انسان کی سب سے بڑی طاقت کیا ہے؟

شیئر کریں:

تحریر اجمل شبیر
اس کائنات میں انسان جو چاہے کرسکتا ،انسان کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی ۔ فطرت نے
انسان کو ایسی صلاحتوں اور پاور سے نوازا ہے کہ اسے ہرانے کا کوئی طریقہ ہی نہیں،اس کے باوجود بھی انسان
شکست کھارہا ہے اور ہر وقت پریشان ہے؟

کیا آپ نے سوچا ایسا کیوں ہے؟
انسان کی تمام پریشانیوں اور مسائل کی وجہ خود انسان ہے۔ دو قسم کی فورسز ہیں جو انسان کی گروتھ میں
سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
ایک فورس ہے یہ سماج ،اس سماج کی آوازیں جو انسان کو آگے بڑھنے نہیں دیتیں۔ جب بھی کوئی نوجوان بڑا
سوچتا ہے اور سوچ پر عمل کی تیاری کرتا ہے تو باقی کیا کہتے ہیں؟
بیٹا یہ نہ کر ناکام ہو جائے گا۔ بیٹا اس نے بھی ایسی بہادری دیکھائی تھی۔ دیکھو اس کے سات کیا ہوا۔ والدین
سماج اور رشتہ دار سب مل کر شور کرتے ہیں کہ ایسا نہ کرو بہت پچھتاو گے۔ دنیا کا یہ شور شرابہ دنیا کی
یہ آوازیں انسان کی سب سے بڑی دشمن ہیں اور یہی آوازیں انسان کو خوف زدہ کرتی ہیں۔
اسے بزدل بناتی ہیں اور اس طرح وہ کچھ بھی کرنے سے ڈر جاتا ہے ۔
دوسری فورس جو انسان کو کچھ کرنے سے روکتی ہے وہ انسان خود ہے وہ خود سے یہی سوچتا رہتا ہے کہ یہ کام
کر تو لوں ،ناکام ہو گیا تو دنیا جینے نہیں دے گی میرا بڑا مزاق اڑے گا۔

یہ سماج جہاں ہم رہتے ہیں ،یہاں ہر گھر میں جب بھی کوئی نوجوان کچھ کرنے کے بارے میں سوچتا ہے تو
بہت سارے لوگ اس کے ارد گرد جمع ہوجاتے ہیں اور کیا کہتے ہیں ،نہیں بیٹا، یہ نہ کرنا ۔یہ بے وقوفی ہوگی
تمہارا فیوچر برباد ہوجائے گا۔

ہم سب کے ساتھ ایسا ہوتا ہے جب بھی ہم کچھ کرنے کے بارے میں سوچتے ہیں تو سب سے پہلے ہمارے
ساتھ یہی ہوتا کیا کریں؟
وہ تو بولیں گے ؟ وہ روکیں گے؟ ان کی ٹریننگ ہی یہی ہے روکنا ؟ اب سوال یہ کیا ایسے لوگوں سے کیسے بچا
جائے ، بچ بھی نہیں سکتے؟

کیونکہ جو روک رہے ہیں وہ کون ہیں والدین ، رشتہ دار اور پڑوسی یا دوست؟

ان سے تو ہمیشہ انسان کا واسطہ پڑا ہے اس کا ایک ہی علاج ہے جب بھی لوگ آپ کو کچھ کرنے سے روکیں
آپ خاموش رہیں؟
اس کے باوجود بھی وہ بولتے رہیں اور آپ کا جواب دینا ضروری ہوجائے تو ان سے سوال کریں کہ آپ مجھے روک
رہے کہ یہ کام نہ کروں؟ کیوں نہ کروں؟ جب بھی آپ یہ سوال ان سے کریں گے ،ان کی بولتی بند ہوجائے گی
کیونکہ اس کیوں کا جواب ان کے پاس نہیں ہے؟
اس کیوں کا جواب بھی اگر کوئی دیتا ہے تو وہ کیا ہوتا ہے؟ دیکھو میاں فلاں کے بیٹے نے بھی یہی کچھ کیا تھا
جس کے بارے میں توں سوچ رہا ہے۔ تمہیں معلوم ہے اس کے ساتھ کیا ہوا ہے؟
بیچارے کا بزنس تباہ ہوگیا ہے اور اب وہ گلی محلوں میں چھوٹی موٹی نوکریاں کررہا ہے اور زلیل ہورہا ہے؟
اس کا جواب بھی کیوں ہے؟ اسے کہیں وہ ناکام ہوگیا یہ ٹھیک ہے لیکن یہ ضروری تو نہیں کہ میں بھی ناکام
ہوجاوں ؟ میں کیوں ناکام ہوں گا ؟
اب اس کیوں کا کوئی جواب نہیں ہے اس کا صرف اب ایک ہی جواب ہے کہ جاو بیٹا کر لو جب دھکے کھاو
گے تو تمہیں میری بات ضرور یاد آئے گی ۔

یاد رکھیں جو بھی آپ کو کچھ کرنے سے روک رہے ہیں کہ یہ نہ کر ،توں یہ نہیں کرسکتا۔ اس کی بات کو
سنجیدہ مت لیں اور نہ ہی اس کی بات پر غور کریں کیونکہ وہ ایک ناکام انسان ہے وہ خود ناکام ہوچکا ہے
اس لئے وہ تمہیں بھی کہہ رہا ہے یہ نہ کرو ،وہ ناکام ہو گیا ہے ضروری تو نہیں کہ آپ بھی ناکام ہوجاو؟
وہ کچھ نیا اور بڑا نہیں کرسکتا ،ضروری نہیں کہ تم بھی کچھ نہ کرسکو ۔
اس سماج کی سب سے بڑی برائی یہی ہے کہ یہ نوجوانوں کو کچھ کرنے نہیں دیتے ،ہمیشہ نوجوانوں کا حوصلہ توڑتے ہیں ،انہیں ناامید کرتے ہیں۔ا س لئے یہاں بدحالی ہے؟
جن ملکوں میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ،کہا جاتا ہے کہ بیٹا جو کرنا ہے کر،ہم تمہارے ساتھ ہیں ،وہ سماج گرو کررہے ہیں ۔

جس دن یہاں کے نوجوان دوسروں کی آوازیں سننا بند کردیں گے ،جس دن کوئی ان کا حوصلہ نہیں توڑ سکے گا ،وہاں سے کامیابی کا سفر شروع ہوجائے گا ۔
جس دن لوگوں کی باتوں کا اثر آپ پر ہونا ختم ہوجائے گا پھر دنیا کی کوئی طاقت آپ کو آگے بڑھنے سے روک نہیں سکتی ،اب صرف ایک انسان ہے جو آپ کو آگے بڑھنے سے روک سکتا ہے اور وہ انسان کوئی اور نہیں ہے بلکہ آپ خود ہو؟

ہم کچھ نہیں کرپارہے ،اس کی وجہ ہم خود ہیں ،آپ کے راستے کا سب سے بڑا پتھر آپ خو ہی ہو؟ وہ جو کامیاب ہیں ،وہ کون ہیں ،وہ خود سے محبت کرنے والے ہیں ،خود کے سب سے بڑ دوست ہیں ،وہ جو ناکام ہیں وہ کون ہیں ،وہ جانے یا انجانے خود کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ خود کے دشمن کون ہیں جو ہر وقت اپنی ناکامی کا الزام دوسروں پر لگاتے رہتے ہیں ،وہ میرے ساتھ ایسا نہ کرتا تو ایسا نہ ہوتا ۔کامیاب لوگ کون ہیں ،کون ہیں جو خود کے دوست ہیں جو کسی پر اپنی ناکامی کا الزام نہیں لگاتے ،کامیابی اور ناکامی دونوں کا زمہ دار وہ خود کو سمجھتے ہیں
اس دنیا میں جتنے بھی انسان ہیں ،ان سب میں جو دیکھ رہا ہے ،وہ ایک ہے ،اس ایک کو کوئی خدا کہہ رہا ہے ،کوئی بھگوان کہہ رہا ہے ،کوئی گاڈ کہہ رہا ہے ،کوئی کانشئینس کہہ رہا ہے ،کوئی سپریم انرجی کہہ رہا ہے ۔اسی کی وجہ سے ہم زندہ ہیں ،اسی کی وجہ سے زندگی ہے ،وہ ہے تو سب کچھ ہے ،وہ نہیں تو کچھ نہیں ،اس کا مطلب کیا کہ فطرت سب کے ساتھ ایک جیسی ہے ،قدرت کی طرف سے کہیں بے انصافی نہیں ۔
ہم سب انسانوں میں الہامی طاقت ایک ہے ،سب میں ایک جیسی توانائی ہے کیونکہ سب میں دیکھنے والا ہے ،خدا کی نوازشیں سب پر برابر برس رہی ہیں ،یہ نہیں کہ مسلمان پر رحمتوں کی بارش ہے تو ہندو پر نہیں ۔

کیوں کچھ لوگ آگے بڑھ جاتے ہیں ،جو سوچتے ہیں کرجاتے ہیں ،بل گیٹ بن جاتے ہیں ،آئن سٹائن بن جاتے ہیں ،عبدالستار ایدھی بن جاتے ہیں ؟ کیوں کچھ لوگ کچھ نہیں کرپاتے ،صرف دنیا پر الزام لگاتے رہتے ہیں ،تعصب اور نفرت پھیلاتے رہتے ہیں ،ہمیشہ ایک دوسرے سے لڑتے رہتے ہیں ۔ کیوں ؟

اس کیوں کا جواب ہے کہ جو آگے بڑھ جاتے ہیں وہ کھلے دماغ والے ہیں ،بے خوف لوگ ہیں ، کسی کی نفرت یا تعصب پر توجہ نہیں دیتے ،خود کو دیکھتے ہیں ،خود میں گہرائی سے اتر جاتے ہیں ،خود کی انکوائری کرتے ہیں ،کہ وہ کیا ہیں؟ جب وہ خود میں دیکھتے ہیں تو خدا کو دیکھتے ہیں ،جب ایسا ہوجاتا ہے تو وہ بے خوف اور نڈر ہوجاتے ہیں اور پھر جب انہیں خود کی اوقات کا پتہ چلتا ہے تو جو بھی سوچتے ہیں وہ کر جاتے ہیں ،پھر وہ رومی بھی بن جاتے ہیں ،آئن ستائن بھی بن جاتے ہیں ،بل گیٹ بھی بن جاتے ہیں ،عبدالستار ایدھی بھی بن جاتے ہیں ۔انسان کو سب سے بڑی انرجی کب ملتی ہے جب وہ خود کو خود میں دیکھتا ہے اور وہاں پر خدا کو پاتا ہے اور پھر وہ کائنات کا سورس بن جاتا ہے ۔

کیا کبھی ہم نے سوچا کہ جو کامیاب ہوگئے ہیں ،جو کائنات بن گئے ہیں ،جو رومی بن گئے ہیں ،جو بدھا بن گئے ہیں ،وہ کون وہ بھی انسان ہیں ،بلکل ہمارے جیسے انسان ،ان میں بھی وہی زہانت ہے جو ہم میں ہے ،ان کی بھی دو انکھیں ،دو کان ،ایک برین ،ایک مائینڈ ،ایک میموری تھی اور ہم میں بھی وہی کچھ ہے ،پھر کیوں وہ کامیاب ہوگئے ،ہم ناکام ہیں ،وہ کامیاب ہوگئے کیونکہ انہوں نے خود سے سوال کرکر کے خود کو دریافت کر لیا ،سوال کرتے گئے ،آگے بڑھتے گئے اور جو چاہا پالیا اور خدا سے بھی ملاقات کر لی ،ہم سوال کرنے سے ڈرتے ہیں ،خود سے سوال کرنے سے ڈرتے ہیں کہ میں کون ہوں؟ ہم کون ہیں؟
کیا کبھی ہم نے سوچا کہ کیوں ہم قسمت میں اٹکے پڑے ہیں ،کیوں اندھے یقینوں میں الجھے پڑے ہیں؟ کیوں ہم خود کو نہیں بدل پا رہے ہیں ،اس لئے نہیں بدل پارہے کہ ہمیں خود کا پتہ ہی نہیں کہ ہم کون ہیں؟ دنیا کا ایک انسان اگر چاہے تو ساری دنیا کو بدل سکتا ہے ،بس سوال ڈھنگ کے ہونے چاہیئے ،سوال ڈھنگ کے ہوں گے تو جواب ملتا ہے ،ہم سوال ہی سارے بے ڈھنگے کررہے ہیں تو جواب بھی ویسے مل رہے ہیں ،مسئلہ تمہیں ہے جواب تم کس سے پوچھ رہے ہو ،کبھی سوچا؟ بابا میرے ہاتھ کی لکیروں کو دیکھیں ،کب کامیابی ملے گی ،پیر صاحب دعا کردیں کامیاب ہوجاوں ؟
یہ سوال ہیں ہمارے پاس ،ایسے سوالوں سے کامیابی کہاں ملتی ہے ،خدا کی رحمتوں کی بارش جب سب پر برابر برس رہی ہے تو ا سکے بعد کیا رہ جاتا ہے ؟

دنیا کے تمام ناکام انسانوں کے پاس سوال نہیں ،صرف بے ڈھنگے جواب ہیں ،صرف الزام تراشیاں ہیں۔
دنیا ریس کی جگہ ہے ،سب ایک ریس میں ہیں ،سب مقابلہ کررہے ہیں ،سب ایک دوسرے کو شکست دینا چاہتے اور آگے بڑھنا چاہتے ہیں ،کیا ترقی کرنا ،آگے بڑھنے کا ،خود کو بدلنے کا یا دنیا کو بدلنے کا صرف یہی ایک طریقہ ہے؟
یہ طریقہ نہیں ہے ،سب بھاگ رہے ہیں اس لئے کیونکہ سب ہی بھاگ رہے ہیں ،وہ بھاگ رہا ہے تو میں کیوں نہ بھاگوں؟ کوئی سوال نہیں ہے کہ کیسے اس ریس سے نکلوں ،خود کو دیکھو ،جو چاہتا ہوں ،اس پر فوکس کروں۔میری بلا سے کہ دنیا کیا کررہی ہے ؟
کیوں بننا ہے اس ریس کا حصہ؟ کیوں دنیا کو دیکھانا ہے کہ میں ثابت کروں گا کہ میں کیا ہوں؟ وہ کریں جو دل کہتا ہے ،جس سے آپ کو دلچسپی ہے ،اندر کی آواز سنیں اور بھول جائیں دنیا کیا کہہ رہی ہے ،کیا کررہی ہے؟ پھر کمال کردیں گے ۔

دنیا بھاگ رہی ہے ،پاگلوں کی طرح انسان ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے چکر میں درندے بن چکے ہیں ،ایسی صورتحال میں کامیابی ملے یا ناکامی اس کا نتیجہ دکھ مسائل ہیں ،خوشی ،سکون اور اطمینان نہیں مل سکتا ۔خوشی ،سکون اور اطمیان انہیں ملتا ہے جو خود کو دیکھ لیتے ہیں اور خود کی توانائی سے واقف ہوجاتے ہیں اور پھر شاندار کام کرتے ہیں ۔
کسی چیز کو پانے کا نام خوشی رکھ دیا گیا ،کسی چیز کو پانے کا نام کامیابی رکھ دیا گیا ہے ،خوشی اس کام میں ہے جس میں آپ کو دلچسپی ہے،جس سے آپ کو محبت ہے ،اسی کام سے چیزیں بھی ملیں گی ان سے بھی زیادہ جو چیزیں پانے کے لئے پاگل ہورہے ہیں


شیئر کریں: