انسانوں میں سماجی فاصلہ ڈاگ ربورٹ کروائیں گے

شیئر کریں:

اب ربورٹ انسانوں کو پارکس اور سڑکوں پر کنٹرول کریں گے۔
سنگاپور میں حکومت نے کورونا وائرس کا پھیلاو روکنے اور انسانوں کے درمیان
سماجی فاصلہ برقرار رکھوانے کے لیے پارکوں میں ربورٹ چھوڑ دیے ہیں۔
سنگاپور کے نیشنل پارکس بورڈ کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر ربورٹس کو بیشن پارکس میں تعینات کیا گیا ہے۔
کتوں کی خصوصیت کے حامل رش کے اوقات کار میں شہریوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں گے۔
پارکوں میں ربورٹس کی تعیناتی مقصد انسانوں میں سماجی فاصلے برقرار رکھوانا ہے۔

کورونا لاک ڈاون کی خلاف ورزی پر روبوٹ متحرک

اگر کوئی شخص سماجی فاصلے کو نظر انداز کرے گا تو ربورٹ ریکارڈ میسج سے اس شخص کو وارننگ دے سکیں گے۔
خودکار ربورٹس میں جدید کیمرے اور سینسر لگائے گئے ہیں جو نہ صرف شہریوں کی نقل و حرکت پر
نظر رکھ سکیں گے بلکہ ہیڈ آفس میں براہ راست پارک کی صورت حال سے آگاہ بھی کر سکیں گے۔

کورونا وائرس کا خوف چین میں روبوٹ کھانا پیش کرنے لگے

نیشنل پارکس بورڈ کا کہنا ہے کہ ربورٹ پارکوں میں مکمل گشت کریں گے۔
ربورٹس کسی فرد واحد کی ذاتی زندگی کو متاثر کیے بغیر پارک میں موجود تمام شہریوں کی
نقل و حرکت پر یکساں نظر رکھیں گے جو سماجی فاصلے برقرار رکھوانے میں مدد گار ہوگا۔
سنگاپور سے پہلے بھی کئی ممالک میں ربوٹ کی خدمات لی جا چکی ہیں۔

کورونا لاک ڈاون کی خلاف ورزی پر روبوٹ متحرک

سڑکوں اور پارکس کے ساتھ ساتھ اسپتالوں میں بھی نرسوں کی خدمات روبوٹس انجام دے رہے ہیں۔
کورونا وائرس سے دنیا بھر میں ہزاروں ڈاکٹرز اور پیرامیڈکس اسٹاف متاثر ہو چکا ہے۔
کورونا کا علاج تاحال دریافت نہیں ہو سکا اور یہ انسان سے انسان میں پھیلتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ معمولات زندگی میں سماجی فاصلوں پر توجہ دینی ہو گی۔
دنیا بھر میں اسی لیے اجتماعات اور عبادتوں پر پابندی لگا دی گئی۔
تقریبا تمام ہی ممالک کے عوام کو لاک ڈاؤن کا بھی سامنا کرنا پڑا جہاں جہاں اب صورت حال
بہتر ہورہی ہے وہاں لاک ڈاؤن میں نرمی کی جارہی ہے۔


شیئر کریں: