آصف زرداری اچانک کیوں زیادہ بیمار ہو گئے؟

شیئر کریں:

رپورٹ علیم عثمان

پیپلزپارٹی نے اسمبلیوں سے استعفوں کے اعلان کی بابت “نون لیگ” کو واضح یقین دہانی
کرانے سے معذوری ظاہر کر دی ہے۔

اسی طرح بلاول بھٹو زرداری کی 16 اکتُوبر کو مریم نواز کے جلسہ میں شریک نہ ہونے کا امکان ہے۔
اسٹیبلشمنٹ نے سیاسی صورت حال کے تناظر میں شہباز شریف سے ایک بار پھر مذاکرات کئے ہیں۔

البتہ “نون لیگ” کے صدر نے اس صورت حال میں سردست مقتدر حلقوں کی کوئی مدد کرنے کے لئے
کردار ادا کرنے سے ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں۔

تاہم شہباز شریف نے ایک بار پھر “بڑے بھائی” اور بھتیجی کی اینٹی اسٹیبلشمنٹ پالیسی اور اداروں
کے خلاف اعلان جنگ کے بیانیہ پر سخت ناپسندیدگی اور ناخوشی ظاہر کی ہے۔

ناامیدی کے سائے کیوں منڈلانے لگے ہیں؟


ذرائع کے مطابق دو روز قبل مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور “پی ڈی ایم” کے سیکریٹری جنرل
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کراچی جا کر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے
ملاقات کی لیکن وہ کوئی زیادہ پرامید نہیں لوٹے۔

گوجرانوالہ جلسہ میں‌ مریم نواز کی تقریر زہریلی نہیں‌ ہو گی

ذرائع کے مطابق شاہد خاقان عباسی جو “نون لیگ” میں مریم نواز گروپ کے سب سے اہم
لیڈر مانے جاتے ہیں۔
2 امور پر بات کرنے کے لئے خصوصی طور پر بلاول ہاؤس گئے تھے۔
ان میں سے ایک تو 16 اکتُوبر کو گوجرانوالہ میں مریم نواز کے جلسہ میں جسے اب “پی ڈی ایم”
کا جلسہ ڈیکلیئر کردیا گیا ہے بلاول بھٹو کی شرکت یقینی بنانا تھا۔

دوسرا اسمبلیوں سے اپوزیشن اراکین کے استعفوں کے اعلان کی بابت پیپلزپارٹی کی واضح
رضا مندی حاصل کرنا تھا۔

ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم کے سیکریٹری شاہد خاقان عباسی نے بلاول بھٹو زرداری کو بتایا ”
ہم 16 اکتُوبر کے جلسہ میں اسمبلیوں سے الائنس کی رکن جماعتوں کے اراکین کے کسی بھی
وقت مستعفی ہوجانے کا دوٹوک اعلان کرنا چاہتے ہیں۔

چونکہ یہ پی ڈی ایم کا پہلا جلسہ ہے جس کے قریب آنے سے حکومت سمیت موجودہ سیٹ اپ
کی گھبراہٹ اور بوکھلاہٹ بڑھتی جا رہی ہے۔

یہ جلسہ حکومت اور متحدہ اپوزیشن دونوں کے لئے ایک ٹیسٹ کیس کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔
اس لئے مریم بی بی کی خواہش ہے کہ اپوزیشن کی تحریک کا momentum بڑھانے کے لئے ہمیں
اس جلسے میں اسمبلیوں سے استعفوں کے بارے میں واضح اعلان کر دینا چاہیئے۔

تاکہ عوام کو اس بابت حوصلہ ملے کہ یہ حکومت جارہی ہے اور وہ کنفیوژن دور کیا جاسکے جسے
بعض وزراء سمیت حکومتی حلقے اور میڈیا میں بعض حکومت نواز ٹی وی چینل یہ کہتے ہوئے پھیلا
رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کبھی بھی اسمبلیوں سے استعفے نہیں دے گی۔

تاہم ذرائع کے مطابق پی پی پی کے چیئرمین نے اس بارے میں سابق وزیراعظم کو ابھی کسی حتمی فیصلے
اور کوئی واضح جواب دینے سے معذوری ظاہر کی ہے۔

سابق صدر آصف علی زرداری کو اچانک اسپتال منتقل کر دیا گیا

دوسری طرف 16 اکتُوبر کے جلسہ میں بلاول بھٹو کی شرکت کا بھی امکان نہیں بتایا جارہا۔
پیپلز پارٹی کے قائد آصف زرداری کے اچانک شدید بیمار ہو جانے کے باعث اسپتال میں داخل ہو
جانے کی پیش رفت کو بھی مبصرین کے نزدیک اس تناظر میں بھی دیکھا جارہا ہے کہ آیا یہ “اقدام”
بلاول بھٹو زرداری کو یہ اخلاقی جواز اور عذر فراہم کرنے کی غرض سے تو نہیں اٹھایا گیا کہ وہ
اپنے والد کو اتنی تشویشناک صورت حال میں چھوڑ کر کہیں نہیں جاسکتے۔

شہباز شریف نے کیوں خاموشی اختیار کر لی؟

ذرائع کے مطابق حال ہی میں پاور بروکرز کی نمائندہ ایک اہم شخصیت نے نیب کے زیر تحویل
مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے ملاقات کی ہے جس میں شہباز شریف نے اس صورت حال
میں پارٹی قائد اور مریم نواز کی زیر قیادت پاکستان میں اس پر غالب ہائی کمان کی حالیہ روش
کے خلاف کوئی کردار ادا کرنے سے معذوری ظاہر کی ہے۔

دیکھو اور انتظار کرو پالیسی کامیاب ہو گی؟

ذرائع کے مطابق ملاقات میں شہباز شریف نے اہم شخصیت سے کہا ” میں تے بھائی صاب نُو‍ں بڑا
سمجھایا سی ، اسٹیبلشمنٹ دے خلاف اعلان جنگ کرن توں بڑا روکیا سی ، پر نہ اوہ مَنے نہ بھتیجی
باز ارئی اے ، چلو ایہہ تے مریم دے انتہا پسند ٹولے وچ شامل عقاب اپنا چا پورا کر لین”۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے مقتدر حلقوں کو فی الحال”دیکھو اور انتظار کرو” کی پالیسی
اپنانے کا مشورہ دیا ہے۔


شیئر کریں: