آرمی ایکٹ میں ترمیم اور پیپلزپارٹی

شیئر کریں:

تحریر عامر حسینی

آرمی ایکٹ میں چیف آف آرمی اسٹاف کی
تعیناتی سے متعلق سپریم کورٹ نے
جب گیند واپس پارلیمنٹ کے کورٹ
میں بھیجی تو اگلے روز میں اپنے
سیاسی گرو اور منجھے ہوئے جیالے
اعظم خان کے پاس گیا تو وہاں
کئی ایک سنئیر جیالوں کا کٹھ تھا
(یہ سب لوگ جنرل ضیاء کے زمانے
میں نوجوان جیالے ہوا کرتے تھے
اور اب یہ سب 60 سے 65 سال
کی عمر کے درمیان میں ہیں اور
بزرگ جیالے کہلانے لگے ہیں
اور بیگم نصرت بھٹو و
بے نظیر بھٹو شہید کے دور
سیاست کے چشم دید گواہ ہیں)
میں نے اعظم بھائی سے پوچھا
کہ اس فیصلے پر کیا رائے ہے؟
کہنے لگے سپریم کورٹ کے اس
فیصلے سے پی پی پی ہمیشہ سے
چلے آرہے اصولی موقف کی
بالواسطہ اور نادانستہ طور پر تائید
ہوئی ہے کہ قانون سازی پارلیمنٹ
کا کام ہے اور عدلیہ کا کام
قانون کی تشریح ہے-
اس بات کی دوسرے جیالوں
نے بھی تصدیق کی –
اُس سے کئی روز بعد مُلتان،
لاہور، راولپنڈی، میاں چنوں،
فیصل آباد اور کراچی کے کئی
ایک تجربہ کار، جہاں دیدہ جیالوں
سے گفتگو سے بھی یہی رائے
سامنے آئی کہ آرمی چیف کی توسیع
اور آرمی ایکٹ کا معاملہ پارلیمنٹ
میں آنا پی پی پی کے
موقف کی تائید ہے-

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب ابھی
فیصلہ آیا تھا اور تحریک انصاف
یہ کہہ رہی تھی کہ معاملہ آئینی
ترمیم کا نہیں ہے اور یہ محض
قانون سازی کا معاملہ ہے اور
حکومت کو اپوزیشن ووٹوں کی
ضرورت نہیں پڑے گی-
انصافیوں کا ایک سیکشن کہہ
رہا ہے کہ ترمیم بھی ہونا ہے
تو سپریم کورٹ کا حُکم ہے
کرنا پڑے گی لیکن تفصیلی
فیصلے نے معاملہ صاف
کردیا اور پتا چلا کہ
ترمیم کرنا نہ کرنا پارلیمنٹ
کا اختیار ہے-

اس دوران اپوزیشن جماعتوں کے
سربراہوں اور رہنماؤں کی طرف
سے جو بیانات آئے وہ یہ تھے
کہ جب بل پارلیمنٹ میں آئے گا
تب دیکھیں گے اور ساتھ یہ
بھی کہا گیا کہ اگر حکومت کو
ترمیم بارے تعاون درکار ہے
تو اپنا رویہ درست کرنا
اور مذاکرات کے لیے آنا پڑے گا-

لیکن اگر آپ اس دوران سوشل
میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر اُس
سیکشن کو دیکھیں جن کو ہم وہ
کمرشل لبرل کہتے ہیں جو کَل
تک نواز شریف کو کامریڈ
چی گیورا اور مریم نواز کو
مزاحمت کا روشن مینارہ قرار
دیتے نہیں تھکتے تھے اور
پیپلزپارٹی پر ڈیل کا الزام لگاتے
تھے انہوں نے خود اپنے طور
پر اپوزیشن جماعتوں کے
خود ساختہ ترجمان کا فریضہ
سنبھال لیا اور آرمی ایکٹ
میں ترمیم کے سوال پر انتہائی
پوزیشن اختیار کرنے کو ہی
کسی سیاسی جماعت کے
سویلین بالادستی کی حامی
ہونے کا معیار بنا ڈالا-
پاکستان کا جود ساختہ سویلین
بالادستی کا علمبردار مین اسٹریم
میڈیا کا ایک سیکشن اور سوشل
میڈیا پر براجمان وہی اربن
چیٹرنگ مڈل کلاس سیکشن
سے تعلق رکھنے والا سیاسی
عمل سے کبھی نہ گزرنے
والا حلقہ ایک بار پھر پیپلز
پارٹی کے اپنی منشاء کے
برعکس فیصلہ آنے پر
غیظ و غضب کا شکار ہوا-
مسلم لیگ نواز نے پی ٹی آئی
کے ساتھ مل کر فیصلہ لیا
اور اپوزیشن جماعتوں سے
مشاورت نہیں کی جس کے بعد
بارگینگ اگر کرنا مقصود تھی
بھی تو وہ ناممکن ہوگئی تھی
یہاں بارگیننگ سے مراد سیاسی
مسائل پر اپنے موقف کے قریب
حکومت کو لانا ہے- ایسے میں
پیپلزپارٹی نے ایک بار پھر
آرمی ایکٹ میں ترمیمی بل
کو متعلقہ قائمہ کمیٹیوں میں
زیر بحث لانے اور سفارشات
مرتب کرکے اُسے اسمبلی سے
پاس کروانے پر زور دیا جو
مسلم لیگ نواز اور پی ٹی آئی
کو ماننا پڑا یہ ایک اور
مثبت اور جمہوریت دوست قدم تھا-

پی پی پی نے سیاسی بلوغت کا
ثبوت دیا اور خاص طور پر
چئیرمین بلاول بھٹو زرداری
اور پی پی پی کے منجھے
ہوئے بالغ نظر بے نظیر بھٹو
کے پرانے ساتھی جو ایک
عرصہ سے پارلیمانی سیاست کا
تجربہ رکھتے ہیں نے چئیرمین
بلاول بھٹو کے ساتھ مشاورت
میں جو فیصلہ لیا اگرچہ اس
دوران خود پارٹی کے چند ایک
مرکزی اور صوبائی سطح کے
رہنماؤں کی پہلے رائے مختلف
تھی لیکن وہ مشاورت اور
تفصیلی بات چیت کے دوران
تبدیل ہوئی اور چئیرمین بلاول
بھٹو زرداری نے فیصلہ لیا-

اس دوران میں نے اپنے
طور پر یہ مشاہدہ کیا کہ
پی پی پی کے وہ جیالے جو
عملی سیاست اور خاص طور
پر پاکستان کی پُر آشوب
پارلیمانی سیاست کی تاریخ
کے عینی شاہد اور گواہ ہیں
اور خود اُس کا حصہ بھی رہے
اُن کی اکثریت چئیرمین
بلاول بھٹو زرداری کے فیصلے
کو شہید بی بی بے نظیر بھٹو
کی فراست اور سیاست کی
پیروی خیال کرتے پائے گئے
اور انہوں نے اس فیصلے کو سراہا-

سوشل میڈیا پر اگرچہ
پی پی پی کے پُرانے منجھے ہوئے
جیالوں کی بہت تھوڑی تعداد ہے
لیکن وہ تعداد بھی پارٹی کے
فیصلے کو تائیدی نگاہ سے
دیکھتی پائی گئی جن میں
رانا شرافت، صہیب عالم،
زوار کامریڈ، دیوان شمیم اختر،
رانا خاور، خواجہ رضوان عالم
سمیت سنٹرل اور جنوبی پنجاب
کے درجنوں نام شامل ہیں
جن کی پوسٹیں میری نظر
سے گزریں ہیں-

سب سے زیادہ خوشگوار
حیرت مجھے پی ایس ایف،
پی وائی او کے نوجوانوں پر
ہوئی جن کی بھاری اکثریت
نے پی پی پی کے فیصلے
کو سراہا اور انہوں نے
پی پی پی کے خلاف پروپیگنڈا
تنقید کو مسترد کردیا-
وہ نام نہاد انقلابی لفاظی کا
شکار نہیں ہوئے- ان نوجوانوں
کی اکثریت نے اُس راستے
کی پیروی کی جو 85ء سے
لیکر 99ء تک پی پی پی کے
نوجوان جیالوں کی اکثریت کی
روش رہی کہ انھوں نے پی پی پی
کی انتخابی سیاست میں مصنوعی
زیادہ اور حقیقی کم ناکامیوں کا
سارا ملبہ بے نظیر بھٹو اور اُن
کے شوہر آصف علی زرداری پر
ڈالنے اور اُن کے کئی ایک
فیصلوں کی مسخ تعبیر کر
کے اُن فیصلوں پر ڈالنے
سے انکار کردیا تھا-

اُس زمانے میں بھی بوتیک
لیفٹ اور کمرشل لبرل
مافیا کی انقلابی لفاظی پر
مشتمل پروپیگنڈے سے کچھ
پارٹی اور زیلی ونگز کے
نوجوان اکثر وہ جو اخبارات
کی سرخیوں اور فرمائشی کالموں
کے زیر اثر آجایا کرتے تھے
متاثر ہوتے اور ‘متاثرہ فریق’
پر ہی گولہ باری کرنے لگتے-
ان میں سے اکثر نیک نیت اور
پارٹی کے مخلص لوگ تھے
پارٹی قیادت اور جیالوں نے
اُن کی تکریم میں کمی
نہیں آنے دی-

سوشل میڈیا پر چند ایک نوجوان
پڑھے لکھے، انتہائی مخلص
جیالوں نے بوتیک لیفٹ، کمرشل
لبرل اور مین سٹریم میڈیا کے
ٹاک شوز اور کالموں میں
انقلابی لفاظی کا اثر ضرورت
سے زیادہ لیا اور اُن کو تھوڑا
سا سخت پارٹی کے کئی ایک
ڈائی ہارڈ جیالوں کے تُند و تیز
تنقیدی جُملوں نے کردیا-
وہ اپنے چئیرمین پر پیار اور
محبت کی انتہا پر جاکر جو خفگی،
غصہ دکھارہے ہیں یہ کوئی
سازش نہیں ہے اور نہ ہی
اُن کی اکثریت پارٹی سے الگ
ہوکر کہیں اور اور جانے والی ہے-
کچھ تو ہوتے ہیں محبت میں
جُنوں کے آثار کچھ لوگ بھی
دیوانہ بنادیتے ہیں

پی پی پی سے وابستہ نوجوانوں
میں سے کچھ جو اختلاف کا اظہار
کررہے ہیں اور اُن میں ملال و غبا
ر ہے یہ بھی پارٹی کا صحت مند
رجحان ہے پارٹی کی اکثریت
اُن سے متفق نہیں ہے لیکن
اس کا مطلب یہ نہیں کہ
اُن کی پارٹی وابستگی پر
شک کیا جائے-

پیپلزپارٹی کے اندر اختلاف
رائے کی گنجائش کا ہونا ہی
اس کی زندگی کی علامت ہے-
بوتیک لیفٹ اور کمرشل لبرل
صحافتی اور سوشل میڈیائی
یتیم ناکام ہوں گے-


شیئر کریں: