افغانستان میں انسانی المیہ،طالبان اورپڑوسی ممالک کو ڈالرز ملیں گے

شیئر کریں:

طالبان حکومت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے اور معمولات چلانے کے لیے فوری طور پر عالمی امداد کی اشد ضرورت ہے اگر امداد نہ کی گئی تو افغانستان کے حالات ایک بار پھر سے خراب ہونے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ اسی خدشہ کو مدنظر رکھتے ہوئے جی 20 ممالک کی اطالوی وزیر اعظم ماریو دراغئی کی سربراہی میں ہنگامی سربراہ کانفرنس ہوئی۔
کانفرنس میں رکن ممالک کے سربراہان نے افغانستان میں انسانی المیہ پیدا ہونے سے روکنے کے لیے طالبان کے ساتھ مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا لیکن ساتھ ہی طالبان سے بات چیت میں جڑے رہنے کا فیصلہ بھی کیا۔

یورپی یونین نے ہنگامی انسانی بنیاد پر طالبان کی مدد کرنے کے لیے منگل کو بحث کا آغاز کیا اس مقصد کے لیے طالبان حکومت کو انسانی بحران روکنے کے لیے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر دی جائے گی لیکن اس پر تمام ممالک کا اتفاق کرنا ضروری ہے۔ اسی امداد میں سے افغانستان کے ان پڑوسی ممالک کی بھی مدد کی جائے گی جنہوں نے سقوط کابل کے بعد ہجرت کرنے والوں کو پناہ دی ہے۔
اس ورچول کانفرنس میں جی 20 رکن ممالک کے سربراہان شریک ہوئے لیکن چین اور روس نے اپنے نمائندوں کے ذریعے شرکت کی۔ اٹلی کے وزیراعظم کی سربراہی میں ہونے والی کانفرنس کے موقع پر دوحہ میں 15 اگست کے بعد طالبان قیادت کی امریکا اور یورپی یونین وفد کے ساتھ پہلی براہ راست ملاقات ہوئی۔
اطالوی وزیر اعظم نے کانفرنس کے بعد کہا ہے کہ افغانستان کے بحران پر یہ پہلا عالمی ردعمل تھا جو کہ موجودہ حالات میں انتہائی مشکل دیکھائی دے رہا تھا لیکن سب کا سرجوڑ کر بیٹھنا معاملے کی سنگینی کا ادراک ہے۔
افغانستان کے بحران فوری طور پر ختم کرنے پر سب شرکا نے درمیان اتفاق پایا گیا ہے۔ کیونکہ افغانستان کے بیرون ملک اثاثے منجمند کیے جاچکے ہیں۔ بینکوں کے پاس پیسہ ختم ہو چکا ہے۔ سرکاری ملازمین بغیر تنخواہوں کے کام کر رہے ہیں۔ مہنگائی آسمان پر پہنچ چکی ہے۔ بحرانی کیفیت میں لاکھوں لوگوں کی زندگی کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں اگر ابھی صورت حال پر قابو نہ پایا جاسکا تو آنے والے سرد موسم میں معمالات ہاتھ سے نکل جائیں گے۔
اجلاس میں اس پر بھی بات کی گئی کہ طالبان کی حکومت کو ابھی کسی ملک نے تسلیم نہیں کیا اس لیے امداد طالبان کو دینے کے بجائے عالمی اداروں کے ذریعے ان کی مدد کی جانی چاہیے۔
چین نے اس موقع پر زور دے کر کہا ہے افغانستان پر عائد معاشی پابندیاں طوری طور پر اٹھائی جانی چاہئیں اور بیروں ملک منجمند کیے گئے اثاثے فوری طور پر کابل کے حوالے کیے جائیں۔


شیئر کریں: