آنجہانی “ڈین جونز” سے محبت قابل رشک لیکن “لگونا” کیسے جڑ گیا؟

شیئر کریں:

رپورٹ اکبر علی

اچھا کھیل کھیل کے چیمپئن بن جائیں تو لوگ واہ واہ کرتے اور خوب داد دیتے ہیں۔

کراچی کنگز تین مہینے کے لیے چیمپئین بنا گیا، لاہور قلندرز کا دھمال نہ چل سکا

لیکن کسی مرے ہوئے شخص کی آڑ میں دکان چمکانا یہ کہاں کا انصاف اور انسانیت ہے۔
پاکستان سپرلیگ فائیو کا پلے آف مرحلہ مشکل حالات میں کراچی میں کامیابی سے مکمل ہوا۔
ہوم گراؤنڈ پر کراچی کنگز فاتح رہا۔

فرنچائز نے ٹائٹل آنجہانی آسٹریلوی کرکٹر ڈین جونز کے نام کیا۔
جو کہ قابل رشک اور تعریف کے لائق عمل ہے لیکن پھر ایک دوسرے عمل نے سارے مزے کو کرکرا کر دیا۔

کراچی کنگز کے میچز میں ڈین جونز کا بورڈ لگایا گیا اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
لیکن یہاں بھی مارکٹنگ والے اپنے بزنس کا تڑکا لگانے سے باز نہ آئے۔
مرحوم کی بورڈ سے خوب دکان چکمائی
زندہ رہے تو سیزن فائیو میں سین کچھ اور تھا۔
مرنے کے بعد ان کے نام سے “اے آر وائی لگونا” کو جوڑ دیا گیا۔
ان کی تصویر فوٹو شاپ کے ذریعے ایڈٹ کیا گیا۔
نئے اسپانسرز کے لوگو آنجہانی کی شرٹ پر لگا دیئے گئے۔
وہ کہتے ہیں تو جو دکھتا ہے وہ ہی بکتا ہے۔
ٹی وی پر بار بار اسے دکھایا گیا۔


اور اس فرنچائز کے اسپانسرز کی تشہیر احسن انداز میں ہوئی۔
واہ کراچی کنگز واہ! آپ نے حد ہی کر دی
کیا کسی بھی مہذب معاشرے میں اس طرح کیا جاتا ہے۔
مارکٹنگ کے چکر میں آپ اتنا گر گئے کہ مرحوم ڈین جونز کو ہی مہرا بنادیا۔
کیا ان کی پرانی تصویر لگانے میں کوئی قباعت تھی۔۔
کیا اسپانسرز لگانا اتنا ضروری تھا۔۔
کیا آپ نے ان کی فیملی سے اجازت لی تھی۔۔
کراچی کنگز کے مارکٹنگ ڈپارٹمنٹ کے اس عمل نے کئی سوالوں کو جنم دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی اس عمل کی خوب تنقید کی جارہی ہے۔
ہم تو بس اتنا کہنا چاہتے ہیں آپ کرکٹ کھیلیں اور بڑے شوق سے کھیلیں۔
کسی کے نام ٹرافی بھی کردیں ، پر خدارا ایسا کچھ نہ کریں،،
جس سے فینز یا پھر کسی کی دل آزاری ہو۔

کیونکہ زندگی میں تو انسان سے پوچھ لیا جاتا ہے لیکن مرنے کے بعد آپ نے کس سے اجازت لی؟
لگونا کا لوگو لگانے کے لیے کیا ان کی اہلیہ سے پوچھا گیا ہے؟
کیا کرکٹ کے ذریعے دبئی طرز کا پراپرٹی اسکیم کراچی میں بھی ہونے جارہا ہے؟


شیئر کریں: