آصف زرداری یا نواز شریف اور پی ڈی ایم پارٹ ٹو؟

آصف زرداری یا نواز شریف اور پی ڈی ایم پارٹ ٹو؟

تحریر این آر
عام انتخابات کے بعد اب تک موصول ہونے والے نتائج اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ کسی بھی جماعت کو پارلیمنٹ میں
اکثریت حاصل نہیں ہوسکی۔ اب تک سب سے زیادہ قومی اسمبلی کی نشستیں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں
نے حاصل کی ہیں۔ دوسرے نمبر پر پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی تیسرے پر ہے۔
آزاد امیدواروں کی نشستیں 92، مسلم لیگ 65 ، پیپلز پارٹی 50 اور ایم کیو ایم کی 12 نشستیں ہیں۔ نواز شریف نے سب سے
پہلے حکومت سازی کا اعلان کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت بنانا کسی کے لیے بھی اتنا آسان نہیں ہوگا۔
خیال رہے انتخابی مہم کے دوران مسلم لیگ کے رہنماؤں نے پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف پر تابڑ توڑ حملے کیے تھے۔ اس
کے برخلاف پیپلز پارٹی نے اپنی انتخابی مہم میں تحریک انصاف کے خلاف کوئی سخت بیانات نہیں دیے وہ صرف مسلم
لیگ ن کو نشانا بناتے رہے۔
ایسے میں شہباز شریف نے آج لاہو رمیں موجود آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو سے رابطہ کرنا ہے۔ بظاہر آصف علی زرداری
جنہیں سیاست کا روحانی پیشوا بھی کہا جاتا ہے کیا وہ نواز شریف یا شہباز شریف کی وزارت عظمی میں کام کریں گے یا پھر خود
حکومت بنائیں گے؟
صورت حال بہت زیادہ پیچیدہ ہو چکی ہے۔ ابھی تحریک انصاف کے کئی امیدواروں نے نتائج کے خلاف عدالتوں میں جانے
کا اعلان کررکھا ہے۔ یہی نہیں بلکہ سوات اور پنجاب کے کئی شہروں میں شکست پر کئی آزاد امیدوار احتجاج کر رہے ہیں۔
ذرائع کہتے ہیں آنے والے دن کافی حساس ہیں۔ انتخابات کے نتائج پر پاکستان ہی نہیں بلکہ عالمی اداروں کی جانب سے
بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے کے بعد معرض وجود میں آنے والی اتحادی
جماعتوں کی حکومت یعنی پی ڈی ایم کی طرح کی اتحادی حکومت ایک بار پھر سے بنتی دیکھائی دے رہی ہے. اس بار قومی
حکومت بنائی جائے گی جس میں تمام جماعتیں شامل ہوں گی. یہ کہنے میں کوئی عضر نہیں کہ چند روز میں پی ڈی ایم پارٹ ٹو
طرز کی حکومت سامنے آسکتی ہے.