انتخابات نے کئی سیاستدانوں‌کا کیرئیر تباہ کر دیا

انتخابات نے کئی سیاستدانوں‌کا کیرئیر تباہ کر دیا

8 فروری 2024 کے انتخابات نے کئی پرانے اور روائیتی سیاستدانوں‌ کا سیاسی کیریئر ختم کر دیا ہے. اسی طرح کئی نئے افراد کو پارلیمنٹ
میں پہنچنے کا موقع ملا ہے. پاکستان کی سیاست کے لیے کئی ناگزیر سمجھے جانے والے سیاستدان کلین بولڈ ہو گئے ہیں.
جہانگیر ترین، سراج الحق، خواجہ سعد رفیق اور دیگر اپنے علاقوں کے مضبوط ترین امیدوار تصور کیے جاتے تھے انہیں اپنے اپنے حلقوں
میں‌بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے.
یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کے بطن سے جنم لینے والی پاکستان استحکام پارٹی کے چیئرمین جہانگیر ترین نے بدترین شکست کے
بعد دلبرداشتہ ہو کر سیاست سے ہی کنارہ کشی اختیار کر لی ہے. جہانگیر ترین نے استحکام پاکستان پارٹی کی چیئرمین شپ سے بھی استعفی
دے دیا اور کہا ہےاب وہ سیاست میں حصہ نہیں‌لیں‌گے.
اسی طرح‌جماعت اسلامی کے امیر کو بھی جماعت کے گڑھ تصور کیے جانے والے علاقے دیر سے بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا.
یہ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ جماعت اسلامی کا کوئی بھی امیدوار قومی اسمبلی تک نہیں‌پہنچ پایا. ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی امارات کی
دوسری معیاد بھی اب ختم ہونے والی تھی انہوں نے اس سے پہلے ہی امارات سے استعفی دے دیا ہے.
خیال رہے جماعت اسلامی کی امارات کے لیے انتخاب 31 مارچ کو کیا جائے گا. اس کے لیے سراج الحق، لیاقت بلوچ اور
حافظ نعیم الرحمن کا نام لیا جارہا ہے.
ذرائع کا کہنا ہے کہ سیاست میں نئے چہرے لانے کا فیصلہ کیا جاچکا ہے. اسی لیے پرانے چہروں سے نجات حاصل کی جارہی ہے.
کچھ سیاست دان انتخابات سے پہلے ہی نااہل قرار دے دیے گئے. کچھ کو انتخابات میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا. اب جو رہ گئے
ہیں‌وہ اگلے انتخابات میں آؤٹ ہوجائیں گے.