اسرائیلی عتاب کی شکار غزہ کی پٹی کسے کہتے ہیں؟

اسرائیل نے فضائی بمباری کر کر کے حماس کے گڑھ غزہ کی پٹی کو تباہ و برباد کر دیا ہے. اس وقت بھی
زمینی فوج آپریشن کررہی ہے. ساتھ ہی فلسطینیوں سے غزہ خالی کرنے کا کہہ دیا گیا ہے.
آخر یہ غزہ کی پٹی ہے کیا اور کیوں بار بار یہی علاقہ سالہا سال سے اسرائیلی جارحیت کا نشانا بنایا جاتا
رہا ہے.

غزہ کی پٹی

فلسطین کی سرزمین پر غزہ کی پٹی انتہائی گنجان آباد علاقہ ہے. صرف 362 کلو میٹر کی اس پٹی پر 23 لاکھ
سے زائد فلسطینی آباد ہیں. اس علاقے کے لوگوں نے کئی دہائیوں سے امن و سکون نہیں دیکھا. خوش حالی
تو کبھی چھو کے بھی نہیں گزری. غربت کی انتہائی نچلی سطح پر زندگی گزارنے والے فلسطینی مسلسل
قید میں رہ رہے ہیں.

مصر میں اسرائیلی سیاحوں کی بس پر فائرنگ

غزہ کی پٹی کی سرحد شمال مشرف میں اسرائیل، جنوب میں مصر اور مغرب میں بحیرہ روم سے ملتی ہے.
اپنی ہی زمین پر آباد بدقسمت فلسطینیوں پر زمینی، فضائی اور سمندری راستے بند ہیں. وہ اپنی مرضی سے
باہر نہیں نکل سکتے.
غزہ کی پٹی کے لوگوں پر پہلی بار سفری پابندی 2005-2006 میں لگائی گئی اور پھر 2007 میں مستقل
بنیادوں پر دروازے بند کردیے گئے. غزہ کی پٹی کے فلسطینیوں نے پچھلے 15 سال کے دوران 5 جنگوں
کو بھکتا ہے لیکن 7 اکتوبر والی جنگ کی مثال نہیں ملتی.

1948-49 کی عرب اسرائیل جنگ کے بتن سے صیہونی ریاست معارض وجود میں لائی گئی. غزہ کو مصر
کے زیر انتظام دے دیا گیا.
بات یہیں ختم نہیں ہوئی. 1967 کی 6 روزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے غزہ پر قبضہ کرلیا اور پھر 2005
میں واپس اس علاقہ کو فلسطینیوں کے حوالے کر دیا گیا. اس زمین سے اسرائیل نے اپنے تمام فوجیوں اور
یہودی آبادکاروں کو بھی نکال لیا.

حزب اللہ کے ٹھکانوں پر اسرائیل کی بمباری

حماس کی جانب سے 2006 میں اسرائیلی فوجی کو اغوا کرنے کے بعد غزہ پر زمینی، فضائی اور بحری
راستوں پر پابندی لگا دی گئی. فوجی کو 5 سال بعد رہائی دی گئی. اس وقت غزہ پر معتدل جماعت فتح
موومنٹ کا کنٹرول تھا جس کے سربراہ فلسطینی صدر محمود عباس ہیں.
پھر غزہ کی پٹی کا کنٹرول 2007 میں‌ مزاحمتی جماعت حماس نے حاصل کرلیا جس کے بعد اسرائیل نے
غزہ کی مزید ناکہ بندی کردی. غزہ سے باہر جانے اور آنے کا صرف ہی راستہ رفاع اسرائیل کے کنٹرول
میں نہیں اس کا کنٹرول مصر کے پاس ہے.
غزہ کی معیشت کا انحصار بیرونی امداد پر ہے یہاں‌ کوئی انڈسٹری نہیں. اس کے باسیوں‌ کو خوراک کی
کمی، پانی،ایندھن اور بجلی کے بحران کا سامنا رہتا ہے.