اسرائیل کا جنگی جنون اور ایٹمی پروگرام بڑا خطرہ

تحریر محمد رضا سید

اسرائیل کی ایٹمی ہتھیار رکھنے سے متعلق انکار پر مبنی پالیسی جسے اکثر ایٹمی ابہام یا سیمسن آپشن کہا جاتا ہے. جوہری صلاحیتوں کے
کھلے عام اعلان سے سامنے آنے والی پیچیدگیوں اور جانچ پڑتال سے گریز کرتے ہوئے ممکنہ مخالفین کو روکنے کیلئےڈیزائن کی گئی
تھی تاہم فلسطینیوں کے طوفان الاقصیٰ آپریشن نے اسرائیل کا ایٹمی ہتھیار رکھنے کا پول کھول دیا ہے.

نیویارک ٹائمز نے بھانڈا پھوڑ دیا

نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 7 اکتوبر کو حماس کی طرف سے داغے گئے ہزاروں راکٹوں میں سے ایک راکٹ یا چند
راکٹ وسطی اسرائیل میں اسڈٹ مچہ فوجی اڈے پر گرے جہاں ایٹمی میزائل رکھے گئے تھے. راکٹ نے براہ راست میزائلوں
کو نشانہ نہیں بنایا لیکن اس سے آگ بھڑک اٹھی جو میزائل ذخیرہ کرنےکی سہولیات اور دیگر حساس ہتھیاروں کی طرف پھیل گئی.

غزہ پر اسرائیلی جارحیت، جنگی اخراجات اور داخلی دباؤ

اسرائیلی حکومت نے ابھی تک ایٹمی مواد سے نکلنے والی تابکاری سے فوجی اڈے اور آس پاس کی آبادی کو پہنچنے والے نقصان
کے بارے کسی قسم کی خبر جاری نہیں کی اوراس فوجی اڈے کو خالی کرالیا گیا ۔
عالمی جوہری توانائی ایجنسی نے واضح اطلاعات سامنے آنے کے باوجود ابھی تک باقاعدہ جانچ پڑتال کا آغاز نہیں کیا جو ایران،
شمالی کوریا اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر کڑی نظریں جمائے رکھنے کو اپنی اوّلین ذمہ داری سجھتا ہے.
فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس کے نیوکلیئر انفارمیشن پروجیکٹ کے ڈائریکٹر ہنس کرسٹینسن کے مطابق حماس کی طرف سے چلائے
گئے راکٹوں سے متاثرہ اسرائیلی فوجی اڈے پر 25 سے 50 جوہری صلاحیت کے حامل جیریکو میزائل لانچر موجود تھے. اس بات پر
یقین ہے کہ اقوام متحدہ کے تحت عالمی جوہری توانائی ایجنسی اسرائیل کے خلاف پابندیاں عائد نہیں کرئے گی اور نہ ہی اس
معاملے کو سلامتی کونسل میں پیش کرئے گی حالانکہ عالمی ادارے کے حل وعقد کو معلوم ہے کہ اسرائیل کے خلاف کسی بھی
قرارداد کو امریکہ، برطانیہ اور فرانس ایک ساتھ وٹو کردیں گے۔

اسرائیلی وزیر کا اعتراف

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ سامنے آنے سے قبل گزشتہ ماہ نومبر کے اوائل میں اسرائیلی ثقافتی ورثہ کے وزیر امی ہائی الیاہو نے ایک
ریڈیو انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ غزہ میں فلسطینیوں سے نمٹنے کیلئے جوہری آپشن ایک راستہ ہو گا جس کا واضح مطلب یہ تھا کہ اسرائیل
کے پاس نہ صرف جوہری ہتھیار ہیں بلکہ وہ انہیں استعمال کرنے کیلئے بھی تیار ہے. اسرائیل نے کبھی ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی
اور تعداد کے بارے میں سرکاری طور پر اپنے موقف سے آگاہ نہیں کیا ہے. ایٹمی ہتھیاروں کے ماہرین اور بین الاقوامی اداروں
کا کہنا ہےکہ اسرائیل کے پاس سو سے زائد ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں۔

1973 کی جنگ اسرائیل نے کیسے جیتی؟

سنہ1973ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران جب گولان پہاڑیوں سے عرب فورسز اسرائیل پر بمباری کررہے تھےاور اسرائیلی
فوجی طاقت تباہ ہورہی تھی تو اُس وقت کی اسرائیلی وزیراعظم گولڈامئیر حماس کی اعلی قیادت کو قطر اور ترکی میں قتل کرنے کا مںصوبہ نے عرب دارالحکومتوں پر ایٹمی بم گرانے کے اپنے عزم
سے عرب حکمرانوں کو بین الاقوامی قوتوں کے ذریعے آگاہ کردیا تھا، جس کے بعد جنگ کا پانسہ ہی بدل گیا. اسرائیل نے نہایت
چابک دستی اور مکاری سے گولان پہاڑیوں کے فوجی اہمیت رکھنے والے ٹیلوں پر قبضہ کرلیا تھا اور آج تک برقرار ہے۔

جوہری توانائی ایجنسی کا دوہرا معیار

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے اسرائیل کے ایٹمی ہتھیاروں کے منصوبے سےہمیشہ صَرْفِ نَظَر کی اور جواز یہ پیش کیا گیا کہ
اسرائیل نے این پی ٹی معاہدے پر دستخط نہیں کئے ہیں لہذا اسرائیل کے ایٹمی پروگرام کو ایجنسی مانیٹر نہیں کرسکتی۔
یہاں عالمی طاقتوں اور بالخصوص امریکہ کی منافقت آشکار ہوتی ہے جو ایک غاصب ریاست اسرائیل کو تو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت
دیتی ہے مگر امریکہ اور یورپی ممالک پاکستان پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ وہ این پی ٹی اور سی ٹی بی ٹی پر دستخط کردے، امریکہ اسرائیل اور
ہندوستان کو سی ٹی بی ٹی اور این پی ٹی پر دستخط کرنے کیلئے دباؤ نہیں ڈالتا . یہی امریکہ پریسلر ترمیم کے ذریعے پاکستان پر پابندیاں
عائد کرتا ہے اور پاکستان جیسے غریب ملک کے مالی اثاثےمنجمد کردیتا ہے. اس دوہرے معیار نے ہی دنیا کیلئے ایٹمی خطرات
بڑھائے ہیں۔
اسرائیلی حکومت کا جوہری ہتھیاروں سے متعلق ابہام پر مبنی موقف کئی دہائیوں سے غاصب اسرائیل کی عرب حکومتوں پر بالادستی
قائم رکھے ہوئے ہے اور یہ اس کی مستقل پالیسی رہی ہے لیکن یہ ابہام 7 اکتوبر کے طوفان الاقصیٰ ختم کردیا ہے. جب اسرائیل
کے وزیر نے فلسطینیوں کے خلاف ایٹمی ہتھیار آزمانے کا عندیہ دیا اور نیویارک ٹائمز کی تازہ رپورٹ نے ثابت کردیا کہ اسرائیل ایٹمی
ہتھیار نہ صرف رکھتا ہے بلکہ اسے استعمال کرنے کیلئے بھی تیار رہتا ہے۔

عرب ممالک کو کیا کرنا چاہیے؟

عرب حکومتیں اسرائیل کی مستقل بنیادوں پر عربوں کے خلاف جارحانہ پالیسیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے سعودی عرب سمیت عرب
حکومتوں کو چاہیئے کہ وہ این پی ٹی اور سی ٹی بی ٹی معاہدے سے احتجاجاً باہر نکل آئیں اور ایٹمی ہتھیار بنانے کیلئے پیش بندی کرنا
شروع کردیں . مسلم دنیا کو یاد رکھنا چاہیئے کہ 1981 ء میں اسرائیل نے امریکہ کے فراہم کردہ ایف 16 طیاروں کی بدولت عراق
کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کردیا تھا صرف اس خدشے کے پیش نظر کہ عراق ایٹمی طاقت رکھنے والاملک نہ بن جائے.
امریکہ ہی سعودی عرب کے ایٹمی پروگرام میں اصل رکاوٹ ہے. امریکہ عربوں یا کسی بھی مسلم ملک کو ایٹمی طاقت نہیں دیکھنا
چاہتا کیونکہ اسرائیل کے سو سے زائد ایٹمی ہتھیار اُسے دنیا کے نقشے سے مٹانے سے نہیں بچاسکتے کیونکہ اسرائیل کو صفحہ ہستی سے
مٹانے کیلئے ایک ہی بم کافی ہوگا۔

بائیڈن مشکل میں پھنس گئے

غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل جارحیت امریکی سیاست پر بری طرح اثرانداز ہورہی ہے. امریکی صدر کی اسرائیلی جارحیت
کی حمایت نے ڈیموکریٹس کے مستقل ووٹرز نے بائیڈن کیلئے اپنی حمایت کم کردی ہے. بائیڈن انتظامیہ امریکی عوام میں بڑھتے
ہوئے غم و غصے کا سبب بن رہی ہے. امریکی ووٹرز کا کہنا ہےکہ ہمارا ملک بنیادی طور پر بڑے پیمانے پر جنگی جرائم کی مدد اور
حوصلہ افزائی کر رہا ہے. سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آج الیکشن ہوئے تو بائیڈن ٹرمپ کو شکست دینے میں ناکام رہیں گے
کیونکہ وہ ترقی پسند ووٹرز اور امریکی مسلمانوں سمیت اہم حلقوں کی حمایت کھو چکے ہیں۔