امریکا کے ڈرون حملے میں‌ عورتوں بچوں سمیت 10 عام شہری ہلاک

شیئر کریں:

کابل ڈرون حملے میں عورتوں اور بچوں سمیت عام شہریوں کو نشانہ بنانے پر امریکا نے معافی مانگ لی
امریکا نے 29 اگست کو افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امریکی ڈرون حملے میں عام شہریوں کو
نشانہ بنانے کا اعتراف کر لیا ہے ۔

امریکی وزیردفاع لائڈ آسٹن نے 29 اگست کو کابل میں ڈرون حملے میں سویلین شہریوں کو نشانہ بنانے
اور 10 افرادکی ہلاکت پرمعافی مانگ لی ہے۔

امریکی وزیردفاع کا کہنا تھا کہ کابل میں ڈرون حملے میں جاں بحق افرادکےلواحقین سےاظہارتعزیت اور
معافی مانگتاہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سنگین غلطی سے سبق سیکھنےکی کوشش کریں گے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل کینتھ مکینزی نے 29 اگست کو افغانستان کے دارالحکومت کابل
میں امریکی ڈرون حملے کو غلطی قرار دے دیا۔

امریکی جنرل کا کہنا تھا کہ کابل میں 10 شہریوں کو ہلاک کرنے والا ڈرون حملہ ایک افسوسناک غلطی
تھی جس پر میں معذرت خواہ ہوں ۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ 29 اگست کو کابل میں ڈرون حملے میں امدادی
کارکن اور اس کے خاندان کے 9 افرادمارے گئے تھے۔

یاد رہے کہ29 اگست کو حامدکرزئی ائیرپورٹ کے قریب ڈرون حملہ کیا گیا تھا جس میں عالمی دہشت گرد
تنظیم داعش خراسان کے مبینہ خودکش حملہ آور کو مارنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔


شیئر کریں: