آزادی کے تہتر خالی سال

شیئر کریں:

تحریر : محمد امنان

سال 2020 کے آٹھویں مہینے کی چودہ تاریخ کو مملکت پاکستان کا تہترواں جشن آزادی منایا جائے گا یاد رکھئیے جشن آزادی منانے کا مطلب اور مقصد اپنے وطن سے وفا اور محبت کے اظہار کے ساتھ تجدید عہد کا دن ہوا کرتا ہے اور اس دن زندہ قومیں اپنے بزرگوں کی ہدایات اور انکے احکامات کی روشنی میں وطن کی خاطر مر مٹنے کے علاوہ وطن کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی میں اپنا حصہ بقدر جسہ ڈالنے کا عہد تازہ کرتے ہیں

پاکستان کے 74ویں جشن آزادی پر سبز ہلالی پرچم کی بہار

تہتر سال ہو گئے مملکت خداداد کو معرض وجود میں آئے ان تہتر سالوں میں ہم انگریز کا بنایا ہوا انتظامی ڈھانچہ تک تبدیل نہ کر پائے وہی بیوروکریسی ہے وہی مسائل ہیں اور وہی جمہور کی سسکیاں ، قائد اعظم (رح) کے احکامات ہم نے ان تہتر سالوں میں صرف دیوار پہ سجانے کے لئے سنبھالے

قائد کی تصویر کو دفاتر کے وقار میں اضافے اور کاغذ پر قائد کی تصویر کو ہر جائز ناجزئز کام کے لئے راہ نجات بنا لیا یہاں مسلہ یہ نہیں ہے کہ ہمارے ملک کے اشرافیہ ، مافیا اور مالکان قائد سے محبت نہیں کرتے انہیں قائد سے اتنی محبت ہے کہ کروڑوں اربوں نوٹ جن پر قائد کی تصاویر ہیں غریبوں کا حق مار کر اپنی تجوریوں میں بھر رکھی ہیں

اس ملک کو عوام کا ملک بنانے کی بجائے ایک ادارے کا ملک بنانے کی تگ و دو قائد کی وفات کے بعد سے شروع ہو گئی تھی اور آج تک جاری ہے جمہور اور جمہوریت کا بھرم ہم نے بس اسلئے رکھا ہوا ہے کہ دنیا کو یہ بات کہنے کا موقع نہ ملے کہ کیسی خود غرض قوم کے باشندے ہیں جو اپنی ہی قوم سے مجلص نہیں ہیں اور اپنے ہی بزرگوں اور محسنوں کے اقوال و احکامات کی نفی میں مگن ہیں


تعلیمی نظام، نوجوانوں میں فکری صلاحیتیں اجاگر کرنا یا اخلاقی تربیت کرنا ہمارے اساتذہ کا فرض تھا سوائے چند ایک کے سب نے پڑھنے پڑھانے کے لئے حاصل کی گئی نوکری کو اہمیت دی نہ کہ نوجوانوں کی تربیت کرنے کو میں بلا شک و شبہ اس بات کا قصور وار اساتذہ کو سمجھتا ہوں کہ آجکا نواجوان اگر آزادی کے اغراض و مقاصد کو سمجھنے سے قاصر ہے تو ہماری ہی تربیت میں کمی ہے جسکا خمیازہ آنے والی نسلیں بھگتیں گی

جشن آذادی پہ ہر سال میڈیا کانٹینٹ وطن کی محبت سے بھرے ملی مغموں سجاوٹوں اور برقی قمقوں کو دیکھتے دکھاتے گذر جاتا ہے معاشرے کا آئینہ اس دن کی اہمیت کی مناسبت سے آج تک کوئی ایسا کانٹینٹ پیش نہیں کر سکا جس سے اندازہ ہو کہ ہمارے ملک میں فکری صلاحیتیں کس قدر گہری ہیں یا ہمیں ذمہ دار شہری بننے کے قواعد و ضوابط کے علاوہ عام شہری ہونے کی ذمہ داریاں معلوم بھی ہیں ، ملی نغمے سجاوٹیں اور جشن منانے کا منکر نہیں ہوں لیکن ہمیں یہ سب سمجھنا ہو گا کہ ایک دن جشن منا کر اس دن کو بھول جانے والوں پر حقیقت میں کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں

گوجرانوالہ کمشنر آفس میں جشن آزادی کی مرکزی تقریب

پاکستان کی خاطر جان دینے کا جذبہ ہم سب میں حد درجہ موجود ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ اخلاقی طور پر اس ملک کی خدمت کا جذبہ ہمارے دلوں میں موجود نہیں افسر شاہی ، سیاستدان، سکیورٹی ادارے، میڈیا، وکلا غرضیکہ ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد قومی شناختی کارڈ کے حامل ہونے کے باوجود اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں اور

ملک سمیت یہاں کے مجبور جمہور اپنا سا منہ لیکر تک رہے ہیں کہ یہ تو وہ صبح نہیں جس کا ہم سے وعدہ تھا زندگی کی کوئی 28 خزائیں ہم بھی دیکھ چکے ہیں اور تہتر سال کا پاکستان ہو چلا ہے ان 28 سالوں میں مسائل کا انبار اور حالات دگرگوں ہی دیکھے ہیں کبھی شاذ و نادر ہی کوئی اچھی خبر سنی ہے

تعلیم حاصل کر کے مجھ جیسے کئی نوجوان اس آس پہ بیٹھے ہیں کہ سرکاری نوکریاں ملیں گی یا کم از کم کہیں ایسی نوکری مل جائے کہ معاملات زندگی کے حوالہ سے اپنی ذمہ داریاں نبھا سکیں مگر ہمارے ہاں پڑھے لکھوں کو ملازمتیں نہیں ملازمتیں دلواتا ہے پرچی مافیا اور سرکاری نوکریاں نئے ریٹس پر دستیاب ہوتی ہیں

من حیث القوم ہم سب اس چیز کے عادی ہو چکے ہیں کسی بھی ادارے میں آپ کام کی غرض سے جائیں وہاں رشوت اور سفارش کا قانون رائج ہے

حکمران ریاست مدینہ ثانی کے دعویدار تو ہیں مگر عملی انتظام صفر سے بھی صفر ہے سیاسی جماعتیں اپنے پرانے کچے چھٹے چھپانے اور در پردہ معاملات سیٹ کرنے کے درپے ہیں اور ملک بیچارہ منہ تک رہا ہے

ترقی و خوشحالی کی امید کے ساتھ گذشتہ تہتر سال سے ذادی کا سورج ہر 14 اگست پہ طلوع ہو کر اسی دن کی شام کو بے نیل و مرام لوٹ جاتا ہے کہ یہاں کہ انتظامی حلقوں کو ملک اور عوام سے زیادہ عزیز اپنے ذاتی مفادات ہیں

آزادی کا جشن ضرور منائیے لیکن احساس محرومی اور بغاوت پہ آمادہ کرنے والے عناصر جو اسی ملک کی جڑوں کو نوچ رہے ہیں انہیں بھی پہچانئیے ان سے عوام اور ملک کی جان چھڑائیے سوال کرنے والوں کو دبائیے اور اٹھائیے مت خدارا بات سمجھئیے اس ملک میں رہنے والے سبھی پاکستانی ہیں

ایمان اتحاد اور تنظیم کو دیواروں پہ لکھنے کی بجائے دل و دماغ میں اتارئیے پاکستان کو صرف پڑھئیے مت بلکہ دل سے مانئیے اور اپنا اپنا کردار اس ملک کی ترقی خوشحالی اور حقیقی طور پر جمہور کی خدمت کے لئے ادا کیجئیے ہر پاکستانی کو جشن آزادی کے دن ملک و قوم کی طرف اپنے فرض اور ذمہ داریوں کو سمجھنے کے ساتھ خود احتسابی کے عمل سے گذرنا ہو گا

جشن منائیے باجے مت بجائیے ایک وقت تھا کہ آزادی کا جشن منانے کے لئے پیسے جوڑ کر جھنڈیاں خرید کی خاتی تھیں پھر گھر میں پڑی آٹے کی ڈرمی سے آٹا نکال کر لیپ تیار کر کے جھنڈیوں کو دھاگے میں پرو کر اپنے اپنے انداز میں گھر گلی محلوں کو سجایا جاتا تھا

عید کی طرح اس دن کو منایا جاتا تھا مگر رفتہ رفتہ جانے کیا ہوا کہ اس دن کی خوشیاں منانے کے لئے کسی نے باجا فرض کر دیا ہر سال کی طرح اس سال بھی باجے بجا کر شور مچایا جائے گا مگر آزادی جیسی نعمت اور ملک سے خالص محبت شاید ہم سمجھ نہ پائیں

لہذا پاکستان کی آزادی کا جشن منانے سے قبل خود احتسابی کیجئیے اور سوچئیے کہ ہم نے اس ملک کو کیا دیا کیا ہم دودھ میں پانی ملانا بھولے، کیا ہم نے ملاوٹ ، جھوٹ ریاکاری، بد عنوانی ، رشوت خوری ، عیب جوئی اور گالی گلوچ کو برا جانا

یا ہم ہر سال بس ایک دن دکھاوے کا شور مچانے کو مناتے ہیں
ملک سے محبت ایمان کا حصہ ہے ایمانداری سے اس محبت کا ظاہر کیجئیے خوداحتسابی کیجئیے

تمام محبان وطن کو جشن آزادی مبارک ہو


شیئر کریں: