اسپین میں پاکستانی منشیات فروشوں کے خلاف بڑا آپریشن

بارسلونا سے کرن خان

اسپین کے شہر بارسلونا اور ملحقہ شہروں میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑا آپریشن کیا گیا۔
بارسلونا، بادالونا، ایل پرات دے یوبریغات اور کورنیا کے علاقوں سے درجنوں افراد گرفتار کیے گئے۔
سرچ آپریشن کے دوران 37 گھروں میں کارروائی کر کے 61 مشتبہ ملزمان دھر لیے۔

اطلاعات کے مطابق منشیات فروشوں نے مکانوں میں اڈے بنا رکھے تھے۔
پولیس نے ساڑھے پانچ لاکھ یورو سے زائد مالیت کی 6 کلو ہیروئن اور کوکین قبضہ میں لے لی۔
ماریوانا کے 350 پودے، کرنسی اور 118 موبائل فون بھی قبضے میں لیے۔

بارسلونا میں اپنی نوعیت کا یہ تیسرا بڑا آپریشن تھا اور کولیسیو نامی یہ آپریشن ایک سال کی
تحقیقات کے بعد کیا گیا۔

آپریشن بنیادی طور پر منشیات فروشی کرنے والے ایسے منظم افراد کے خلاف کیا گیا جن کا
تعلق پاکستان سے ہے۔
اِن افراد کو منشیات فروشی میں رومانیہ اور نائیجیریا کے گروپوں کی معاونت بھی حاصل تھی۔


پاکستان سے تعلق رکھنے والے افراد منشیات آگے فروخت کیا کرتے تھے اور لاک ڈاؤن کے دوران
یہ کام عروج پر رہا۔
پولیس کے مطابق منشیات فروشوں کے خلاف جون 2019ء آپریشن میں گرفتار سرغنہ گروپ
جیل سے ہی چلا رہا تھا۔
دھندہ اور گروپ چلانے سے متعلق تمام احکامات وہ جیل سے ہی دیا کرتا تھا۔

پولیس تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ منشیات فروشی کے بعض ماہر لوگوں کو پاکستان
رومانیہ اور اسپین کے دیگر شہروں سے بارسلونا لایا گیا تھا۔

بارسلونا میں قبضہ شدہ مکانوں کو منشیات فروشی کے اڈے اور اسٹورز کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔
اس آپریشن کے دوران گرفتار افراد سے تفتیش کے بعد مزید کارروائیوں کا بھی امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

اسپین میں آباد پاکستانی کمیونیٹی نے منشیات فروشی کے گھناؤنے کاروبار سے منسلک افراد کی مزمت کی ہے۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے افراد ملک کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں اور ان کی وجہ سے دوسرے افراد کو
بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔

یاد رہے رواں سال فروری کے مہینے میں بھی پاکستان سے تعلق رکھنے والے درجن سے زائد افراد کو
منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔