اسرائیل کی مزمت نہیں کریں گے بس امداد لے لو

حماس میں‌ فلسطینیوں پر حملوں اور ان کی نسل کشی پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت تمام ممالک
کے سربراہان خاموش رہتے ہیں. اسرائیل کی بربریت اور جارحیت پر دو لفظ بولنا گوارا نہیں کرتے.
اسرائیل کی بمباری سے بڑے، بوڑھے، جوان اور بچے تڑپ تڑپ کے جان دے رہے ہوتے ہیں. اسپتال اور تعلیمی
ادارے ملیا میٹ کر دیے جاتے ہیں لیکن یہ دیکھتے رہتے ہیں.

حماس کے حملوں‌ میں 900 اسرائیلی ہلاک

تباہی و بربادی کے بعد امداد ضرور بھیج دیتے ہیں. کئی سالوں‌ میں پہلی اتنی بدترین لڑائی کے دوران 800 سے زائد
فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں. مجال ہے جو کسی نے مظلومین کی حمایت اور ظالم کی مزمت کی ہو.
مقامی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات نے فلسطینیوں کے لیے 2 کروڑ ڈالر کی امداد بھجوانے کا اعلان کیا ہے۔
اماراتی صدر محمد بن زاید نے فلسطینیوں کے لیے 20 ملین ڈالر کی ہنگامی امداد کا حکم دیا ہے جو اقوام متحدہ کی
امدادی ایجنسیوں کے ذریعے غزہ بھیجوائی جائے گی۔
متحدہ عرب امارات تو پہلے ہی مظلوم فلسطینیوں کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ سفارتی
تعلقات قائم کر چکا ہے. اس نے بحرین کو بھی ابراہم معاہدے میں شامل کر لیا تھا.
مشرق وسطی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حماس اگر اسرائیل پر حملے نہ کرتا تو سعودی عرب بھی ابراہم معاہدے
میں شامل ہو جاتا اس نے اپنے ساتھ دیگر 6 ممالک کو بھی اسرائیل سے ملوا دیتا.

غزہ میں زلزلے سے بھی بدتر تباہی

اسرائیل نے غزہ کی 23 لاکھ آبادی کے گرد آہنی دیوار بنانی شروع کردی ہے. فلسطینیوں پر زمینی، فضائی اور بحری
تمام راستے بند ہیں. پانی اور خوراک کی ترسیل بھی بند کردی گئی ہے. مجال ہے جو عرب ممالک نے اسرائیل کے
ظالمانہ فعل کی مخالفت کی ہو.
ماہرین کہتے ہیں عرب عوام دل و جان سے فلسطینی عوام کے ساتھ ہیں‌. وہ اپنے حکمرانوں کے خوف کی وجہ سے
مظلومین کی حمایت میں سڑکوں پہ نہیں آسکتے لیکن وقت آرہا ہے جہ عرب عوام اپنے بادشاہوں کے خلاف باہر
نکل آئیں گے.