امریکا کی فلسطین اور ایران کے لیے خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی، اسرائیل پریشان

شیئر کریں:

امریکا نے نومنتخب صدر جوبائیڈن نے ایران اور فلسطین کے لیے خارجہ پالیسی کو تبدیل کردیا ہے۔
نئی امریکی انتظامیہ کی نئی خارجہ پالیسی سے تل ابیب میں پریشانی پائی جارہی ہے۔
بائیڈن انتظامیہ نے فسلطینوں کے ساتھ دوبارہ براہ راست بات چیت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکا نے یروشلم میں موجود سفارت خانے میں فلسطین کے لیے مشن تعینات کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی مشن فلسطینی لیڈرز اور شہریوں سے براہ راست بات چیت کرے گا۔
بائیڈن انتظامیہ کی اسرائیل کے لیے نئی پالیسی سے اسرائیل میں پریشانی پائی جارہی ہے۔
جوبائیڈن کی فلسطین کے لیے خارجہ پالیسی میں واضع تبدیلی متوقع تھی۔
بائیڈن نے انتخابی مہم کے دوران اسرائیل اور فلسطینی دو ریاستی حل کی کھل کر حمایت کی تھی۔
جوبائیڈن اسرائیل کو فلسطینی علاقوں پر قبضہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

ایران کے ساتھ خارجہ پالیسی میں تبدیلی

دوسری طرف اایران کے لیے نئے امریکی نمائندہ خصوصی
کی تعیناتی کی خبر سے اسرائیل میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
جوبائیڈن انتظامیہ روب مالے کو ایران کے لیے خصوصی نمائندے کے طور پر تعینات کر رہی ہے۔
مالے اس سے پہلے کئی سال سے اسرائیلی اہلکاروں کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔

روب مالے کون ہیں؟

مالے ٹرمپ، اوباما اور بش ادوار میں خدمات سر انجام دیتے ہیں۔
روب مالے سابق امریکی صدر جارج بش کی نیشنل سیکیورٹی ٹیم کا حصہ رہے ہیں۔
جارج بش نے انہیں عرب اسرائیل افیئرز پر معاون خصوصی تعینات کیا ہوا تھا۔
روب مالے سات سال تک اوباما انتظامیہ میں بھی کام کرتے رہے ہیں۔
مالے ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے ایران پر لگائی گئی پابندیوں کی کھل مخالفت بھی کرتے رہے ہیں۔
ایران کے لیے نئے امریکی نمائندے اسرائیل کے ساتھ لمبے
عرصے کام کرنے کی وجہ اسرائیل کی سیاست کو بخوبی جانتے ہیں۔
دوسری طرف مالے ایران کے ساتھ بہتر تعلقات کے داعی رہے ہیں۔
وہ ہمیشہ سے ہی امریکا کو ایران کےساتھ تعلقات بہتر کرنے پر زور دیتے رہے ہیں۔
انہوں نے ایران سائنس دان فخری زادے کے قتل کی بھی مذمت کی تھی۔
مالے مشرق وسطی کی سیاست سے بخوبی واقف ہیں۔ ان کے والد مصر میں صحافت کرتے رہے ہیں۔

روب مالے کی تعیناتی سے اسرائیل کو کیا پریشانی ہے؟

روب مالے شروع سے ہی اسرائیل، ایران اور عرب ممالک کی سیاست میں زمینی حقائق سے آگاہ ہیں۔
اسرائیلی دفاعی حلقوں میں روب مالے کی نامزدگی پر شدید تشویش پائی جارہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر روب مالے ایران کے لیے امریکا کے
نمائندہ خصوصی بن جاتے ہیں اور اس کا براہ راست نقصان اسرائیل اور عرب ممالک کو ہوگا۔

ٹرمپ انتظامیہ کی فلسطین اور ایران پر کیا پالیسی تھی؟

اس سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل اور
عرب ممالک کے ساتھ تعلقات استوار رکھے اور ایران کو یکسر نظر انداز کیا۔
ٹرمپ دور حکومت میں امریکا نے پہلی بار یروشلم میں اسرائیل کے لیے سفارت خانہ کھولا۔
ٹرمپ نے ذاتی طور عرب ممالک اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات پروان چڑھائے۔
ڈونلڈ ٹرمپ دور حکومت میں فلسطینوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔
دوسری طرف ٹرمپ انتظامیہ کے ایران کے ساتھ تعلقات بھی اچھے نہ رہے۔
ٹرمپ کے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ معطل کیا، ایران پر پابندیاں عائد کیں۔
سابق امریکی صدر ٹرمپ کے دور حکومت میں ہی امریکا نے ایران
کے کمانڈر قاسم سلیمانی اور جوہری سائنس دان فخری زادے کو حملے شہید کیا۔
اسی دور میں ایران نے جوابی کارروائی میں عراق میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بھی بنایا۔


شیئر کریں: