اپوزیشن رہنماؤں کے لیے 60 نئی عدالتیں تیار

شیئر کریں:

رپورٹ علیم عثمان

اپوزیشن اتحاد “پی ڈی ایم” اور ملک کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت جمعیت العلمائے اسلام
(فضل الرحمن گروپ) کے قائد مولانا فضل الرحمن کی جان خطرے میں ہے جس پر ان کے لئے خصوصی
حفاظتی اقدامات کر لئے گئے ہیں۔
دوسری طرف پاکستان میں 4 اہم غیر ممالک کے سفارت کاروں کی نقل و حرکت کی کڑی نگرانی کی
جا رہی ہے۔
“پی ڈی ایم” کی احتجاجی تحریک کے زور پکڑنے کی صورت میں اپوزیشن الائنس کے رہنماؤں کے خلاف
سیاسی بنیادوں پر کریک ڈاؤن کی بجائے انہیں 60 نئی احتساب عدالتوں کے ذریعے “اندر” کرنے کا
فیصلہ کیا گیا ہے۔

مولانا فضل الرحمن پر حملہ کون کروائے گا؟

ذرائع کے مطابق ملک کی اہم خفیہ ایجنسیوں کو اعلیٰ سطح پر اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ پاکستان میں
حال ہی میں تشکیل پانے والے اپوزیشن جماعتوں کے سیاسی الائنس “پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ”
(پی ڈی ایم) اور جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن پر کسی بھی وقت قاتلانہ حملہ ہوسکتا ہے۔

کیونکہ ان کی زیر قیادت پاکستان میں شروع ہونے جارہی اپوزیشن کی احتجاجی تحریک میں “جان ڈالنے”
کی غرض سے اسے ایک پرتشدد تحریک میں تبدیل کرنے کے لئے عالمی طاقتیں اور غیر ملکی خفیہ ایجنسیاں
ان پر قاتلانہ حملہ کروا سکتی ہیں تاکہ وہ پاکستان میں اپوزیشن کی احتجاجی تحریک کے ذریعے اپنے
اہداف حاصل کر سکیں۔
ان انٹیلی جنس رپورٹس پر ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے مولانا فضل الرحمن کو فوری طور پر آگاہ
کرتے ہوئے الرٹ کر دیا ہے۔
ان کی جان کی حفاظت کے لئے سپیشل سیکورٹی انتظامات کرلئے گئے ہیں۔
عوامی اجتماعات میں شرکت پر ان کے گرد خصوصی طور پر سیکیورٹی حصار بنایا جائے گا۔

انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق مولانا فضل الرحمن چونکہ نہ صرف 11 رکنی اپوزیشن اتحاد کے سربراہ
منتخب ہوئے ہیں بلکہ ملک کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی قوت کے بھی قائد ہیں اس لئے ان کی زیر
قیادت شروع ہونے جارہی احتجاجی تحریک کو نتیجہ خیز بنانے کی غرض سے اسے بآسانی ایک پرتشدد
تحریک میں بدل دینے کے لئے ایک مذہبی سیاسی شخصیت کو ٹارگٹ کیا جاسکتا ہے۔

اپوزیشن کے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے؟

دریں اثناء حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اپوزیشن کو احتجاجی ریلیاں نکالنے اور جلسے کرنے دیئے جائیں اور
اس سلسلے میں نہ کوئی رکاوٹ ڈالی جائے گی اور نہ اپوزیشن رہنماؤں و کارکنوں کی گرفتاریوں کے لئے کوئی
کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔ بلکہ اپوزیشن کی ابتدائی ریلیوں اور عوامی جلسوں کی پذیرائی کی روشنی میں
جوابی حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔

پی ڈی ایم کی سیاسی سرگرمیوں ، بالخصوص اس کی احتجاجی ریلیوں اور جلسوں نے اگر momentum پکڑا
مطلب اگر اپوزیشن کی احتجاجی تحریک میں دم خم بڑھتا دکھائی دیا تو مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی اور
اے این پی سمیت “پی ڈی ایم” میں شامل تمام 11 جماعتوں کے رہنماؤں کے خلاف کرپشن کے سنگین الزامات
کے تحت مقدمات قائم کرتے ہوئے انہیں NAB کے ذریعے گرفتار کرکے تیزی سے سزائیں دلوائی جائیں گی۔

چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے ایک بنچ نے گزشتہ دنوں حکومت کو ملک
میں فی الفور 120 نئی احتساب عدالتیں بنانے کا جو حکم دیا تھا اس کی تعمیل میں سے پچاس فیصد کام مکمل
کرتے ہوئے 60 نئی احتساب عدالتیں قائم کر دی گئی ہیں۔

امکان ہے رواں ماہ ہی یہ عدالتیں اپنا کام شروع کردیں گی جن میں سیاست دانوں کے خلاف مقدمات تیزی
سے نمٹائے جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی اور اے این پی سمیت “پی ڈی ایم” میں شامل تمام 11 اپوزیشن
پارٹیوں کے رہنماؤں کو کرپشن کیسوں میں ملوث کر کے گھیرا جائے گا جنہیں پہلے گرفتار اور پھر انہی عدالتوں
کے ذریعے سزائیں دلوائی جائیں گی۔

غیرملکی سفارت خانے کیوں دلچسپی لے رہے ہیں؟

دریں اثناء پاکستان میں متعین امریکا، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور قطر کے سفارت کاروں کی نگرانی
کڑی کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق ان 4 ممالک کی طرف سے اپوزیشن الائنس “پی ڈی ایم” کی احتجاجی تحریک میں مبینہ غیر
معمولی دلچسپی اور اس کی ممکنہ فنڈنگ بارے انٹیلی جنس رپورٹس کی روشنی میں ان کے سفارت کاروں کی
نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔


شیئر کریں: