آج غلام محمد قاصر کی برسی ہے

آج غلام محمد قاصر کی برسی ہے
شیئر کریں:

عماد قاصر نے جب مجھے ‘کلیات قاصر’ بھیجا تو میں نے ان کی محبت پہ بہت خوش تھا۔

میرا خیال تھا کہ میں ان کلیات کو پڑھتا جاؤں گا اور جس دن اس کو ختم کروں گا اسی دن ایک مضمون لکھ ماروں گا اور اس فرض سے سبکدوش ہوجاؤں گا

جو میں اپنے اوپر ایک قرض کی صورت محسوس کررہا تھا۔ لیکن یہ کیا؟

مجھے تو بعض اوقات ایک غزل پہ ہفتوں لگ گئے اور میں اس غزل کے اشعار کی قرآت کی لذت سے ہی باہر آنے کو تیار نہیں تھا۔

اب آپ سے کیا چھپانا بھئی کہ 206 صفحہ پہ جو نظم ہے اس نے مجھے گرفتار کیا ہوا ہے۔ آگے بڑھنے ہی نہیں دے رہی۔

خیر اس پہ بعد میں بات کروں گا۔ پہلے مضمون نہ لکھ پانے کی ایک اور وجہ سن لیں۔

میں کلیات قاصر کے صفحہ 142 پہ پہنچا تو قاصر صاحب نے اپنا ایک نیا رنگ دکھایا اور میرے سامنے یوں جم کر کھڑے ہوگئے کہ ان کے سوا مجھے کوئی اور دکھائی ہی نہیں دے رہا تھا۔ ایذرا پاؤنڈ نے ‘اے بی سی آف ریڈنگ’ میں ایک جگہ سپنوزا کا یہ قول لکھا تھا

‘The intellectual love of a thing consists in understanding its perfections.’ Spinoza

یقین کیجئے گا میں ایذرا پاؤنڈ اور ان کی کتاب مبادیات قرآت شاعری کا حوالہ یونہی آپ پہ اپنے علم کا رعب جھاڑنے کے لیے لیکر نہیں آیا۔

بلکہ اس وقت میرے تحت الشعور میں چھپے اس کتاب میں درج سپنوزا کا قول ایسے ہی اچھل کر سامنے آیا تھا جیسےآپ گھپ اندھیرے میں کھڑے ہوں خوب بارش ہورہی ہو آپ کو کچھ سجھائی نہ دے رہا ہو اور پھر اچانک سے بجلی گرج کے ساتھ چمکے اور اس چمک میں آپ کو سامنے دس قدم تک ہر شئے نظر آئے۔

اور بصارت کا یہ منظر بس ایک لمحہ پہ محیط ہو اور پھر اندھیرا چھاجائے۔

بھئی سیدھے سبھاؤ بات کروں تو مجھے خیال آیا کہ قاصر صاحب کا جو رنگ میرے سامنے آیا ہے اور اس سے مجھے اپنے تئیں جو محبت اور سرشاری محسوس ہورہی ہے کیا یہ دانشورانہ محبت کی وہ سطح ہے

جسے سپنوزا نے کسی شئے کو اس کی کاملیت کے ساتھ سمجھنے سے تعبیر کیا تھا؟

اور پھر یہ غزل نہیں تھی بلکہ ایک مختصر سی نظم تھی۔

جس کی دس سطریں ہیں مگر جب آپ دسویں سطر پہ پہنچتے ہیں تو ایسے لگتا ہے جیسے کسی نے آپ کو دھڑام سے نیچے پھینک دیا ہو۔

میں سپنوزا تو نہیں ہوں لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ اس کی طرح بعض اوقات حرکات کرجاتا ہوں۔

یہ نظم میرے سامنے تھی اور میں کبھی اس کی جانب دیکھ رہا تھا اور کبھی دور کہیں آسمان کو تک رہا تھا اور میں اس آسمان سے آگے جانے کی کوشش میں تھا

اور یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ قاصر کی دس سطروں کی یہ نظم جب آکاش میں پہنچی تو وہاں بیٹھی ‘نوکر شاہی’ میں کیا اودھم مچا اور پھر اس وقت سدرۃ المنتھی پہ کیا ہورہا تھا؟ کیا وہاں بھی ہلچل ہوئی تھی؟

قاصر کا بیٹا عماد تو پھر سٹیٹ بینک میں بابو ورگی نوکری کرتا ہے اور اسے فائلوں پہ انسپکشن نوٹ لکھنے کا تجربہ خوف ہوگا

لیکن قاصر صاحب تو محض ایک استاد تھے اور فائلوں پہ انسپکشن نوٹ لکھنے کا انہیں کیا تجربہ ہوگا۔مگر انھوں نے انسپکشن کی بھی تو کہاں کی؟ اور پھر نوٹ لکھا بھی تو کن کے بارے میں

انسپکشن نوٹ

خدا کے آفس میں دوپہر کو

فرشتے سروس بکیں اٹھائے ہوئے کھڑے تھے

کہ ہر ملازم کی سیلری دوتہائی تخفیف چاہتی ہے

تباہیوں کی ہر اک فائل

کہ جس میں سیلاب،زلزلوں،قحط اور وباؤں کے

کیس پٹ اپ تھے

بس انی شیل کی منتظر تھی

مفاد عامہ کے سیکشنوں میں

کلرک میزوں پہ سورہے تھے

کیا’وہاں’ بھی دوپہر کو طاری کہولت نے کلرکوں کو سونے پہ مجبور کردیا تھا؟ کیا وہاں بھی ظالموں کی بستی پہ عذاب نازل کرنے کی اجازت طلب کرنے والی فائل انی شیل کی منتظر تھی؟ عجب قصّہ ہے۔

اور میں آج دسویں روز بھی اسی نظم پہ جما کھڑا تھا اور جب میرے فہم کی پرواز ‘کاملیت’ کی سرحدوں سے پرے ہی ختم ہوگئی تو میں نے اگلے صفحے پہ نظر ڈالی تو ‘بلاؤں کا نزول’ نظر آیا تو میں نے آنکھیں موند لی مگر پھر بھی قاصر نے مجھے یہ سننے پہ مجبور کردیا

اب تو جو کہہ دے کہ میں محفوظ ہوں

دل اسی کو مان لیتا ہے خدا

میں نے سوچا کہ مجھے کس نے کہا تھا،’میں محفوظ ہوں’ تو ایک دم سے وادی حسین میں بے چینی سے منتظر ایک وجود کا خیال آیا اور سوچا کہ کیا اسے ‘خدا’ کہا جاسکتا ہے؟

دیکھنے سے مرجھائے تو لاج ونتی ہے

ایک بار روٹھے تو مشکل سے منتی ہے

چاند ہے کہ سورج ہے فیصلہ نہیں ہوتا

نیل گوں دوپٹے سے روشنی سی چھنتی ہے

یوں مصوری میں گم ہورہی ہے خطاطی

نام جب لکھوں اپنا تیری شکل بنتی ہے

تیری یاد کا پرتو،چاندنی چراغ اور دل

کس قدر اجالوں سے ایک رات بنتی ہے

اٹھ کے زرد چہروں سے سوگئی سرسوں تک

زندگی! ترا آنچل آج بھی بسنتی ہے

جب بھی کوئی مشکیزہ آئے میرے خیمے کو

اک قنات نیزوں کی راستے میں تنتی ہے

میں عماد قاصر کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں جب کچھ ایسے دوستوں سے ملا جن کو خود بھی شاعری کا سودا تھا

اور وہ سب ریلوے اسٹیشن کے سب سے ویران پلیٹ فارم کے فرش پہ رات کو بیٹھ جایا کرتے تو ان میں اشعار سنانے کا ایک مقابلہ سا ہوجاتا تھا

اور پھر ان میں سے جو سب سے سینئر تھا وہ آخر میں اپنے ساتھی شاعروں کے سامنے کچھ نمونے کے اشعار سناتا تو وہ ہر بار غلام محمد قاصر کے یہ دو شعر سناتا

درد کو شکل نہ دے آہ کو تجسیم نہ کر

عقل کہتی ہے کسی ربط کو تسلیم نہ کر

لوگ خود ظلم سے مانوس ہوئے جاتے ہیں

تو ابھی عدل کے منشور میں ترمیم نہ کر

اور پھر کہتا،’ ایسا کچھ کہہ کر لانا اور پھر اس فرش عزا پہ آکر سنانا،میں تمہیں کربلائے شاعری کا مسافر مان لوں گا’

اور سچی بات ہے اس وقت اس شاعر کی یہ بات مجھے یونہی لگتی اور میں من ہی من میں کہتا’ سالا! شکل سے ہی ذاکر لگتا ہے،

تبھی تو ایسی لفاظی کرتا ہے۔ دیکھو تو ریلوے اسٹیشن کا ویران پلیٹ فارم کا فرش اسے ‘فرش عزا’ لگتا ہے۔’ آج جب میں یہ سوچتا ہوں تو بہت شرمندہ ہوتا ہوں۔

ہمارے مرحوم شعیب الرحمان جن کی ابھی 25 آگست کو برسی تھی اور ملتان سے رضی الدین رضی نے ان کی یاد میں الفاظوں سے وہ چاندنی کی کہ میں اس میں خود کو نہایا نہایا محسوس کررہا تھا۔

یہی شعیب الرحمان مرحوم عبدالغفار عرف استاد گپّی(غفی سے بگڑا کر ہوگیا گپّی) کے برف کے پھٹے کے گرد بچھی کرسیوں میں سے ایک کرسی پہ بیٹھے اور رات کے دس بج رہے تھے اور میں بھی وہاں موجود تھا۔

اس دن خوش قسمتی سے نہ تو طاہر نسیم تھا وہاں اور نہ ہی بدقسمتی سے شمس القمر خان قاسمی تھے۔

شعیب صاحب کی طبعیت عروج پہ تھی۔ تذکرہ رام ریاض کا کررہے تھے اور اچانک سے کہا،حسینی! تم نے کبھی یہ اشعار سنے ہیں؟

یہ زلزلوں کی زمیں،بارشوں کا موسم ہے

مکان گرتے ہوئے آدمی پھسلتے ہوئے

مرے لیے تو وہی عرش ہے جہاں قاصر

دعا کے لفظ ملے ہیں دھواں اگلتے ہوئے

اور اس کے بعد شعیب الرحمان ‘ہائے، واہ، ہائے واہ’ کرتے رہے اور ایسا لگا کہ خود ہی ان اشعار کو من ہی من میں دوہرا رہے ہوں اور مزا لے رہے ہوں۔

مجھے تھوڑی شرارت سوجھی کیونکہ میں جانتا تھا کہ ان کا ذوق شاعری بہت کمال کا تھا لیکن نظریات کے اعتبار سے وہ پکّے وہابی تھے بالکل مومن خان مومن کی طرح اور میں نے ان کے سامنے اشعار پڑھے

یزید لکھتا ہے تاریکیوں کو خط دن بھر

حسینؓ شام سے پہلے دِیا بناتا ہے

یزید آج بھی بنتے ہیں لوگ کوشش سے

حسینؓ خود نہیں بنتا خدا بناتا ہے

ایک دم سے شعیب الرحمان کا ہلنا بند ہوگیا اور انہوں نے گھور کر مجھے دیکھا اور کہا مجھے پتا تھا کہ تم کہاں گروگے۔۔۔۔اور میں نے ایک قہقہ لگایا۔ شعیب الرحمان ہمیشہ غالب کے شعر کا پہلا مصرعہ پڑھا کرتے

غالب ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوست

اور دوسرا مصرعہ نہ پڑھتے اور کہتے اسے پڑھا تو ‘رافضی’ ہوجاؤں گا اور جیسے ہی وہ یہ مصرعہ پڑھتے تو میرے منہ سے بے اختیار نکل جاتا

مشغول حق ہوں بندگی بوتراب میں

تو کہتے ‘ہو تو بریلوی گھر کے بچے نا،اثر تو ہوگا تم پہ’ بہرحال شعیب ان چند ایک لوگوں میں سے ایک تھے جن سے میں نے غلام محمد قاصر کے ایسے اشعار سنے جو وہ نہیں تھے جو ان کے حوالے سے اکثر لوگ سنایا کرتے تھے۔

جیسے شعیب بن عزیز کو یہ ملال ہے کہ‘کیوں اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں’ ان سے ایسا چپکا ہے کہ ان کی دوسری شاعری نظر ہی نہیں آتی تو غلام محمد قاصر پہ بھی لوگوں نےکروں گا کیا جو محبت میں ہوگیا ناکام

مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

چسپاں کردیا تھا لیکن قاصر صاحب سخت جان تھے اس سے نکل گئے اور انہوں نے ایسی اور بہت سی چیزیں کہی ہیں جن کے تذکرے کے بغیر بات بنتی نہیں ہے۔

میں بات سے بات اور زیادہ نکالوں گا نہیں۔ یہ کہنا چاہوں گا کہ ‘کلیات قاصر’ میں بہت ساری ایسی غزلیں اور نظمیں ایسی ہیں جن کی آپ جب جب قرآت کریں گے تب تب آپ پہ سرشاری طاری ہوگی۔

ایذرا پاؤنڈ نے کہا تھا کہ شاعری وہ کمال کی ہے جسے کمرہ جماعت میں پڑھو یا بازار میں سر راہ کہیں رک کر پڑھو اور پھر بستر استراحت پہ لیٹ کرسونے سے پہلے پڑھو یا کسی مجلس میں پڑھو تو وہ آپ پہ یا سننے والوں پہ بوریت طاری نہ کرے بلکہ انبساط دے یا اداسی کی چادر تان دے۔ قاصر صاحب کی شاعری ایسی ہی ہے۔

جیسا کہ میں نے آپ کو خبر دی تھی کہ اس کلیات کے صفحہ 206 سے 207 پہ ایک نظم پہ میں اٹکا ہوا ہوں اور یہ ابھی مجھے آگے نہیں بڑھنے دے رہی۔ اس نظم میں ایسا کیا ہے جس نے مجھے اٹکایا ہوا ہے؟ میں شاید الفاظ میں اسے بیان نہ کرپاؤں پہلے وہ نظم پڑھ لیجیے

ڈرانے والی بشارت

تم اس کو بھول بیٹھے ہو

جو ناآسودگی کا بوجھ اٹھائے

پانیوں سے منحرف تھا

اور گیا واپس نہ آنے کو

اگر وہ چاہتا تو اپنی کشتی کے دریدہ بادباں کو

دامن الیاس تک کچھ ایسے پھیلاتا

کہ موجیں اس کی خدمت میں سلامی

اور طوفان بلا اس کی طرف سوغات ساحل پیش کرنے کے لیے آتے

تم اس کو بھول بیٹھے

تمہیں تو وہ سفینہ یاد آتا ہے

جو غرقابی کے منظر پہ

ابھرتے ڈوبتے لمحے معلق چھوڑ کر گرداب میں اترا

اور اک بہتے ہوئے تختے پہ چھوٹی سی نشانی رکھ گیا

جس پہ فرشتہ موت کا بھی رحم کھاتا ہے

تمہیں بھی رحم آتا ہے

تمہیں اب رحم آتا ہے

مگرکل دیکھ لینا

تم جہنم میں جلو گے اور یہ اپنے لیے جنت بنائے گا

یہی سارے سفینوں کے لیے طوفان لکھے گا

تمہارے ساحلوں پہ ریت کے فرمان لکھے گا

خدا اس کو کہو گے تب تمہیں انسان لکھے گا

کلیات قاصر زندہ غزلوں اور نظموں کے بہت سے جہاں آباد ہیں۔اور میں ابھی تو صفحہ 206 سے 207 پہ لکھی’ڈرانے والی بشارت’ کے عنوان والی نظم میں اٹکا ہوا ہوں اور نجانے کب تک اٹکا رہوں گا۔

پس نوشت: ایک دن میں نے ام رباب صاحبہ کو نظم لکھ بھیجی جس کے دو اشعار لکھتا ہوں

یزید تیز ہواؤں سے جوڑ توڑ میں گُم

حسینؓ سر پہ بہن کے رِدا بناتا ہے

یزید لکھتا ہے تاریکیوں کو خط دن بھر

حسینؓ شام سے پہلے دِیا بناتا ہے

میں سوچ رہا تھا کہ ان سے اس باکمال نظم کو شئیر کرنے پہ داد وصول کروں گا۔

شاید میرے شعور کے کسی نہاں خانے میں یہ گمان بھی سر چھپا کر بیٹھا ہوا تھا کہ غلام محمد قاصر کی اس نظم کو انہوں نے کبھی پڑھا بھی ہوگا تو سرسری سا۔ اب سامنے رکھوں گا تو اور ہی بات ہوگي۔

تھوڑی دیر بعد ان کا پیغام آیا،کہنے لگیں کہ قاصر صاحب کا دیوان انہوں نے ایڈٹ کیا اور اس کے پروف پڑھے تھے عماد قاصر کے ساتھ ملکر۔

اور انہوں نے بتایا کہ وہ ان کے بارے میں بہت کچھ جانتی ہیں۔ اس کلیات کی پہلی اشاعت 2009ء میں ہوئی تھی اور میرے پاس اس کی دوسری اشاعت تھی۔ اور جب عماد قاصر کے کلیات کی جلد کے پہلے سفید براق صفحے پہ میں نے یہ الفاظ پڑھے

‘جناب محمد عامر حسینی کے لیے اپنے ورثے کا ایک عکس’

انتہائی خلوص کے ساتھ

عماد قاصر

9 جون 2018ء

تو اس عکس کے پیچھے مجھے ام رباب کا چمکتی آنکھوں کے ساتھ چہرے کا عکس نظر آیا جو مسکراتا ہوا تھا اور خوشی سے سرشار تھا۔

اس لیے چاہتا ہوں دونوں کو اس کی اشاعت اول و دوم پہ مبارکباد دے عماد قاصر نے جب مجھے ‘کلیات قاصر’ بھیجا تو میں نے ان کی محبت پہ بہت خوش تھا۔

میرا خیال تھا کہ میں ان کلیات کو پڑھتا جاؤں گا اور جس دن اس کو ختم کروں گا اسی دن ایک مضمون لکھ ماروں گا اور اس فرض سے سبکدوش ہوجاؤں گا جو میں اپنے اوپر ایک قرض کی صورت محسوس کررہا تھا۔

لیکن یہ کیا؟ مجھے تو بعض اوقات ایک غزل پہ ہفتوں لگ گئے اور میں اس غزل کے اشعار کی قرآت کی لذت سے ہی باہر آنے کو تیار نہیں تھا۔

اب آپ سے کیا چھپانا بھئی کہ 206 صفحہ پہ جو نظم ہے اس نے مجھے گرفتار کیا ہوا ہے۔

آگے بڑھنے ہی نہیں دے رہی۔ خیر اس پہ بعد میں بات کروں گا۔ پہلے مضمون نہ لکھ پانے کی ایک اور وجہ سن لیں۔

میں کلیات قاصر کے صفحہ 142 پہ پہنچا تو قاصر صاحب نے اپنا ایک نیا رنگ دکھایا اور میرے سامنے یوں جم کر کھڑے ہوگئے کہ ان کے سوا مجھے کوئی اور دکھائی ہی نہیں دے رہا تھا۔ایذرا پاؤنڈ نے ‘اے بی سی آف ریڈنگ’ میں ایک جگہ سپنوزا کا یہ قول لکھا تھا

‘The intellectual love of a thing consists in understanding its perfections.’ Spinoza

یقین کیجئے گا میں ایذرا پاؤنڈ اور ان کی کتاب مبادیات قرآت شاعری کا حوالہ یونہی آپ پہ اپنے علم کا رعب جھاڑنے کے لیے لیکر نہیں آیا۔

بلکہ اس وقت میرے تحت الشعور میں چھپے اس کتاب میں درج سپنوزا کا قول ایسے ہی اچھل کر سامنے آیا تھا جیسےآپ گھپ اندھیرے میں کھڑے ہوں اور خوب بارش ہورہی ہو اور آپ کو کچھ سجھائی نہ دے رہا ہو اور اچانک سے بجلی گرج کے ساتھ چمکے اور اس چمک میں آپ کو سامنے دس قدم تک ہر شئے نظر آئے۔ اور بصارت کا یہ منظر بس ایک لمحہ پہ محیط ہو اور پھر اندھیرا چھاجائے۔

بھئی سیدھے سبھاؤ بات کروں تو مجھے خیال آیا کہ قاصر صاحب کا جو رنگ میرے سامنے آیا ہے اور اس سے مجھے اپنے تئیں جو محبت اور سرشاری محسوس ہورہی ہے کیا یہ دانشورانہ محبت کی وہ سطح ہے جسے سپنوزا نے کسی شئے کو اس کی کاملیت کے ساتھ سمجھنے سے تعبیر کیا تھا؟ اور پھر یہ غزل نہیں تھی بلکہ ایک مختصر سی نظم تھی۔

جس کی دس سطریں ہیں۔ مگر جب آپ دسویں سطر پہ پہنچتے ہیں تو ایسے لگتا ہے جیسے کسی نے آپ کو دھڑام سے نیچے پھینک دیا ہو۔

میں سپنوزا تو نہیں ہوں لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ اس کی طرح بعض اوقات حرکات کرجاتا ہوں۔

یہ نظم میرے سامنے تھی اور میں کبھی اس کی جانب دیکھ رہا تھا اور کبھی دور کہیں آسمان کو تک رہا تھا اور میں اس آسمان سے آگے جانے کی کوشش میں تھا اور یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ قاصر کی دس سطروں کی یہ نظم جب آکاش میں پہنچی تو وہاں بیٹھی ‘نوکر شاہی’ میں کیا اودھم مچا اور پھر اس وقت سدرۃ المنتھی پہ کیا ہورہا تھا؟ کیا وہاں بھی ہلچل ہوئی تھی؟

قاصر کا بیٹا عماد تو پھر سٹیٹ بینک میں بابو ورگی نوکری کرتا ہے اور اسے فائلوں پہ انسپکشن نوٹ لکھنے کا تجربہ خوف ہوگا لیکن قاصر صاحب تو محض ایک استاد تھے اور فائلوں پہ انسپکشن نوٹ لکھنے کا انہیں کیا تجربہ ہوگا۔مگر انھوں نے انسپکشن کی بھی تو کہاں کی؟ اور پھر نوٹ لکھا بھی تو کن کے بارے میں

انسپکشن نوٹ

خدا کے آفس میں دوپہر کو

فرشتے سروس بکیں اٹھائے ہوئے کھڑے تھے

کہ ہر ملازم کی سیلری دوتہائی تخفیف چاہتی ہے

تباہیوں کی ہر اک فائل

کہ جس میں سیلاب،زلزلوں،قحط اور وباؤں کے

کیس پٹ اپ تھے

بس انی شیل کی منتظر تھی

مفاد عامہ کے سیکشنوں میں

کلرک میزوں پہ سورہے تھے

کیا’وہاں’ بھی دوپہر کو طاری کہولت نے کلرکوں کو سونے پہ مجبور کردیا تھا؟ کیا وہاں بھی ظالموں کی بستی پہ عذاب نازل کرنے کی اجازت طلب کرنے والی فائل انی شیل کی منتظر تھی؟ عجب قصّہ ہے۔ اور میں آج دسویں روز بھی اسی نظم پہ جما کھڑا تھا اور جب میرے فہم کی پرواز ‘کاملیت’ کی سرحدوں سے پرے ہی ختم ہوگئی تو میں نے اگلے صفحے پہ نظر ڈالی تو ‘بلاؤں کا نزول’ نظر آیا تو میں نے آنکھیں موند لی مگر پھر بھی قاصر نے مجھے یہ سننے پہ مجبور کردیا

اب تو جو کہہ دے کہ میں محفوظ ہوں

دل اسی کو مان لیتا ہے خدا

میں نے سوچا کہ مجھے کس نے کہا تھا،’میں محفوظ ہوں’ تو ایک دم سے وادی حسین میں بے چینی سے منتظر ایک وجود کا خیال آیا اور سوچا کہ کیا اسے ‘خدا’ کہا جاسکتا ہے؟

دیکھنے سے مرجھائے تو لاج ونتی ہے

ایک بار روٹھے تو مشکل سے منتی ہے

چاند ہے کہ سورج ہے فیصلہ نہیں ہوتا

نیل گوں دوپٹے سے روشنی سی چھنتی ہے

یوں مصوری میں گم ہورہی ہے خطاطی

نام جب لکھوں اپنا تیری شکل بنتی ہے

تیری یاد کا پرتو،چاندنی چراغ اور دل

کس قدر اجالوں سے ایک رات بنتی ہے

اٹھ کے زرد چہروں سے سوگئی سرسوں تک

زندگی! ترا آنچل آج بھی بسنتی ہے

جب بھی کوئی مشکیزہ آئے میرے خیمے کو

اک قنات نیزوں کی راستے میں تنتی ہے

میں عماد قاصر کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں جب کچھ ایسے دوستوں سے ملا جن کو خود بھی شاعری کا سودا تھا اور وہ سب ریلوے اسٹیشن کے سب سے ویران پلیٹ فارم کے فرش پہ رات کو بیٹھ جایا کرتے تو ان میں اشعار سنانے کا ایک مقابلہ سا ہوجاتا تھا اور پھر ان میں سے جو سب سے سینئر تھا وہ آخر میں اپنے ساتھی شاعروں کے سامنے کچھ نمونے کے اشعار سناتا تو وہ ہر بار غلام محمد قاصر کے یہ دو شعر سناتا

درد کو شکل نہ دے آہ کو تجسیم نہ کر

عقل کہتی ہے کسی ربط کو تسلیم نہ کر

لوگ خود ظلم سے مانوس ہوئے جاتے ہیں

تو ابھی عدل کے منشور میں ترمیم نہ کر

اور پھر کہتا،’ ایسا کچھ کہہ کر لانا اور پھر اس فرش عزا پہ آکر سنانا،میں تمہیں کربلائے شاعری کا مسافر مان لوں گا’ اور سچی بات ہے اس وقت اس شاعر کی یہ بات مجھے یونہی لگتی اور میں من ہی من میں کہتا’ سالا! شکل سے ہی ذاکر لگتا ہے،تبھی تو ایسی لفاظی کرتا ہے۔ دیکھو تو ریلوے اسٹیشن کا ویران پلیٹ فارم کا فرش اسے ‘فرش عزا’ لگتا ہے۔’ آج جب میں یہ سوچتا ہوں تو بہت شرمندہ ہوتا ہوں۔

ہمارے مرحوم شعیب الرحمان جن کی ابھی 25 آگست کو برسی تھی اور ملتان سے رضی الدین رضی نے ان کی یاد میں الفاظوں سے وہ چاندنی کی کہ میں اس میں خود کو نہایا نہایا محسوس کررہا تھا۔ یہی شعیب الرحمان مرحوم عبدالغفار عرف استاد گپّی(غفی سے بگڑا کر ہوگیا گپّی) کے برف کے پھٹے کے گرد بچھی کرسیوں میں سے ایک کرسی پہ بیٹھے اور رات کے دس بج رہے تھے اور میں بھی وہاں موجود تھا۔ اس دن خوش قسمتی سے نہ تو طاہر نسیم تھا وہاں اور نہ ہی بدقسمتی سے شمس القمر خان قاسمی تھے۔ شعیب صاحب کی طبعیت عروج پہ تھی۔ تذکرہ رام ریاض کا کررہے تھے اور اچانک سے کہا،حسینی! تم نے کبھی یہ اشعار سنے ہیں؟

یہ زلزلوں کی زمیں،بارشوں کا موسم ہے

مکان گرتے ہوئے آدمی پھسلتے ہوئے

مرے لیے تو وہی عرش ہے جہاں قاصر

دعا کے لفظ ملے ہیں دھواں اگلتے ہوئے

اور اس کے بعد شعیب الرحمان ‘ہائے، واہ، ہائے واہ’ کرتے رہے اور ایسا لگا کہ خود ہی ان اشعار کو من ہی من میں دوہرا رہے ہوں اور مزا لے رہے ہوں۔ مجھے تھوڑی شرارت سوجھی کیونکہ میں جانتا تھا کہ ان کا ذوق شاعری بہت کمال کا تھا لیکن نظریات کے اعتبار سے وہ پکّے وہابی تھے بالکل مومن خان مومن کی طرح اور میں نے ان کے سامنے اشعار پڑھے

یزید لکھتا ہے تاریکیوں کو خط دن بھر

حسینؓ شام سے پہلے دِیا بناتا ہے

یزید آج بھی بنتے ہیں لوگ کوشش سے

حسینؓ خود نہیں بنتا خدا بناتا ہے

ایک دم سے شعیب الرحمان کا ہلنا بند ہوگیا اور انہوں نے گھور کر مجھے دیکھا اور کہا مجھے پتا تھا کہ تم کہاں گروگے۔۔۔۔اور میں نے ایک قہقہ لگایا۔ شعیب الرحمان ہمیشہ غالب کے شعر کا پہلا مصرعہ پڑھا کرتے

غالب ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوست

اور دوسرا مصرعہ نہ پڑھتے اور کہتے اسے پڑھا تو ‘رافضی’ ہوجاؤں گا اور جیسے ہی وہ یہ مصرعہ پڑھتے تو میرے منہ سے بے اختیار نکل جاتا

مشغول حق ہوں بندگی بوتراب میں

تو کہتے ‘ہو تو بریلوی گھر کے بچے نا،اثر تو ہوگا تم پہ’ بہرحال شعیب ان چند ایک لوگوں میں سے ایک تھے جن سے میں نے غلام محمد قاصر کے ایسے اشعار سنے جو وہ نہیں تھے جو ان کے حوالے سے اکثر لوگ سنایا کرتے تھے۔ جیسے شعیب بن عزیز کو یہ ملال ہے کہ

‘کیوں اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں’ ان سے ایسا چپکا ہے کہ ان کی دوسری شاعری نظر ہی نہیں آتی تو غلام محمد قاصر پہ بھی لوگوں نے

کروں گا کیا جو محبت میں ہوگیا ناکام

مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

چسپاں کردیا تھا لیکن قاصر صاحب سخت جان تھے اس سے نکل گئے اور انہوں نے ایسی اور بہت سی چیزیں کہی ہیں جن کے تذکرے کے بغیر بات بنتی نہیں ہے۔

میں بات سے بات اور زیادہ نکالوں گا نہیں۔ یہ کہنا چاہوں گا کہ ‘کلیات قاصر’ میں بہت ساری ایسی غزلیں اور نظمیں ایسی ہیں جن کی آپ جب جب قرآت کریں گے تب تب آپ پہ سرشاری طاری ہوگی ۔ ایذرا پاؤنڈ نے کہا تھا کہ شاعری وہ کمال کی ہے جسے کمرہ جماعت میں پڑھو یا بازار میں سر راہ کہیں رک کر پڑھو اور پھر بستر استراحت پہ لیٹ کرسونے سے پہلے پڑھو یا کسی مجلس میں پڑھو تو وہ آپ پہ یا سننے والوں پہ بوریت طاری نہ کرے بلکہ انبساط دے یا اداسی کی چادر تان دے۔ قاصر صاحب کی شاعری ایسی ہی ہے۔

جیسا کہ میں نے آپ کو خبر دی تھی کہ اس کلیات کے صفحہ 206 سے 207 پہ ایک نظم پہ میں اٹکا ہوا ہوں اور یہ ابھی مجھے آگے نہیں بڑھنے دے رہی۔ اس نظم میں ایسا کیا ہے جس نے مجھے اٹکایا ہوا ہے؟ میں شاید الفاظ میں اسے بیان نہ کرپاؤں پہلے وہ نظم پڑھ لیجیے

ڈرانے والی بشارت

تم اس کو بھول بیٹھے ہو

جو ناآسودگی کا بوجھ اٹھائے

پانیوں سے منحرف تھا

اور گیا واپس نہ آنے کو

اگر وہ چاہتا تو اپنی کشتی کے دریدہ بادباں کو

دامن الیاس تک کچھ ایسے پھیلاتا

کہ موجیں اس کی خدمت میں سلامی

اور طوفان بلا اس کی طرف سوغات ساحل پیش کرنے کے لیے آتے

تم اس کو بھول بیٹھے

تمہیں تو وہ سفینہ یاد آتا ہے

جو غرقابی کے منظر پہ

ابھرتے ڈوبتے لمحے معلق چھوڑ کر گرداب میں اترا

اور اک بہتے ہوئے تختے پہ چھوٹی سی نشانی رکھ گیا

جس پہ فرشتہ موت کا بھی رحم کھاتا ہے

تمہیں بھی رحم آتا ہے

تمہیں اب رحم آتا ہے

مگرکل دیکھ لینا

تم جہنم میں جلو گے اور یہ اپنے لیے جنت بنائے گا

یہی سارے سفینوں کے لیے طوفان لکھے گا

تمہارے ساحلوں پہ ریت کے فرمان لکھے گا

خدا اس کو کہو گے تب تمہیں انسان لکھے گا

کلیات قاصر زندہ غزلوں اور نظموں کے بہت سے جہاں آباد ہیں۔اور میں ابھی تو صفحہ 206 سے 207 پہ لکھی’ڈرانے والی بشارت’ کے عنوان والی نظم میں اٹکا ہوا ہوں اور نجانے کب تک اٹکا رہوں گا۔

پس نوشت: ایک دن میں نے ام رباب صاحبہ کو نظم لکھ بھیجی جس کے دو اشعار لکھتا ہوں

یزید تیز ہواؤں سے جوڑ توڑ میں گُم

حسینؓ سر پہ بہن کے رِدا بناتا ہے

یزید لکھتا ہے تاریکیوں کو خط دن بھر

حسینؓ شام سے پہلے دِیا بناتا ہے

میں سوچ رہا تھا کہ ان سے اس باکمال نظم کو شئیر کرنے پہ داد وصول کروں گا۔

شاید میرے شعور کے کسی نہاں خانے میں یہ گمان بھی سر چھپا کر بیٹھا ہوا تھا کہ غلام محمد قاصر کی اس نظم کو انہوں نے کبھی پڑھا بھی ہوگا تو سرسری سا۔

اب سامنے رکھوں گا تو اور ہی بات ہوگي ۔ تھوڑی دیر بعد ان کا پیغام آیا،کہنے لگیں کہ قاصر صاحب کا دیوان انہوں نے ایڈٹ کیا اور اس کے پروف پڑھے تھے عماد قاصر کے ساتھ ملکراور انہوں نے بتایا کہ وہ ان کے بارے میں بہت کچھ جانتی ہیں۔

اس کلیات کی پہلی اشاعت 2009ء میں ہوئی تھی اور میرے پاس اس کی دوسری اشاعت تھی۔

اور جب عماد قاصر کے کلیات کی جلد کے پہلے سفید براق صفحے پہ میں نے یہ الفاظ پڑھے

‘جناب محمد عامر حسینی کے لیے اپنے ورثے کا ایک عکس’

انتہائی خلوص کے ساتھ

عماد قاصر

9 جون 2018ء

تو اس عکس کے پیچھے مجھے ام رباب کا چمکتی آنکھوں کے ساتھ چہرے کا عکس نظر آیا جو مسکراتا ہوا تھا اور خوشی سے سرشار تھا۔ اس لیے چاہتا ہوں دونوں کو اس کی اشاعت اول و دوم پہ مبارکباد دے


شیئر کریں: