انسانی حقوق اور مغرب کا دوہرا معیار

شیئر کریں:

تحریر ڈاکٹر صابر ابو مریم
جب سے ہوش سنبھالا ہے عالمی سیاست کے منظر نامہ پر انسانی حقوق سے متعلق نعرہ بڑے زور شور سے بلند ہوتے سنا اور دیکھا ہے۔ اکثر اوقات بلکہ بیشتر ہی مغربی دنیا کے ممالک کی جانب سے یہ نعرہ بڑے زور شور سے اٹھایا گیا ہے۔عجیب اتفاق تو یہ ہے کہ مغرب کی حکومتوں او ر ان کے اعلی عہدیداروں کی زبان سے یہ نعرہ ہمیشہ کچھ غریب، پسماندہ اور تیسری دنیا کے کمزور ممالک کے لئے سننے میں آیا ہے۔مغربی دنیا کی حکومتوں نے اپنے مفادات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے انسانی حقوق کے نعرے کا بھرپور استعمال کیا۔ حتیٰ کہ یہودیوں کے افسانہ ہولوکاسٹ کے عنوان سے بھی انسانی حقوق کے نعرے کا سہارا لیتے ہوئے عالمی استعماری قوتوں برطانیہ اور امریکہ نے فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل جیسے سرطان کو جنم دیا۔

مختلف ایسے ممالک کہ جن کی حکومتیں اور عوام استعماری نظام اور سرمایہ دارانہ نظام کی حامل حکومتوں امریکہ اور برطانیہ سمیت یورپ کی غلامی کو تسلیم کرنے پر رضا مند نہیں ہیں ان کے خلاف بھی انسانی حقوق کے نعروں کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ ایران، کیوبا، ویت نام، بولیویا، وینزویلا اور دیگر کئی ممالک اس فہرست میں شامل ہیں کہ جن کو امریکی ویورپی حکومتوں کی جانب سے انسانی حقوق کے نام پر بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسانی حقوق کی بد ترین پائمالی کرنے والی خود مغربی حکومتیں اور ان کے آلہ کار ہیں۔ جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوئم میں مغربی ممالک کی افواج نے انسانیت سوز مظالم کی جو داستانیں رقم کی ہیں کیا ان کے بارے میں انسانی حقوق کا کوئی تصور پیش کیا گیا ہے؟ یا یہ کہ ان مغربی حکومتوں نے دور جدید میں انسانی حقوق کا دم بھرتے ہوئے اس تمام ماجرا کی مذمت کی ہو؟ ایسا ہر گز نہیں ہوا۔ بلکہ فلسطین پر قائم کی جانے والی صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل اور پھر ظلم و جبر کے شروع ہونے والے سلسلوں پر آج تک کسی مغربی حکومت نے انسانی حقوق کی بد ترین پامالیوں پر بات نہیں کی۔
مطالعات کی روشنی سے یہ بات ثابت ہے کہ مغربی دنیا بالخصوص امریکہ کی ایک سو سالہ تاریخ میں انسانی حقوق کی سیکڑوں پائمالیا ں موجود ہیں۔ امریکی حکومت نے کبھی فوجی یلغار کے ذریعہ تو کبھی دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کے ذریعہ اور کبھی حکومتوں کے تختوں کو الٹ کر دنیا بھر کے متعدد ممالک میں انسانی حقوق کی بد ترین پامالیاں انجام دی ہیں۔ ایسے ممالک کی فہرست میں فلسطین، یمن، عراق، لیبیا، افریقی ممالک، افغانستان، شام، وسطی ایشیائی ریاستیں اور پاکستان بھی شامل ہیں۔ پاکستان میں امریکی ڈرون حملے اور امریکی خفیہ جاسوسوں کی دہشت گردانہ کاروائیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔
مغرب کی حکومتوں نے ہمیشہ مسلمان ممالک کو کمزور کرنے اور دنیا میں ان کا سیاسی مقام ختم کرنے کے لئے انسانی حقوق کے نعرے کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ لیکن یہی مغربی حکومتیں فلسطین میں ہونے والے صہیونی مظالم پر نہ صرف خاموش ہیں بلکہ امریکہ یہاں پر اسرائیل کو انسانی حقوق کی دھجیاں اڑانے کے لئے اربوں ڈالر کی مدد پہنچاتا ہے۔یہاں دنیا کے سامنے یہ سوال رکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا فلسطین میں بسنے والے انسان نہیں ہیں؟ یا یہ کہ ان کے لئے انسانی حقوق کی کوئی اور تعریف کی گئی ہے؟ کیا فلسطین پر صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کو قائم کرنا عالمگیر انسانی حقوق اور قوانین کی پامالی او ر کھلم کھلم خلاف ورزی نہیں ہے؟
کشمیر کی بات کرتے ہیں، کشمیر بھی فلسطین کی طرح جل رہا ہے۔ بھار ت کی ریاستی دہشت گردی عروج پر ہے۔ امریکہ اور مغرب کی حکومتیں بھارت کو دنیا کی نمبر ایک جمہوریت قرار دیتے ہیں۔ یہ مغربی دنیا کی حکومتوں کا وہ دوہرا معیار ہے جو فلسطین کے بعد کشمیر میں نظر آتا ہے۔ یہاں بے گناہ قتل ہوتے رہیں لیکن انسانی حقوق کی مغربی کتابیں بند رہیں گی۔یہاں معصوم بچوں کو درندگی کا نشانہ بنایا جائے، خواتین کی عصمت دری کی جائے لیکن انسانی حقوق کی مغربی تعریف بھارت جیسے ریاستی دہشت گرد کے لئے علیحدہ بنائی گئی ہے۔
مغرب کی حکومتوں نے اپنے اسی دوہرے معیار کی بدولت دنیا بھر میں نہ صرف ذلت و رسوائی حاصل کی ہے بلکہ دنیا کی تمام اقوام اور بالخصوص خود مغربی دنیا کی غیور اور با شعور عوام بھی اپنی ان حکومتوں اور ان کی دوہری پالیسیوں کی وجہ سے نفرت کرتے ہیں۔ آج اگر دنیا بھر میں سروے کیا جائے اور یہ بات معلوم کی جائے کہ دنیا میں انسانی حقوق کو پامال کرنے والی حکومت کون سی ہے تو یقینا اس سروے کا سو فیصد نتیجہ میں جواب یہی آئے گا کہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی انسانی حقوق کو پامال کرنے والی حکومت ہے۔
حال ہی میں اقوام متحدہ کے ادارے کی جانب سے ایک رپورٹ نشر کی گئی ہے۔یہ رپورٹ سال2020سے متعلق ہے۔اس رپورٹ کے مطابق فلسطین پر غاصبانہ تسلط قائم کی ہوئی صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل نے ایک سال میں ایک ہزار اکتیس مرتبہ انسانی حقوق کی پامالی کی ہے، یا اس طرح کہہ لیجئے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق سے متعلق قراردادوں اور قوانین کی خلاف ورز ی کی ہے۔ ان خلاف ورزیوں میں اسرائیل کی جانب سے ایک سال میں معصوم فلسطینی بچوں کو قتل کرنے کے 340واقعات سامنے آئے ہیں۔اسی طرح معصوم بچوں کو اجتماعی طور پر قتل کرنے کے گیارہ واقعات رپورٹ کئے گئے ہیں۔جبکہ اسرائیلی درندگی کے باعث ایک سال میں زخمی ہونے والے معصوم فلسطینی بچوں کی تعداد 300بتائی گئی ہے۔اسی رپورٹ کے مطابق 360سے زیادہ معصوم فلسطینی بچوں کو اسرائیلی غاصب افواج نے گرفتار کیا ہے۔یہ سب انسانی حقوق کی پامالی کی بدترین داستان ہے جو امریکی سرپرستی میں اسرائیل نے انجام دی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ آج مغربی دنیا کی حکومتیں دنیا کے دوسرے ممالک کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لئے جہاں دوسرے ہتھکنڈوں کا استعمال کرتی ہیں وہاں ان کے لئے انسانی حقوق کے بارے میں نعرہ بلند کرنا ایک ہتھیارکی مانند ہے جس کا وہ بے دریغ استعمال کرتی ہیں۔جبکہ مغربی دنیا کے ممالک کی اپنی حالت ناقابل بیان ہے کہ جہاں سماجی بربادی سے لے کر انسانی بربادی کی ذمہ دار یہی مغربی حکومتیں اور ان کے ناپاک عزائم ہیں۔ آج فلسطین و کشمیر جیسے مسائل دنیا کے ماتھے پر سیال کلنک کی مانند ہیں۔عالمی برادری کی بے حسی اور خاموشی اسرائیل اور ریاستی دہشت گردبھارت کے لئے فلسطین اور کشمیر میں ظلم کے راستوں کو ہموار کر رہی ہے۔ہر ذی شعور کا فرض ہے کہ وہ مغربی دنیا کی حکومتوں کے ناپاک اور پلید منصوبوں کو طشت از بام کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔
(نوٹ مضمون کے لکھاری سیکریٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان ان کے خیالات سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں)


شیئر کریں: