آسٹریلیا پاکستانی ثقافت سڑکوں پر بس آرٹ نمائش کا آغاز

شیئر کریں:

آسٹریلیا اور پاکستان کی ثقافت پر مبنی بس آرٹ نمائش نے پاکستان کی سڑکوں پر اپنے سفر کا آغاز
کردیا ہے۔
آسٹریلوی ہائی کمیشن نے پاکستانی آسٹریلوی فنکاروں عمران احمد اور فاطمہ سعید اور دیگر مقامی
ابھرتے ہوئے فنکاروں اور طلباء کے تعاون سے دو پبلک بسوں پہ آسٹریلوی اور پاکستانی فن پاروں کی
نمائش کی۔

نمائش کا مقصد آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان ثقافتی روابط کو فروغ دینا ہے اور ساتھ ہی کورونا وائرس
کی وباکے دوران ایک ایسی فضا قائم کرنا ہے جو لوگوں کو مکالمے اور پبلک مقامات کے بارے میں
تخلیقی انداز پہ سوچنے پہ مجبور کرے۔

پبلک ٹرانسپورٹ کو سجانے کی پاکستان کی خوبصورت روایت کو سراہتے ہوئے آسٹریلوی ہائی کمشنر
ڈاکٹر جیفری شا نے کہا آسٹریلیا پاکستان دونوں متنوع ثقافت کے حامل ممالک ہیں جن کے درمیان
بہت سے روابط مشترک ہیں۔

” موسم سے لے کر کھیلوں تک ہمارے دونوں ملکوں میں بہت کچھ مشترک ہے – ہماری دولت مشترکہ
کی وراثت اور ہمارے لوگوں کے درمیان مضبوط روابط اس کی بنیاد ہیں۔ اسی ہزار سے زائد پاکستانی
نژاد لوگ آج آسٹریلیا کو اپنا گھر کہتے ہیں”۔

بسوں کو پینٹ کرنے کے لیے پاکستان کے مایا ناز آرٹسٹیوں کے زیراہتمام سعید اختر اسٹوڈیو لاہور
اور لوک ورثہ اسلام آباد میں ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا۔ ان ورکشاپوں میں پاکستان کے ممتاز تعلیمی
اداروں سے تعلق رکھنے والے آرٹ اور ڈیزائن کے تقریباً سو طلباء نے حصہ لیا۔

یہ بسیں پورے پاکستان میں سفر کریں گیں جہاں پاکستانی رہائشی ، مسافر اور مزدور سال بھر پہیوں پر
گھومتی اس آرٹ کی نمائش سے لطف اندوز ہو سکیں گیں۔

ہائی کمشنر ڈاکٹر شا نے مزید کہا “ہم پرجوش ہیں کہ اس پروجیکٹ نے ہمیں ایک قابل رسائی اور
بین الملوک نمائش کا موقع دیا ہے جو کوروناوائرس کی وبا کے دوران لوگوں کو ایک نئے تخلیقی
طریقے سے آرٹ کے ذریعے جوڑنے میں مدد دے گی”۔

تصویری فنکار فاطمہ سعید نے کہا “اس پروجیکٹ کے ذریعے میں اور عمران ان دونوں ملکوں کی
انفرادیت اور مماثلت منانے میں کامیاب ہوئے ہیں جنہیں ہم گھر کہتے ہیں! آسٹریلیا میں رہتے اور
سفر کرتے ہوئے ہم نے جس تنوع اور شمولیت کو محسوس کیا اس نے ہم پہ ایک ناقابل فراموش نشان
چھوڑا۔ گر ہمارے لئے پاکستان ہمارہ اصل گھر ہے ہمارے آسٹریلیا میں اپنے گھر سے منسلک جذبات
کبھی ختم نہیں ہوئے۔
اس پچھلے سال نے ہمیں سکھایا ہے کہ ہم اپنی زندگی میں تمام اچھی چیزوں کو سرائیں اور اسے زیادہ
سے زیادہ لوگوں کے ساتھ بانٹیں”۔۔

آرٹسٹ اور کیوریٹر عمران احمد نے کہا “کورونا وائرس لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہمارے لئے یہ پراجیکٹ کافی
مشکل تھا لیکن پاکستان کی سڑکوں کے لیے ایک متاثر کن آرٹ ورک بنانے کے خیال نے ہماری ہمت باندھی
رکھی۔ میں اپنی شاندار ٹیم جن میں بہت سے باصلاحیت فنکار اور طلباء شامل ہیں ان کا شکریہ ادا کرتا
ہوں کہ انہوں نے اس مشکل وقت میں اس پروجیکٹ میں حصہ لیا”۔”

پاکستانی آسٹریلوی فنکاروں عمران احمد اور فاطمہ سعید نے یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز سڈنی میں
تعلیم حاصل کی ہے اور پاکستان اور آسٹریلیا میں اپنے کئی کابل ستائش فن پاروں کی نمائش کی ہے۔

پروجیکٹ میں حصہ لینے والے دیگر نمایاں فنکاروں میں امل ندیم ، علی لاریب رضوی اور نثار احمد
شامل ہیں۔


شیئر کریں: