آخر ہم ہیں کون؟

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا

کورونا وائرس جس کی ہیبت نے سب ہی کو خوف زدہ کر رکھا ہے۔
لوگ نفسیاتی مریض بنتے جا رہے ہیں، نفسیاتی مریض صرف کورونا کی وجہ سے نہیں بلکہ ملک کے کونے
کونے میں سرگرم مافیا کے ظلم اور حکمرانوں کی ناہلی کی وجہ سے۔

اللہ کی ناراضی کا پیغام لے کر آنے والی وبا کو بھی مسلمانوں نے کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔
کورونا کی وبا نے دنیا کو جکڑا تو انسانیت کی بڑی بڑی مثالیں سامنے آئیں۔

پاکستان کے سوا دنیا کی بڑی سے بڑی کاروباری شخصیات نے اپنی دولت انسانیت کو وبا سے محفوظ رکھنے
کی دوا تیار کرنے کے لیے وقف کرنا شروع کردی۔

بل گیٹس نے بھی اپنی دولت کا بیشتر حصہ کورونا کی ویکیسن بنانے والے اداروں کو دے دیا۔
پاکستان بھی اسی کرہ ارض پر ہے لیکن پاکستان کا مسئلہ دنیا سے بالکل الگ تھلگ ہی رہا ہے۔
وائرس پھیلنے کی دیر تھی کہ ہر شخص نے ناجائز فائدہ اٹھانا شروع کر دیا۔
ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور ملاوٹ کا کوئی حساب اور پیمانہ نہ رہا۔
افسوس زندگی بچانے والی ادویات تک مارکیٹ سے غائب کر دی گئیں۔
افسوس صد افسوس اس پاک سرزمین پر آباد چند افراد پر مشتمل مافیا نے سب کچھ یرغمال بنالیا۔
یوں دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان میں کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں ۔۔۔۔ہر مافیا بھی آزاد ہے۔
مذہب زبان اور رنگ نسل کچھ بھی ہو لیکن عوام کو لوٹنے والوں کا مذہب ایک ہی ہے۔
مساجد نمازیوں سے بھری رہتی ہیں سب ہی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جان لینے اور دینے پر تیار رہتے ہیں
لیکن کیا ہم ان کی تعلیمات پر بھی عمل کرتے ہیں؟

چینی کمیشن رپورٹ کو نظر نہ لگ جائے

پانچ وقت کے نمازی، باریش چہرے اور ہاتھوں میں تسبیح کیا ایسی صورت حال میں ناجائز منافع خوری ہونی چاہیے؟
انسانوں سے محبت اور ایک دوسرے کے کام آنے کا درس دینے والوں سے محبت کا اظہار بھی اور پھر لوٹ مار بھی؟
یہ تو ان کا پیغام نہیں؟
تو پھر کیوں کورونا کے مریضوں کو مرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے؟
جو چیز مریضوں کو زندگی دے سکتی ہے اسے مارکیٹ سے غائب یا قیمت کیوں بڑھائی جاتی ہے؟
پانچ روپے والے عام سرجیکل ماسک کی قیمت کیوں 40 روپے تک پہنچا دی گئی؟
آکسیجن سیلنڈر کی قیمت چار سو سے پانچ سو فیصد کیوں بڑھا دی گئی؟
سینی ٹائزر کو مفید پایا تو قیمت بڑھا دی گئی اور جعل سازی کا کاروبار بھی گرم کردیا۔
کیا یہی آئمہ طاہرین کا پیغام ہے جی ہر گز نہیں؟
تو پھر پرائیویٹ اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں سے ایک رات کی فیس دو سے
تین لاکھ روپے کیوں لی جاتی ہے ؟

جواب دہ علماء نہیں وزیراعظم ہوگا

عالمی اداروں نے ڈیکسا میتھازون کورونا کے لیے تجویز کی تو آپ نے بلیک کیوں کر دی؟
اگر ڈاکٹرز سے کبھی کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو انہیں جلاد قرار دے کر کیوں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں؟
آپ جو شعبہ طب سے وابستہ اشیا پر لوٹ مار کر رہے ہیں کیا آپ جلاد نہیں؟
کیا ہم بھول گئے ہیں کہ ہم عالمی وبا کا سامنا کر رہے ہیں؟
اگر ہم آج ہی مر گئے تو یہ ناجائز دولت تابوت میں ساتھ لے جائیں گے؟
کیا اس ایمرجنسی کے حالات میں یہ بدبودار منافع خور مرنا بھول گئے؟
این 95 ماسک کی ضرورت پڑی قیمت آسمان پر پہنچا دی اور پھر غائب کر دی۔
ٹمپریچر چیک کرنے والی گن کی ضرورت پڑی تو قیمت 800 سے 22000 روپے پر پہنچا دی۔

وہ زہر دیتا تو سب کی نگاہ میں آ جاتا
سو یہ کیا کہ مجھے وقت پہ دوائیں نہ دیں

پہلے غیرقانونی اور ناجائز منافع خوری کرتے ہیں پھر انہی پیسوں سے سماج کی بھلائی کے لیے کام کیے جاتے ہیں۔
ان میں سے ایک اسلام آباد کی سب سے بڑی فارما ڈی واٹسن کے مالک ظفر بختاوری کو میں نےکورونا کی وبا
کی آمد کے کچھ روز بعد کال کی تھرمل گن سے متعلق معلوم کیا۔

انہوں نے کہہ دیا ہاں آج کل ہیں نہیں کم پڑگئی ہیں لیکن ہمارے ایڈمن اسٹاف نے ڈی واٹسن ہی سے اسی روز خرید لی۔
بات یہ ہے کہ انہوں نے شائد مجھے اس لیے انکار کیا کہ واقفیت کے سبب کہیں کچھ پیسے کم نہ کرنے پڑ جائیں۔
حکومت موجودہ صورت حال سے خود کو بری الزمہ قرار نہیں دے سکتی۔

اگر ہر فرد واحد لوٹنا شروع کر دے گا اور حکومت بھی خاموش تماشائی بنی رہے گی تو پھر معاشرے کی کون اصلاح کرے گا؟
اس کینسر زدہ معاشرے کے لیے شاید مزید مشکات آئیں گی کیوں کہ جب منافع خوروں کو بستر مرگ
پر اپنے جیسے منافع خوروں کا سامنا ہو گا پھر وہ کیا کریں گے۔

وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد کے لاہوریوں کو جاہل کہنے پر سوشل میڈیا پر طوفان آمڈ آیا تھا۔
یاسمین راشد نے جاہل کا لفظ کیوں استعمال کیا شائد اس لیے کہ لوگ ایک دوسرے کا خیال نہیں کر رہے۔
سماجی فاصلہ اختیار نہیں کر رہے اور لوٹ مار کر رہے ہیں، انسانیت کی تزلیل کر رہے ہیں۔
اگر ہم خود احتسابی کا عمل شروع کریں تو میرے نزدیک ہم جاہل کے ساتھ ساتھ جلاد بھی ہیں۔

کوئی دھواں اٹھا نہ کوئی روشنی ہوئی
جلتی رہی حیات بڑی خامشی کے ساتھ


شیئر کریں: