افغانستان میں طالبان کے دوسرے دور کا آغاز، بریف کیس سیاستدان فرار

شیئر کریں:

تحریر این آر

افغانستان میں 15 اگست 2021 سے طالبان کے دوسرے دور کا آغاز باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ 9 الیون 2001 کے بعد افغانستان پر مسلط کی گئی جنگ کا فی الحال خاتمہ ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی 1996 میں طالبان حکومت ختم ہونے پر بیرون ملک سے بریف کیس لے کے افغانستان بھیجے جانے والے سیاستدان واپس اپنے اپنے اصل ملکوں کی جانب لوٹ گئے ہیں۔

افغانستان میں بھارت کو بدترین شکست، 20 سال کی سرمایہ کاری ڈوب گئی

صدر اشرف غنی سقوط کابل سے سے ایک روز تک مسلسل کہتے رہے فوج کو دوبارہ سے ہم منظم کر رہے ہیں۔ انہوں نے طالبان کے اثر سے محفوظ کئی شہروں کا بھی دورہ کیا اور طالبان مخالف جنگوؤں کو ساتھ ملانے کی کوششیں کیں لیکن سب ناکام ثابت ہوئیں۔
افغانستان کا ہر باسی جنگوں سے تنگ آچکا ہے۔ چالیس سال سے ایک جنگ کے بعد دوسری اور ناختم ہونے والے سلسلے وہ تنگ آچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ طالبان نے بغیر لڑے پورے افغانستان پر قبضہ کیا ہے۔

شمالی اتحاد کے جنگجوؤں نے بھی کوئی مزاحمت نہیں کی 1996 میں طالبان ملک کے شمالی حصوں پر مکمل قبضہ کرنے میں ناکام رہے تھے۔ آخر وقت تک پنج شیر طالبان کی دسترس سے باہر رہا۔
ذرائع کہتے ہیں اس مرتبہ امریکا اور اشرف غنی مخالف سابق صدر حامد کرزئی نے طالبان کی فتح میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔
کابل ایک بار پھر سے طالبان نے فتح تو کر لیا لیکن دیکھنا اب یہ ہے کہ داعش اور دیگر طالبان مخالف گروپس خاموش بیٹھتے ہیں یا پھر گوریلا لڑائی کا آغاز کرتے ہیں۔

خیال رہے سابق صدر حامد کرزئی چند سال پہلے بیان دے چکے ہیں عراق اور شام میں داعش کی شکست کے بعد امریکا نے خصوصی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے بچ جانے والے جنگجوؤں کو افغانستان کے سرحدی علاقوں میں بیٹھا دیا ہے۔
افغانستان میں بزور طاقت اقتدار کی منتقلی کا سلسلہ ہر کچھ عرصے بعد جاری ہے لیکن اس مرتبہ کچھ ہی مختلف ہوا ہے۔
امید ہے طالبان اپنے دوست ممالک کے ساتھ مل کر صورت حال پر کنٹرول کر لے گی اور خطے میں نئے دور کا آغاز ہو گا۔


شیئر کریں: