔
امریکا کے صرف ایک حصے پرل ہاربر پر حملہ ہوا تھا مگر باقی ملک مکمل طور محفوظ تھا اور معاشی سرگرمیاں جاری تھیں۔
یہی وجہ ہے دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکا دنیا میں سپر پاور کے طور پر ابھرا اور اس کا سپر پاور کا اسٹیٹس آج تک برقرار ہے۔
امریکا اقوام متحدہ کے تمام اداروں میں سب سے زیادہ فنڈنگ کرنے والا ملک ہے اسی وجہ سے دنیا میں اثر و رسوخ رکھتا ہے۔

ایران پر حملے کا امریکا کو نقصان کیا ہوگا؟

امریکا ایران پر حملہ کرتا ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ چین اور روس امریکی چودراہٹ کا خاتمہ کردیں گے اور نئی عالمی طاقت کے طور پر سامنے آجائیں گے۔

امریکا ایران پر حملہ کر کے دنیا میں سیاسی طور پر تنہائی کا شکار بھی ہوجائے گا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ کورونا کی اس عالمی وبا کے دور میں امریکا ایران پر حملہ کرتا ہے تو یہ اس کی اخلاقی اور سیاسی پستی ہوگی۔
اس بات کا قومی امکان ہے کہ چین، روس، پاکستان، ترکی، انڈونیشیا سمیت کئی اہم ممالک امریکی حملے کی مخالفت کردیں گے۔

تمام محرکات کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکی دفاعی حلقے ایران پر حملے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔

امریکا اسرائیل حملے کی تیاری کر چکا

ایران پر امریکی حملے کا منصوبہ حتمی مراحل میں داخل ہوگیا اورجنگ کی تیاری مکمل کرلی۔
ذرائع کا کہنا ہے امریکا کسی بھی لمحے ایران پر حملہ کرسکتا ہے امریکی دفاعی ادارے ٹرمپ کے دور صدارت کے آخری آیام میں ایران پر حملے کا منصوبہ مکمل کرسکتے ہیں۔
جوہری ہتھیاروں کو بنانے کا الزام عائد کر کے ایران پر حملہ کیا جاسکتا ہے۔
اسرائیل نے بھی اپنی تیاری مکمل کرلی ہے اسرائیل جنگ میں امریکا کو مکمل تعاون فراہم کرے گا۔
اسرائیل کے جریدے دی ٹائمز آف اسرائیل نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیل کی ڈیفنس فورس ایران پر حملے کی تیاری مکمل کرچکی ہے۔

اسرائیل کو ایران پر حملے کی پیشگی اطلاعات فراہم کی جاچکی ہیں اور امریکا نے اسرائیل سے خطے میں ایران سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کا الرٹ جاری کردیا ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حملے کے بعد ایران ردعمل میں لبنان اور شام سے اسرائیل پر حملہ کر سکتا ہے جس کی پیشگی تیاری مکمل کرلی گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران ایٹمی معاہدے کے بعد اجازت سے بارہ گنا زیادہ یورینیم استعمال کر رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔
امریکا گزشتہ ہفتے بھاری بمباری کے لائچ پیڈ کی مشرق وسطہ میں تنصیب کر چکا ہے۔
ماہرین کے نزدیک صورت حال نازک ضرور ہے لیکن امریکا اور اسرائیل اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایران پر حملہ کرنا بچوں کا کھیل نہیں۔
اس جنگ میں ان دونوں ملکوں کا نقصان ہو یا نہ ہو لیکن ان کے مالدار اتحادی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ضرور تباہ ہو جائیں گے۔


شیئر کریں: