اسلام آباد ہائی کورٹ نے پب جی پر عائد پابندی ختم کردی

شیئر کریں:

آن لائن گیم پب جی کے شائیقین دوبارہ گیم کھیلنے کے لیے تیار ہو جائیں۔
آن لائن گیمرز کے لیے بڑی خوش خبری ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پب جی پر عائد پابندی ختم کرنے کا حکم دے دیا۔
نوجوانوں میں مقبول گیم پب جی پر پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھاڑتی نے پابندی عائد کررکھی تھی۔
پی ٹی اے کی طرف سے گیم پر پابندی اس وقت عائد کی جب لاہور میں دو نوجوانوں نے گیم کھیلنے سے روکنے پر خودکشی کرلی تھی۔

پنجابی نوجوان نے والدین کی کل جمع پونجی پب جی گیم کے ہتھیار خریدنے میں خرچ کردی

پولیس اور نوجوانوں کے والدین کی طرف سے الزام عائد کیا تھا کہ
آن لائن گیم پب جی کی وجہ سے نوجوانوں نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔

پب جی کھیلنے والے نوجوان خودکشی کیوں کررہے ہیں؟ حصوصی رپورٹ

پولیس کا کہنا تھا کہ پب جی کی وجہ سے نوجوانوں میں تشدد میں اضافہ ہورہا تھا
اور گیم کے ان کے دماغ پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔
پی ٹی اے نے گیم کو پرتشدد ہونے کی وجہ سے اس پر پابندی عائد کردی تھی۔

نوجوان پب جی کی وجہ سے خودکشیاں کیوں کر رہے ہیں؟

پاکستان میں پب جی پر پابندی کے بعد نوجواں کا شدید ردعمل آیا تھا۔
آن لائن گیمرز کا کہنا تھا کہ گیم پر پابندی کی وجہ سے پاکستان انٹرنیشنل گیمز کے ایونٹ سے باہر ہوسکتا ہے
جس سے ملک کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
وفاقی وزیرسائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے بھی اپنے بیان میں کہا تھا کہ
اگر قومی ادارے آن لائن فورمز پر پابندیاں عائد کرتے رہے تو اس کے آٹی ٹی انڈسٹری پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر نوجوانوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے
اور پب جی کے حق میں ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے۔


شیئر کریں: