آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے کوئی محفوظ نہیں، سب اسرائیل کے نشانہ پر

شیئر کریں:

آرٹیفیشل انٹیلی جنس نے پوری دنیا کو حیران اور پریشان کر دیا ہے۔
باالخصوص ایرانی سائنسدان اور بابائے جوہری پروگروام کے قتل نے ایران کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
اسرائیلی اداروں کی جانب سے آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے اپنے
مخالفین کو قتل بنانے کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے۔

ایران کے ایٹمی سائنس دان محسن فخری زادے کا قتل ایسا کوئی پہلا واقعہ نہیں اسرائیل نے
سیٹلائیٹ اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو استعمال کیا ہو۔

اسرائیل کب سے جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہا ہے؟

اسرائیلی صحافی رونن برگمن نے اپنی کتاب رائز اینڈ کل فرسٹ Rise and Kill First میں انکشاف
کیا ہے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد 1948 سے ہی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا استعمال کرکے اپنے
مخالفین کا قتل کر رہی ہے۔

اسرائیلی خفیہ ادارے اب تک جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے 27ہزار سے زائد افراد کو قتل کرچکے ہیں۔
مشہور فلسطینی لیڈر وادی حداد ڈائریکٹر فارن آپریشن آف پاپولر فرنٹ آف دی لیبریشن آف فلسطین کو 1978 میں موساد نے قتل کیا۔
1995 میں حماس کے رہنما یحیی ایاش کے موبائل فون اسرائیلی خفیہ اداروں نے بم نصب کیا اور انہیں موبائل بم دھماکے سے شہید کردیا۔
اسی طرح حال ہی میں ایران کے بااثر جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے لیے امریکا اور اسرائیل نے جدید سیٹلائٹ کو استعمال کیا۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور سیٹلائٹ کیمروں کی مدد سے قاسم سلیمانی کی شناخت کی گئی اور ان سینٹرل کنٹرول روم سے میزائل حملے سے نشانہ بنایا گیا۔

امریکا نے بھی بے دردی سے ٹیکنالوجی استعمال کی

اسرائیل کے ساتھ ساتھ امریکا نے بھی 9/11 حملے کے بعد افغانستان، پاکستان اور عراق میں جدید
ٹیکنالوجی کی مدد سے کئی افراد کو قتل کیا۔
امریکا نے ڈرون ٹیکنالوجی کی مدد سے صرف یمن میں 2002 سے 2013 کے دوران 929 ہائی پروفائل لوگوں کو قتل کیا گیا۔
2004 سے 2013 کے درمیان پاکستان میں 3500 کے قریب ہائی پروفائل ٹارگٹس کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ڈرون حملوں سے ٹارگٹ کر کے قتل کیا گیا۔
دنیا کی سب سے زیادہ ہائی پروفائل شخصیات القائدہ سربراہ اسامہ بن لادن کو 2011 میں پاکستان، داعش کے سربراہ ابوبکرالبغدادی کو 2019 میں شام اور ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو جنوری 2020 میں بغداد میں قتل کیا گیا۔

امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ جہاں اسرائیل عرب ممالک کے ساتھ بڑھا رہا ہے وہیں امریکا اسرائیل کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس میں مزید مدد کر رہا ہے۔
امریکا اسرائیل کو جدید ڈرون، ڈیٹا تک رسائی اور سیٹلائٹ کے استعمال میں تعاون بڑھا رہا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس میں تعاون بڑھانے کا مقصد عرب ممالک اور مسلم دنیا میں سے ممکنہ کسی بھی ردعمل سے اسرائیل کو محفوظ رکھنا ہے۔

آرٹیفشل انٹیلی جنس، سیٹلائٹ اور جدید وارفیئر کیا ہے؟

موجودہ دور میں مغرب کے پاس دنیا کے تمام ممالک میں موجود ہر فرد کا ڈیٹا موجود ہے۔
اس بات کا اعتراف امریکی دفاعی ادارے امریکی نمائندگان کے سامنے کر چکے ہیں۔
ہمارے موبائل فون، ای میل، سوشل میڈیا اور آئی ڈی کارڈ کا ڈیٹا ان ممالک کے پاس موجود ہے۔
اب ہمارے ڈیٹا کو سیٹلائٹ کے ساتھ مرج کردیا گیا ہے
یہ سیٹلائٹس جدید کیمروں اور سینسرز سے آراستہ ہیں۔
انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق اسرائیل، یورپ اور امریکی ادارے دیوار اور چھت کے اندر ہونے والی
بات چیت، سرگرمیوں اور شخصیات کے بارے میں پتہ لگایا جاسکتا ہے۔

اسی ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے لوگوں کو شناخت کیا جاتا ہے اور ڈرون سے حملہ کیا جاتا ہے۔
اسامہ بن لادن کے قتل کا آپریشن امریکا کے سینٹرل کنٹرول روم سے کیا گیا جہاں امریکی صدر اوباما
آپریشن براہ راست دیکھ رہے تھے۔
اسی طرح قاسم سلیمانی کی شناخت کرکے بمباری کی گئی۔
ایرانی سائنس دان فخری زادے کو کیمروں نے شناخت کیا اور آٹومیٹک ہتھیاروں سے ان پر فائرنگ کی گئی۔


شیئر کریں: