اسلام آباد ہائیکورٹ نے ماڈل ایان علی کو عدالت نے بڑا ریلیف دے دیا

شیئر کریں:

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کرنسی اسمگلنگ کیس میں ماڈل ایان علی کے خلاف
انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت انکوائری کی درخواست مستردکردی
ایان علی کے خلاف انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت انکوائری کی درخواست پر سماعت میں
جسٹس غلام اعظم قمبرانی نے پہلے سے محفوظ شدہ فیصلہ سنایا اور
کسٹم کی خصوصی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اس کیخلاف کسٹم حکام کی اپیل مسترد کردی۔

کسٹم کی خصوصی عدالت نے 30 مارچ 2016 ایان علی کےخلاف انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ
کے تحت انکوائری کی درخواست مسترد کردی تھی جس کے بعد
اس فیصلے کیخلاف کسٹم حکام نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔

جج رانا آفتاب احمد نے فیصلے میں کہا تھا کہ ملزمہ
کی ملکیتی رقم کو منی لانڈرنگ کے زمرے میں نہیں لایا جا سکتا۔
کسٹمز کے وکیل عون محمد نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ منی لانڈرنگ ایکٹ
2010 کے تحت کسی جرم کے ذریعے کمائی گئی رقم منی لانڈرنگ کے زمرے میں آتی ہے.

ايان علی کو 14 مارچ 2015 میں دبئی روانگی سے قبل بینظیر انٹرنیشنل ایئر پورٹ
اسلام آباد سے 5 لاکھ ڈالرز سے زائد کرنسی لے جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔
اس کیس میں تقریبا 2 سال تک ایان علی عدالت میں پیش ہوتی رہیں،
تاہم 2017 میں دبئی جانے کے بعد سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئیں۔

دوسری جانب 8 ستمبر2020 کو منی لانڈرنگ کیس میں ماڈل ایان علی
کے وکیل لطیف کھوسہ نے وکالت نامہ واپس لے لیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں کسٹم حکام کی اپیل پر سماعت کے دوران
سردار لطیف کھوسہ کے معاون وکیل نے وکالت نامہ واپس لینے کی استدعا کی تھی
جسے منظور کرلیا گیا۔ معاون وکیل کا کہنا تھا کہ ایان علی اشتہاری ہیں اور وہ خود پیش ہوکر صفائی دیں گی


شیئر کریں: