انتخابات کا نتیجہ نئے نظام کی راہ ہموار کرے گا

انتخابات کا نتیجہ نئے نظام کی راہ ہموار کرے گا

تحریر ندیم رضا
انتخابات کا نتیجہ نئے نظام کی راہ ہموار کرے گا
عام انتخابات 2024 نے کئی سیاسی جماعتوں کو مکمل طور پر برہنہ کر دیا ہے. مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم ، جمعیت علمائے اسلام اور
جماعت اسلامی ہو یا آزاد امیدوار کیسے ان کی جیت ہوتی رہی ہے سب عوام کے سامنے مزید واضح ہو چکی ہے.
پنجاب باالخصوص وسطی پنجاب جو مسلم لیگ ن کا گڑھ تصور کیا جاتا تھا وہاں اس کے قائد میاں محمد نواز شریف، خواجہ آصف اور خواجہ سعد رفیق
سمیت دیگر رہنماؤں‌کا کیا حال ہوا وہ سب کے سامنے ہے. ریٹنگ کی دوڑ‌میں لگے نیوز چینلز نے چیخ چیخ‌کر وقت سے کہیں پہلے ابتدائی
نتائج کے ساتھ ہی تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کو فاتح قرار دینا اور مسلم لیگ ن کی بدترین شکست کی تشہیر شروع کر دی تھی.
بہرحال رات کوئی دس بجے کے بعد نیوز چینل پر نتائج کے اعلانات کی برسات یکدم بوندا باندی میں تبدیل ہو گئی. صبح پھر نواز شریف
سمیت تمام قائدین جو ہار رہے تھے ان کی کامیابی کے جشن منائے جانے لگے. پاکستان مسلم لیگ ق دیگر جماعتوں کے مقابلے میں برہنہ
ہونے سے محفوظ رہی.
اسی طرح کراچی میں اگر دیکھیں تو 2018 میں جس تحریک انصاف کو قومی اسمبلی کی 14 نشستیں دی گئی تھیں 2024 میں ایک نشست بھی
حاصل نہ کرسکی. 2018 میں بدترین شکست سے دوچار ایم کیو ایم پاکستان کو اس بار کراچی 15 نشسستیں دے دی گئیں اور پہلی بار پیپلز پارٹی
کو 7 نشستیں دی گئیں. اس طرح کراچی میں قومی اسمبلی کی 22 نشستیں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی میں بانٹ دی گئیں.
ایک طرف ایم کیو ایم کو بھرپور طریقے سے نوازا گیا اور وہیں‌ڈاکٹر فاروق ستار کو این اے241 پر بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا جہاں‌وہ 500
ووٹ بھی حاصل نہ کرسکے. ان پر اور قوم پر واضح کر دیا گیا کہ غیبی مدد اور سہارے کے بغیر ان کی حقیقت 500 ووٹ بھی نہیں ہے.
یہی نہیں بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی کو پورے سندھ میں جس طرح سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں دی گئی ہیں اس نے سب کو پریشان
کر دیا ہے. پہلی بار پیپلز پارٹی نے وہ سیٹیں بھی جیتی ہیں جس کی مثال نہیں ملتی. باالخصوص سندھ میں مسلم لیگ فنکشنل ہمیشہ سے
کچھ نشستیں جیتی آرہی ہے. اس بار حیرت انگیز طور پر پیر صاحب پگارا کی اپنی گھر کی نشستسیں بھی پیپلز پارٹی کی جھولی میں ڈال دی گئیں.
اور تو اور ذوالفقار مرزا اور فہیمدہ مرزا کے شہر بدین میں بھی پیپلز پارٹی نے جھاڑو پھیر دی.
اسی طرح اب بات کرتے ہیں خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی جہاں جمعیت علمائے اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی کو بھی بدترین شسکست کا منہ
دیکھنا پڑا ہے. مولانا فضل الرحمن نتائج پر سیخ‌پا دیکھائی دیتے ہیں. ایمل ولی خان نے تو غصہ میں‌آکر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنی جماعت
کا دیرینہ تعلق ختم کرنے کا اعلان کر دیا. جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق بھی اپنے آبائی علاقے میں بھی شکست کھا گئے.

جہانگیر ترین اور پرویز خٹک

تحریک انصاف کے بطن سے وجود میں آنے والی جماعتوں‌ جہانگیر ترین کی استحکام پاکستان اور پرویز خٹک کی تحریک پاکستان پارلیمنٹرینز کے
تو سربراہان اپنی نشستیں بھی جیت نہ سکے. دونوں جماعتوں کے قائدین کی طرح کئی اور رہنماؤں کو بھی بدترین شکست کا منہ دیکھنا پڑا.

تحریک انصاف کے آزاد اراکین

اب رہ گئی تحریک انصاف اور اس کے آزاد تو انہوں‌نے سب کو حیران کر دیا. خیبر سے لے کر مہران تک ان کے ووٹرز خاموشی سے
نکلے اور اپنے امیدواروں کے مختلف نشانوں پر ڈھپے لگاتے رہے. ملک بھر سے بڑی تعداد میں لوگوں نے آزاد امیدواروں کو ووٹ
دیے. ہم نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں‌سے بات کی تو ان کا کہنا تھا وہ اپنا ووٹ صرف اس لیے تحریک انصاف
کو دے رہے ہیں کہ عمران خان کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے.
وہ کسی بھی طرح‌موروثی سیاست دانوں بھٹو یا زرداری خاندان، شریف خاندان اور مولانا فضل الرحمن خاندان کو مزید ووٹ‌ نہیں دے
سکتے. ان ہی لوگوں‌نے وطن عزیز کا دیوالیہ نکال دیا ہے.

الیکشن سے حاصل کیا ہوا؟

ان انتخابات میں مقتدر حلقوں‌نے ایک تیر سے کئی شکار کر لیے ہیں. اس الیکشن میں کئی سیاست دان پارلیمنٹ‌سے باہر ہو گئے
اور مزید اگلے انتخابات میں باہر ہو جائیں گے. اس طرح اگلی پارلیمنٹ‌کے بیشتر اراکین نوجوان اور نئے لوگوں‌پر مشتمل ہو گی.
ابتدائی اور بعد کے انتخابی نتائج سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان مسلم لیگ ق، جمعیت
علمائے اسلام، جماعت اسلامی، متحدہ قومی موومنٹ اور
دیگر جماعتیں یا آزاد امیدوار کس طرح جیتتے رہے ہیں. اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ اگر اس بار بھی پی ڈی ایم پارٹ ٹو حکومت سنبھالتی
ہے تو پھر یہ سلسلہ زیادہ عرصہ تک نہیں‌چلے. کیونکہ موجودہ صورت حال کو یہ جماعتیں کنٹرول نہیں سکتیں.
چند ماہ بعد ہی صورت حال خراب ہونا شروع ہو جائے گی. عوام کسی بھی صورت انہیں قبول نہیں کریں گے. ان ہی کی وجہ سے
عمران خان کا گرتا ہوا گراف دوبارہ سے اوپر چلا گیا تھا. اقتدار ایک بار پھر ان کے سپرد کیے جانے کا فائدہ تحریک انصاف کو ہی پہنچے
گا. لگتا یہی ہے 8 فروری 2024 کے انتخابات ان موروثی سیاستدانوں کی اننگز کے خاتمے کا سبب بنیں گے اور نیے نظام کی راہ
ہموار کریں گے جس کا آغاز 2013 کے انتخابات سے ہوا تھا.