اسمگلرز نے لڑکیوں کو بچے پیدا کرنے کی فیکٹریاں بنادیا

نائیجیریا میں انسانی اسمگلنگ کا دھندہ انتہائی مکروع شکل میں جاری ہے۔
بوکو حرام کے اسمگلرز نے نائجیریا کی غریب لڑکیوں کو بچے پیدا کرنے کی مشینوں میں تبدیل کردیا۔

انسانی اسمگلر ملک بھر سے لڑکیوں کو اپنے مخصوص اڈوں پر اغوا کرکے لاتے ہیں۔
ان لڑکیوں کے ساتھ بوکو حرام کے دہشت گرد کئی کئی ماہ تک مسلسل زیادتی کرتے ہیں۔

زبردستی قائم کیے گئے جسمانی تعلقات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچوں کو دنیا بھر میں اسمگل کر دیا جاتا ہے۔
نائیجیریا میں سترہ سالہ مریم نے اپنے اغوا اور اس کے بعد ہونے والے انسانیت سوز سلوک کے بارے میں بتایا کہ وہ خانہ جنگی سے متاثر لوگوں کے کیمپ میں موجود تھی ۔

وہ ایک دن کیمپ سے باہر نکل کر پینے کا پانی لینے کے لیے باہر گئی جہاں اس سے آنٹی کیکی نامی خاتون نے رابطہ کیا۔
مریم کو آنٹی کیکی کی طرف سے نوکری کی آفر کی گئی۔
کیکی نے مریم سے پوچھا کہ اگر وہ نائیجیریا کے شہر انوگو میں نوکرانی کے طور پر ایک گھر میں کام کرنا چاہے؟
مریم نے بتایا کہ وہ کیمپ کی زندگی سے تنگ تھی اور اچھی آمدن کی خواہش میں کام کرنے کے لیے فوری تیار ہوگئی۔
مریم نے اپنی چچا زاد بہن رودا کو بھی اس نوکری کے بارے میں اور اسے آنٹی کیکی سے ملنے کا کہا۔ آنٹی کیکی نے رودا کو بھی نوکری دلانے کا وعدہ کیا۔ اس طرح وہ دونوں آنٹی کیکی کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہوگئی۔
دونوں لڑکیوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا کہ ان کی تنخواہ بہت اچھی ہوگی اور دونوں بہنیں ایک ہی جگہ پر رہیں گی۔
دونوں لڑکیوں نے اپنے بیگ تیار کیے اور آنٹی کیکی کے ساتھ سفر پر نکل گئی۔ لڑکیوں کا پہلا پڑاؤ نائیجیریا کے شہر میدگوری میں تھا جہاں ان نے ایک رات گزاری اور اگلے دن نو گھنٹے کی طویل سفر کے بعد انوگو پہنچ گئی۔
انوگو پہنچنے پر دونوں لڑکیوں کو ماما نامی خاتون کے حوالے کردیا گیا۔
مریم نے بتایا کہ ان کو انوگو میں ایک کمپاونڈ کر لے جایا گیا جہاں دو فلیٹس میں تین کمرے تھے اور وہاں پہلے سے جوان لڑکیاں موجود تھیں جن میں کچھ لڑکیاں حاملہ بھی تھیں۔
مریم نے بتایا کہ ماما نامی خاتون نے دونوں بہنوں کو پہلی رات الگ الگ کمروں میں رہنے کو کہا حلانکہ دیگر لڑکیاں ایک ہی کمرے میں رہ رہی تھیں۔
مریم نے مزید بتایا کہ رات گئے اس کے کمرے میں ایک آدمی آیا جس نے اس کے ہاتھ باندھ کر پرتشدد انداز میں اسے زیادتی کا نشانہ بنایا۔

اگلی صبح جب وہ اپنی چچا اس بہن سے ملی تو اس نے بھی کچھ ایسا ہی واقعہ سنایا۔
دونوں لڑکیوں کو روزانہ کئی کئی آدمی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے اور دونوں ہی بہنیں ایک ماہ کے عرصہ میں حاملہ ہوگئی۔
اس وقت مریم کی عمر سترہ برس تھی۔ مریم نے مزید بتایا کہ ان کو حاملہ حالت میں ہی مسلسل چھ ماہ تک روزانہ زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ اس ساری صورت حال میں وہاں سے بھاگنا ناممکن تھا کیوں کہ کمپاونڈ کے اردگرد اسلحہ بردار گارڈ موجود ہوتے تھے۔
مریم کا کہنا ہے جب انہیں کمپاونڈ میں لایا گیا اس وقت وہاں درجن بھر لڑکیاں تھیں لیکن وہ لڑکیاں جو بچوں کو جنم دے دیتی تھیں ان کو وآپس بھیج دیا جاتا اور ان کی جگہ نئی لڑکیاں آجاتی۔
مریم نے بتایا کہ اس کے ہاں لڑکے کی پیدائش ہوئی جسے زبردستی الگ کردیا گیا۔
بچے کی پیدائش کے تین دن بعد مریم کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اسے بس اسٹیشن لایا گیا جہاں سے اسے نائیجیریا کے شمالی حصے کی طرف لے جایا گیا۔
وہاں پر مریم کو تقریبا پچپن امریکی ڈالر کے برابر رقم دی گئی تاکہ وہ کچھ کھانا کھا سکے اور اپنے گھر تک پہنچنے کا کرایہ دے سکے۔
نائیجیریا میں کام کرنے والی این جی اوز کا کہنا ہے کہ بوکو حرام کے مسلح گروپ نائیجیریا میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔
یہ گروپس نوجوان لڑکیوں کو بچے پیدا کرنے والی فیکٹریوں کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
یہ اسمگلر ان بچوں کو دنیا بھر میں اسمگل کرتے ہیں جہاں یا تو ان بچوں سے زبردستی مزدوری کروائی جاتی ہے یا پھر مختلف لوگ ان بچوں کو پالنے کے لیے خرید لیتے ہیں۔
نوجوان لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے بچوں میں اسمگلرز کے نزدیک لڑکوں کی قیمت زیادہ ہوتی ہے۔
این جی اوز کے مطابق اسمگلنگ مارکیٹ میں لڑکوں کو دوہزار سے ستائیس سو امریکی ڈالر کے عوض بیچا جاتا ہے جب کہ نوزائدہ لڑکیوں کی قیمت تیرہ سو سے پندرہ سو ڈالر تک ہوتی ہے۔
نائیجیریا میں غربت ہونے کی وجہ سے نوجوان غریب لڑکیاں ان اسمگلرز کے فریب میں آجاتی ہیں جہاں ان کے ساتھ مسلسل زیادتی کی جاتی ہے اور زیادتی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے بچوں کو مختلف ممالک میں بیچ دیا جاتا ہے۔