انگلینڈ میں عبدالقادر اور ظہیر عباس کا ریکارڈ کون توڑے گا؟

شیئر کریں:

تحریر عمران عثمانی
پاکستانی کرکٹ ٹیم آج سے مانچسٹر میں انگلینڈ کے خلاف 3 میچوں کی سیریز کے
پہلے ٹیسٹ میں صف آرا ہورہی ہے۔
پریکٹس میچوں میں بائولنگ کامیاب رہی ہے تو بیٹنگ کے شعبے میں ٹیم ناکارہ دکھائی دی۔
حقیقت بھی یہی ہے کہ انگلینڈ کی سرزمین پر کھیلنے والی ماضی کی تمام ٹیموں کی
نسبت قومی ٹیم کمزور ہے۔
اظہر علی کی فارم اور فٹنس دونوں مشکوک ہیں اسد شفیق کا وکٹ پر رک جانا کمال ترین
کام ہو گا اور بابراعظم سے ہی زیادہ امیدیں ہوں گی۔
انگلینڈ پاکستان کے درمیان ماضی کے مقابلوں کا جائزہ لیا جائے تو اسپنرز کا کردار ہر دور میں اہم ترین رہا۔
پاکستانی کیمپ سے اچھے اسپنرز کے حملوں کی وجہ سے ہمیشہ انگلش کیمپ میں بجلی گری ہے۔
2016ء کی سیریز میں یاسر شاہ کی کارکردگی میں کچھ زیادہ تسلسل نہیں تھا مگر 2میچوں
میں تباہ کن اسپیل کا فتح میں مرکزی کرداررہا۔
2018میں وہ اسکواڈ کا حصہ نہیں تھے لیکن اس بار ضرور ہیں مگر اعتماد کے بغیر ہیں۔
یہ کمی نوجوان کھلاڑی شاداب خان کے ذریعہ دور کی جا رہی ہے یہ تجربہ کامیاب بھی ہو سکتا
ہے مگر سامنے کھیلنے والے زیادہ تجربہ کار ہیں۔
دونوں ملکوں کے درمیان 83 ٹیسٹ میں سے پاکستان نے 21 جیتے اور 25 ہارے ہیں۔
بائولنگ میں سابقہ ریکارڈ کا پوسٹ مارٹم کیا جائے تو واضح طور پر پاکستان کو اسپنر کے
شعبے کی وجہ سے برتری حاصل رہی۔

انگلینڈ میں عبدالقادر اور ظہیر عباس کا ریکارڈ کون توڑے گا؟

عبدالقادر16میچوں میں 82وکٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں انگلینڈ کے موجودہ بائولر جمی
اینڈرسن نے 63 وکٹیں15میچز میں حاصل کر رکھی ہیں۔
بہترین انفرادی بائولنگ کا اعزاز بھی عبدالقادر کے پاس 56/9کا ہے جو 1987ء میں
لاہور میں رقم ہوا۔
انگلینڈ کے این بوتھم نے لارڈز میں 1978ء میں 34رنز کے عوض 8وکٹوں کے ساتھ
بہترین بائولنگ کر رکھی ہے۔
پاکستان انگلینڈ کے درمیان یہ26ویں ٹیسٹ سیریز ہے 25سیریز میں سے پاکستان 8 میں فاتح رہا ہے۔
انگلینڈ کو معمولی برتری حاصل ہے اس نے 9سیریز جیتی ہیں8سیریز برابر رہیں۔
Zaheer Abbas and Abdul Qadir
گزشتہ25سیریز میں سے کسی بھی ایک سیریزمیں سب سے زیادہ وکٹیں لینے کا اعزاز پاکستان
کے شہرہ آفاق کھلاڑی عبدالقادر کو ہی حاصل ہے۔

انہوں نے 3میچوں کی سیریز میں 30وکٹیں حاصل کیں یہ کارنامہ 5میچوں تک کی سیریز
میں بھی کوئی سرانجام نہیں دے سکا۔
یہی نہیں کسی ایک سیریز میں سب سے زیادہ اسکور کرنے کا اعزاز بھی پاکستان کے نام ہے
2006ء کی سیریز میں محمد یوسف نے 4میچوں کی 7اننگز میں 90.14کی اوسط سے 631رنز بنائے۔

انگلینڈ کی جانب سے جوئےروٹ نے 2016ء میں 4میچوں میں 512رنز بنا کر یہ چوٹی سر کرنے
کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔
بہترین انفرادی اننگزمیں دونوں ٹیموں کے بلے بازوں میں معمولی ہی فرق رہا ہے۔
1954میں نا ٹنگھم میں ڈی ایس کمپٹن نے 278رنز کی بڑی اننگز کھیلی تو پاکستان کی جانب
سے بھی متعدد اننگز سامنے آئیں۔
1971ء میں برمنگھم کے مقام پر ظہیر عباس کی 274رنز کی اننگز اب بھی کسی بھی پاکستانی
کی انگلینڈ کے خلاف بہترین اننگز ہے۔
دونوں ملکوں کے سنچری کلب کا جائزہ لیا جائے تو محمد یوسف 6سنچریوں کے ساتھ سب سے اوپر ہیں۔
انہوں نے یہ کارنامہ 13میچوں میں 1499رنز بنانے کے درمیان سرانجام دیا۔
مجموعی اسکور میں ایلسٹر کک حال ہی میں بازی لے گئے ہیں انہوں نے20میچوں
میں1719رنز بنا رکھے ہیں۔
پاکستان کے انضمام الحق نے 19میچوں میں 1584رنز بنائے تھے۔ پاکستان اوول میں 708رنز
بنا کراب تک بڑے اسکور میں آگے ہے یہ کارنامہ 1987ء میں سرانجام دیا گیا۔

انگلینڈ کا بڑا اسکور ابوظہبی میں 598/9اور اپنی سرزمین مانچسٹرمیں 589/8ہے جو2016میں
اسکور کیا گیا کم اسکور میں دونوں ٹیمیں برابر ہیں۔

برمنگھم میں پاکستان اگست2010ء میں 72پر آئوٹ ہوا تو جنوری 2012ء میں ابوظہبی
میں انگلش ٹیم 72 پرپویلین لوٹی۔
انگلش سرزمین پر یہ دونوں ملکوں کی16ویں سیریز ہو گی۔
پاکستان نے 3جیتی، 7ہاری اور5ڈرا کھیلی ہیں مجموعی طور پر یہ 26ویں سیریز ہے۔
پاکستان کے پاس موقع ہے وہ سیریز جیت کر انگلینڈ کی 9سیریز کے برابر آجائے اور بھارت
سے بھی ایک قدم آگے بڑھ جائے۔

بھارت نے بھی تاریخ میں انگلش سرزمین پر 3سیریز جیت رکھی ہیں پاکستان ٹیم چوتھی
سیریز جیت کر بھارت کے لئے بڑا چیلنج چھوڑ جائے گی۔


شیئر کریں: