امریکا میں صدارتی انتخاب ای میل پر ہوگا؟

شیئر کریں:

کورونا وائرس کے پیش نظر امریکی انتظامیہ ای میل کے ذریعے ووٹنگ پر غور کر رہی ہے۔
امریکا میں نومبر میں ہونے والے انتخابات میں پولنگ بوتھز پر ووٹنگ ہونا مشکل نظر آنے لگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے سماجی دوری ضروری ہے۔
موجودہ حالات میں شہریوں کو ووٹ کے لیے باہر نکلنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے الیکٹرانک میل کے ذریعے ای ووٹنگ زیر غور ہے۔

مزید پڑھیے:ڈونلڈ ٹرمپ کا مقابلہ جو بائیڈن سے ہوگا

ای میل ووٹنگ کے ذریعے شہری اپنے گھروں میں بیٹھ کر ای میل کے ذریعے اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں گے۔
ای میل سے ووٹنگ کا عمل انتہائی آسان اور محفوظ ہوگا۔ ووٹنگ کے اس عمل سے سماجی دوری پر بھی مکمل عمل درآمد ہوسکے گا۔
دوسری طرف اپوزیشن نے ای میل ووٹنگ پر تحفظات کا اظہار بھی کردیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ای میل کے ذریعے ووٹنگ موثر نہیں ہے۔
ای میل ووٹنگ سے دھاندلی کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا۔
خدشہ ہے کہ ای میل ووٹنگ کو ٹرمپ انتظامیہ اعداد و شمار اور نتائج میں تبدیلی کر سکتی ہے۔
اس سے پہلے امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے شہریوں کو کورونا وائرس امداد کے نام پر دیے گئے
کیش پر اپوزیشن نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی طرف سے دی گئی امداد سیاسی منظرنامے پر اثر انداز ہوگی۔
امریکا میں عموما انتخابات سے ایک سال پہلے سے گھما گھمی شروع ہو جاتی ہے لیکن اس مرتبہ
ماضی جیسا کچھ ہوتا دیکھائی نہیں دے رہا۔
امریکی سیاست پر نظر رکھنے والوں کا ماننا ہے کہ صورت حال اگر اسی طرح رہی تو اس کا
فائدہ موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اٹھا سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ موجودہ صورت حال اپنے حق میں کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔


شیئر کریں: