القاعدہ سربراہ ایمن الظواہری ڈرون حملے میں‌ ہلاک

شیئر کریں:

امریکا کے صدر جو بائیڈین نے القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کو ڈرون حملے
میں‌ ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے. ایمن الظواہری 9 الیون کے حملوں میں‌ امریکا کو
مطلوب تھے. امریکا نے ظواہری کو انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں سب سے
اوپر رکھا ہوا تھا.

ایمن الظواہری کو افغانستان میں‌ ڈرون کے ذریعے حملے میں‌ مارنے کا دعوی کیا
گیا ہے. جو بائیڈن نے ایک تقریب میں‌ خطاب کے دوران طواہری کی ہلاکت کا اعلان
کیا اور کہا کہ اس سے نائن الیون حملوں‌ میں‌ مارے جانے والوں‌ کے دلوں‌ کو ضرور
سکون ملا ہو گا.
الظواہری کو اتوار کو ہلاک کیا گیا 2011 میں‌ اسامہ بن لادن کے بعد لقاعدہ کا یہ
سب سے بڑا نقصان ہوا ہے. جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ رواں‌ سال ظواہری کی اپنے
اہل خانہ کے ساتھ کابل میں‌ موجودگی کا علم ہوا لیکن اس کارروائی میں ان کے
ساتھ کوئی نہیں مارا گیا.
حملے کے وقت ظواہری اپنے گھر کی بالکونی میں‌ کھڑے
تھے ان پر دو میزائل داغے گئے.طالبان نے بھی حملے کی تصدیق کر دی ہے۔
امریکا نے ظواہری کی افغانستان میں موجودگی کو دوحہ معاہدے کی سراسر خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ معاہدہ کے مطابق طالبان نے کسی دہشت گرد تنظیم کو اپنے ملک میں جگہ نہیں دینی اور ظواہری کا کابل میں پایا جانا افغان عوام سے بھی غداری کے مترادف ہے۔
ایمن الظواہری کا مصر سے تعلق تھا اور امریکا نے ان کے سر کی قیمت 25 ملین ڈالر مقرر کر رکھی تھی۔


شیئر کریں: