March 25, 2020 at 9:28 pm

امریکا کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا آفغانستان اور دوحہ کا دورہ اور ایم ارب ڈالر امداد روکنے کی دھمکی کام کر گئی ہے۔
چند روز پہلے ہی پومپیو نے پہلے افغانستان میں صدر اشرف غنی اور خودساختہ صدر ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے ملاقاتیں کی تھیں۔
کابل سے مشن مکمل کرکے پومپیو دوحہ گئے جہاں طالبان قیادت سے ملاقات کی۔
امارت اسلامی افغانستان سیاسی ونگ کے ترجمان سہیل شاہین کے مطابق 5 روز بعد31 مارچ سےافغان طالبان کے تمام قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع ہو جائے گا۔
اس بات کا فیصلہ امریکا، قطر، افغان حکومت، طالبان اور ہلال احمر کے درمیان ویڈیو کانفرنس میں کیا گیا۔
سہیل شاہین کا کہنا آج کی ویڈیو کانفرنس 6گھنٹے جاری رہی۔
اس کانفرنس کے ثمرات کا آغاز 31 مارچ کو بگرام جیل سے قیدیوں کی رہائی سے ہو جائے گا۔
دوحہ امن معاہدہ کےتحت امریکی حکام کو فراہم کردہ لسٹ کےمطابق ہی رہائی کی جائے گی۔
رہائی کے دوران طالبان قیدیوں کی تصدیق کیلئےامارت اسلامی کانمائندہ بگرام جیل میں موجود رہے گا۔
طالبان نے اپنے پانچ ہزار قیدیوں کی فہرست دوحہ معاہدہ کے موقع پر امریکی حکام کے حوالے کی تھی۔
دوحہ معاہدہ کے اگلے روز ہی افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
اس دوران افغانستان میں پرتشدد واقعات کا سلسلہ بھی جاری رہا اور آج بھی کابل میں سکھوں کے گوردوارے پر حملہ کیا گیا۔

Facebook Comments