اسرائیل کی شام عراق سرحد پر شدید بمباری ایرانی مفادات کو نقصان

شیئر کریں:

اسرائیل کی فضائیہ کی جانب سے ایران کے مفادات پر شام اور عراق کی سرحد پر شدید بمباری کی گئی ہے ۔
شام کے شمال سرحدی علاقے دیر ایزور میں رات گئے بمباری کی گئی بمباری کی آوازیں دور تک سنیں گئیں۔
شام کے میڈیا کا کہنا ہے کہ حملے سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔
جس علاقے میں بمباری کی گئی ہے یہاں اسلحہ کے ڈپو اور ایران نواز ملیشیا موجود تھی۔
خیال رہے اسرائیل کی جانب سے پچھلے تین ہفتوں کے دوران یہ تیسرا بڑا حملہ ہے۔
اسرائیل علاقے میں ایرانی مفادات کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔

دسمبر میں ایران کے سائنسدان محسن فخری زادے کو تہران میں قتل کیے جانے کے بعد سے
خطے میں کشیدگی بڑھی۔
ایران نے حملہ کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ساتھ ہی کہا تھا کہ وہ اسرائیل اور امریکا میں جال میں
پھنسے بغیر اپنے مقررہ وقت پر اہداف کو نشانہ بنائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی پوری کوشش ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے جاتے جاتے ایران کو وہ جتنا
نقصان پہنچا سکتا ہے وہ کام انجام دے لے۔

نومنتخب صدر جو بائیڈن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ پر واپس جائیں گے۔
یہی وجہ ہے کہ ایران اسرائیلی حملوں پر فوری کوئی بھی ردعمل نہیں دے رہا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے مسلسل شام اور عراق کے سرحدی علاقوں میں حملے کیے جارہے ہیں۔
ایران صرف امریکا میں اقتدار کی منتقلی تک صورت حال کو انتہائی باریک بینی سے دیکھ رہا ہے۔
ممکنہ طور پر 20 جنوری کے بعد خطے کے حالات میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔
ڈیموکریٹ صدر جو بائیڈن نے ڈونلڈ ٹرمپ دور کی بعض پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہے۔
ٹرمپ امریکی کانگریس کیپٹل ہل پر حملے کے بعد سے مسلسل اعتاب کا شکار پہلے ہو چکے ہیں۔


شیئر کریں: