اسلام آباد کی خوبصورتی کو چارچاند لگانے کیلیےسی ڈے اے کی مہم اور ہماری زمہ داری

شیئر کریں:

تحریر: عمیداظہر
پاکستان کے لیے قابل فخر بات ہے کہ اسلام آباد کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین دارلحکومتوں میں ہوتا ہے.
یہ چمچماتی سڑکیں، لہلہاتے درخت اور سرسبز و شاداب گرین بیلٹس اس شہر کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہے ہیں.
اس شہر بے مثال کی خوبصورتی کے پیچھے ایک ادارے کی انتھک محنت ہے.
اس ادارے کے افسران اور ملازمین کی دن رات کی محنت کی بدولت اسلام آباد کا حسن نکھرتا جارہا ہے.
شہر کو مزید خوبصورت کرنے کے لیے اسلام آباد کے ترقیاتی ادارہ کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی سی ڈی اے انتظامیہ کی جانب سےے بڑے پیمانے پر صفائی اور پھولدار پودے لگانے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔

شہر کی خوبصورتی میں اضافے کیلیے موسم بہار سے پہلے ہی پارکس،
گرین بیلٹس، پلے گرائونڈز، شاہراہوں اور گلی محلوں میں پودے لگائے جارہے ہیں۔
پورے اسلام آباد کے پارکس میں پہلے سے موجود سہولتوں کو مزید بہتر بنایا جارہا ہے۔

پارکس میں سائیکلنگ، واکنگ اور جاگنگ ٹریکس بھی بنائے گئے ہیںَ
‎ شہریوں کی سہولت کیلیے پارکس میں لائٹس بھی لگائی جارہی ہیں۔
دامن کوہ، منی چڑیا گھر اور سید پور گاؤں میں قدرتی حسن کو بھی مزید نکھارا جا رہا ہے۔
سی ڈی اے کے بہتر انتظامات سے اسلام آباد کے شہری قدرتی ماحول سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔
ٹریل فائیو کی بہتری کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔

گرین بیلٹس کو ٹھیک کیا جا رہا ہے ماحول دشمن پودوں کو ختم کر کے ماحول دوست پودے لگائے جا رہے ہیں۔
سی ڈی اے کے محکمہ جنگلات کی جانب سے شہر میں قدرتی ماحول کی فراہمی کے کام جاری ہیں۔
ریکارڈ ترقیاتی کام کی وجہ سے شہر کے ماحول اور آب و ہوا میں بہتری سے شہریوں کو خوشگوار ماحول میسر آیا ہے۔

شہر کی مرکزی، چھوٹی بڑی شاہراہوں اور سڑکوں کی کارپٹنگ کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔
چند ماہ کے دوران سیکٹر آئی الیون،آئی چودہ،آئی ایٹ،آئی نائن،
آئی ٹین ،جی و ایچ سیریز کی باقی ماندہ شاہراہوں کی مرمت اور کارپٹنگ کی جارہی ہے۔

اسی طرح 2020 کے دوران10 ہزار اسٹریٹ لائٹس چالو کی گئیں۔
شہر اقتدار کی 53فیصداسٹریٹ لائٹس روشن کردی گئی ہیں اور
اگلے دو ماہ میں 100فیصد اسٹریٹ لائٹس روشن کردی جائیں گی۔
صفائی اور پاکیزگی کو نصف ایمان قرار دیا گیا گیا ہے اور
ان کے بغیر عبادت بھی قبول نہیں ہو سکتی۔ بحیثیت انسان جسم کے
ساتھ ساتھ لباس، جگہ اور اردگرد کا ماحول بھی پاکیزہ رکھنا چاہیے۔

دنیا کا تقریباً ہر مذہب صفائی کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔
صفائی ستھرائی انسان کو بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔
اگر ہم اپنے جسم اور لباس صاف رکھیں لیکن اردگرد کا ماحول صاف نہ ہو تو ہماری صفائی کسی کام کی نہیں۔
صفائی برقرار رکھنا صرف حکومت یا انتظامی اداروں کی ذمہ داری نہیں
بلکہ بحیثیت شہری یہ ہم سب کا فرض ہے کہ ہم اپنے گھر، گلی اور محلے کو صاف رکھیں۔
کوڑا کرکٹ نالیوں میں پھینکنے کے بجائے کوڑا دانوں میں ڈالیں تاکہ ماحول صاف ستھرا رہے۔


شیئر کریں: