افغانستان کے لیے پاکستان کی 5 ارب روپے کی امداد

شیئر کریں:

وزیر اعظم عمران خان نے افغانستان کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پاکستان کی طرف سے 5 ارب روپے کی امداد کی منظوری دے دی ہے۔
وزیر اعظم نے افغانستان کے لیے خصوصی طور پر قائم بین الوزارتی رابطہ سیل کا دورہ کیا۔ وزیر اعظم کی زیر صدارت افغانستان کے لئے قائم ایپیکس کمیٹی کے اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، مشیر خزانہ شوکت فیاض ترین، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، قومی سلامتی مشیر ڈاکٹر معید یوسف اور اعلی حکام شریک ہوئے۔
قومی سلامتی مشیر ڈاکٹر معید یوسف نے ایپیکس کمیٹی کو افغانستان کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انسانی ہمدردی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹننے کے لیے افغانستان کے لیے 5 ارب روپے کی امدادی پیکیج کی منظوری دی گئی۔
امدادی اشیاء میں 50ہزار میٹرک ٹن گندم، ادویات و میڈیکل سامان اور سردیوں کے لیے سامان شامل ہے۔ اجلاس نے
افغانستان سے پاکستان اہم درآمدات پر سیل ٹیکس میں کمی کی اصولی منظوری دی۔
وزیراعظم نے کہا پاکستان کی سرحدوں سے داخل ہونے والے تمام افغانی باشندوں کے لیے مفت COVID-19 ویکسینیشن جاری رہے گی۔
انسانی ہمدردی کی بنیاد پر وزیر اعظم نے افغانستان کے لیے ہندوستان کی طرف سے 50 ہزار میٹرک ٹن امدادی گندم جو کہ پاکستان سے گزر کر جانی ہے، کی راہداری کی اجازت دی۔
وزیر اعظم نے ہدایت دی کہ علاج معالجے کے لیے ہندوستان میں پھنسے ہوئے افغانیوں کی پاکستان کے راستے وطن واپسی میں مدد کی جائے۔
افغانیوں کی سہولت کے لیے پاکستانی ویزا کے حصول کو آسان بنانے اور زیادہ سے زیادہ تین ہفتوں کے اندر اجرا کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
وزیر اعظم نے افغانستان کی امداد کے لیے اقدامات اور بارڈر مینیجمنٹ کی ستائش اور اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے
افغان باشندوں کی ہر ممکن مدد کی جائے۔ پشاور تا جلال آباد بس سروس کی بحالی کی ہدایت دی۔ بارڈرز پر تعینات اہلکاروں کی استعداد کار بڑھائی جائے اور سرحدوں کی صوابدیدی بندش نا کی جائے۔


شیئر کریں: