ہارس ٹریڈنگ روکی نہیں جاسکتی تو اسے آئین کا حصہ بنا دیاجائے

شیئر کریں:

از عباد الحق

سینیٹ کے انتخابات میں رائے شماری کے ذریعے نئے سینیٹرز کے چناو نے ایک نئی قانونی بحث کو چھیڑ دی ہے. رائے شماری کے حق اور مخالفت میں دلائل جاری ہیں لیکن قانونی بحث سے الگ اس ایک اخلاقی سوال بھی پیدا ہوا ہے.

ملک کی سیاسی اور پارلیمانی جماعتوں نے کبھی اس نکتے کو سنجیدگی سے نہیں لیا کہ سینیٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کو کس طرح روکا. جب بھی سینیٹ کے انتخابات ہوئے تو اس سے پہلے اور بعد میں ایک دوسرے پر تنقید کی اور پھر کہانی آئندہ انتخابات تک ختم ہوگئی.

جس طرح سرطان کیلئے علاج کیلیے کوشش کی جاتی ہے بالکل اس طرح ہارس ٹریڈنگ کا نا سور بھی ایک سرطان ہے اور اس کا علاج بھی ضروری ہے.

قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین اور اقلیتوں کی نشستوں پر فیصلہ متناسب نمائندگی کے قاعدے پر ہوتا ہے اور کبھی یہ اعتراض اور الزام سامنے نہیں آیا کہ کسی کا حق مارا گیا.

ماضی میں دیکھا جائے تو ذوالفقار علی بھٹو کے منظور نظر اور وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے بھی سینیٹ کے انتخابات متناسب نمائندگی کے اصول پر کرانے کی تجویز دی اور اپنے دور کے نامور ماہر قانون کی رائے پر بات ہوسکتی.

آئین میں جہاں آزادی اظہار رائے کی ضمانت بھی دی گئی وہیں اس بات کا یقین دلایا گیا کہ کسی حق تلافی نہیں ہونی. افسوس آئین کی حکمرانی کی بات کرنے والوں نے حق تلافی کی بات نہیں. کسی کو اگر اس کا حق نہیں ملتا تو تو یہ ناانصافی کیساتھ ساتھ توہین آئین بھی ہے.

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ چناو جمہوریت پر یقین کا ایک بہترین طریقہ ہے لیکن ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے نہیں ہے.

کیا ہارس ٹریڈنگ کے الزامات سے ارکان پارلیمان کو پاک نہیں ہونا چاہیے اور کیا اس کیلئے کوئی حل تلاش نہیں کیا جاسکتا. یہ سیاسی جماعتوں اور پارلیمان میں موجود ارکان کی بنیادی ذمہ داری ہے اگر نہیں کیا جاسکتا تو ہارس ٹریڈنگ کی روایات تو پڑ چکی ہے اسے بھی آئین کا حصہ بنا دیا جائے کیونکہ قانون آئین کو مرتب کرتے وقت روایات بھی بڑا عمل دخل ہوتا ہے


شیئر کریں: