اوباما نے بھارت کی انتہاپسندی اور پاکستان دشمنی سے پردہ اٹھا دیا

شیئر کریں:

امریکا کے سابق صدر باراک حسین اوباما نے بھارت کی مسلمان مخالف انتہا پسندی اور پاکستان
دشمنی پر پڑا پردہ اٹھا دیا ہے۔
باراک اوباما کی کتاب “اے پرومسڈ لینڈ” 17 نومبر 2020 کو شائع ہوئی ہے جس نے کئی اہم
راز افشاں کیے ہیں۔


صفحہ نمبر600اور601 میں سابق باراک اُباما نے نومبر2020میں بھارت کے دورے کے دوران سابق
بھارتی وزیراعظم من موہن سِنگھ سے ملاقات کا حوالہ اور اپنی ذاتی رائے دیتے ہوئے لِکھا ہے کہ
”بڑھتے ہوئے مسلم مخالف جذبات نے ہندو قوم پرست بی جے پی کے اثر کو مضبوط کیا ”(یاد رہے
کہ اس وقت حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت بے جے پی تھی)۔

سابق امریکی صدر اوباما ایبٹ آباد آپریشن کے بارے میں کیا کہتے ہیں

سابق بھارتی وزیراعظم کے اپنے بیان کے مطابق ”بھارت میں کسی غیر یقینی صورت حال میں مذہبی اور
نسلی یکجہتی کے غلط استعمال سے فائدہ اُٹھانا بھارتی سیاستدانوں کیلئے کوئی مشکل کام نہیں ہے ”۔

اُنھوں نے یہ بھی لکھا کہ جنونیت اور انتہا پسندی بھارتی معاشرے میں سرکاری اور نجی سطح پر بہت
گہرائی تک سرائیت کر چکی ہے اور پاکستان دُشمنی بھارت میں قومی یکجہتی اُجاگر کرنے کا بہترین
ذریعہ ہے۔

بہت سے بھارتی اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ بھارت نے پاکستانی جوہری طاقت کا مقابلہ کرنے کیلئے
ایٹمی ہتھیار تیار کیے۔
ان کو اس بات کا قطعاَ ادراک نہیں کہ کسی بھی طرف سے ذرا سی غلطی پورے خطے کی تباہی کا باعث
بن سکتی ہے۔

آج مجموعی طور پر بھارتی معاشرہ نسل اورقوم پرستی کے گرد مرکوز ہے۔ معاشی ترقی کے باوجود، بھارت
ایک منتشر اور بے حال ملک ہے، جو بُنیادی طور پر مذہب اور قوم میں بٹا ہوا ہے اور بد عنوان سیاسی
عہدے داروں، تنگ نظر سرکاری افسروں اور سیاسی شعبدہ بازوں کی گرفت میں ہے۔

انتہا پسندی، جنونیت، بھوک، بدعنوانی، قومیت، نسلیت اور مذہبی عدم رواداری اس حد تک مضبوط
ہو چکے ہیں کہ کوئی بھی جمہوری نظام اس کو مستقل طور پر جکڑ نہیں سکتا۔

یہ تمام مسائل اگر وقتی طور پر قابو میں بھی ہو جائیں تو معاشی ترقی کی روکاوٹ یا آبادیاتی تبدیلی یا
کسی طاقتور سیاسی رہنما کے ہوا دینے پر لوگ دوبارہ انتہا پسندی اور سر کشی کی نظر ہو جاتے ہیں۔

اُبامہ نے اپنی کتاب میں من موہن سنگھ کے وزیراعظم کے عہدہ تک پہنچنے کی تعریف بھی کی کیونکہ
بھارت میں سِکھ اقلیت کو اکثر نشانہ بنایا جا تا ہے۔


شیئر کریں: