امریکا افغان فوج کی تربیت پر 88 ارب ڈالر خرچ کرکے بھی شکست نہ ٹال سکا

شیئر کریں:

امریکا نے 20 سال کے دوران افغانستان کی فوج کی تربیت پر 88 ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی۔ بڑے
پیمانے پر تربیت اور اخراجات بھی افغان فوج کو طالبان کے سامنے کھڑا کرنے میں ناکام رہی۔ نتیجہ یہ
نکلا کے امریکا کے تربیت یافتہ افغان فوجی صرف دو ہفتے بھی طالبان جنگجوؤں سے نہ لڑ سکے اور
ملک کے بیشتر حصہ پر طالبان نے باآسانی قبضہ کر لیا۔

طالبان کا 34 صوبوں میں سے 18 پر قبضہ کابل اور مزار شریف پر نظر

امریکا نے نائن الیون حملوں کے بعد سے افغانستان میں اپنی فوجیں اتاریں اور طالبان کو شکست دینے میں
ناکام رہا۔ اپنی شکست کی وجہ سے اسے ویتنام کے بعد افغانستان سے بھی نامراد ہو کے واپس لوٹنا پڑا۔

افغانستان کی صورت حال نے امریکا کی پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے۔ کیونکہ میں افغانستان میں طالبان
کی فتح اور امریکی شکست سے خطے میں امریکی بالادستی کو بھی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

خطے پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لیے امریکا نے مجموعی طور پر 7000 ارب ڈالر خرچ کئے لیکن ادھر
بھی مقاصد پورے ہوتے دیکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ خطے میں بھی امریکی قیادت کو زلت و رسوائی
کا سامنا ہے۔

امریکا کے اپنے تجزیہ کاروں نے بھی افغان پالیسی پر سوال اٹھانا شروع کر دیے ہیں کہ اربوں ڈالرز خرچ کر
کے بھی افغانستان کی فوج اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو سکی اس ناکامی کی زمہ دار بھی امریکا پر ہی
عائد ہوتی ہے۔

دوسری جانب عالمی طاقتوں کی نگاہوں میں کھٹنے والا ملک ایران ہے جس نے 30 سال کے دوران عسکری
اور سفارتی طاقت میں اضافے پر صرف 17 ارب ڈالر خرچ کئے۔

کم رقم خرچ کر کے ایران نے امریکا سے کہیں زیادہ اپنا اثر و رسوخ قائم کیا اور طاقت میں بھی اضافہ کر لیا
ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہتر حکمت عملی کی وجہ سے ایران مشرق وسطی کے نقشہ پر تیزی سے ابھر رہا ہے۔

طالبان جو کبھی ایران مخالف ہوا کرتے تھے اب وہ بھی ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔ طالبان اور تہران دیرینہ
تعلق میں جڑ چکے ہیں۔


شیئر کریں: