آج حکومت کس کی ہے؟

شیئر کریں:

تحریر سید محمد تقی (دبئی)

کورونا وائرس پر انسان کی بے بسی
خدا اپنے بندوں سے پوچھ رہا ہے
“آج کس کی حکومت ہے؟ اسی الّٰلہ کی جو واحد و قہار ہے”
بیشک یہی سچ ہے لیکن ہم یہ سوچنے پر مجبور ضرور ہیں کہ اس وقت حکومت وقت کی کیا زمہ داری ہے؟
کیا حکومت کورونا کو قدرتی آفات کہہ کر بری الزمہ ہو سکتی ہے۔
یقیناً نہیں اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کورونا وائرس کے تناظر میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے وزیراعظم نے معاشی پیکیج منظور کیا۔
یہاں سوال یہ ہے کہ وزیراعظم معاشی ریلییف پیکچ کیا مستحقین تک پہنچ پائے گاَ؟
اس پیکج کو کس طرح مستحق حضرات تک پہنچا یا جائے گا؟
لاک ڈاؤن کے ہونے سے معاشی بحران زیادہ سنگین ہوتا نظر آرہا ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکومتیں صورت حال کو کنٹرول میں رکھنے کی خاطر مؤثر اقدامات کیلئے کوشاں ہیں۔
جبکہ صوبوں کا مستحق گھرانوں تک امدادی رقوم اور سامان پہنچانے میں اس امر کا یقینی بنایا جانا ضروری ہے کہ یہ پورا عمل ہر قسم کی لوٹ کھسوٹ سے پاک رہے اور ضرورت مندوں کی امانت ان تک گھر بیٹھے باعزت طریقے سے پہنچائی جائے۔
اس وقت ضرورت ہمیں ایسے ڈیٹا کی ہے جو ہمیں بتا سکے کہ کس گھر میں امداد کی اشد ضرورت ہے۔
اس گھر میں کتنے لوگ بر سر روزگار ہیں؟
اس وقت بہتر یہ ہے کہ ہم نادرا اور خانہ شماری کے ریکارڈ کو اپنا ہدف بنائیں اور ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کے رضاکاروں کو بھی اس کار خیر میں استعمال کریں۔
اس عمل سے انصاف کے ساتھ حق دار کو اس کا حق پہنچانے میں آسانی ہو گی۔
دھیان ضروری ہے کہ رضاکار تنظیمیں سامان گھر تک پہنچائے اور رش سے اجتناب برتا جائے۔
بازاروں میں ذخیرہ اندوزوں کے منافع خوری کے حربوں کا بھی بروقت ناکام بنایا جانا ضروری ہے۔
یہ سلسلہ ملک کے مختلف حصوں میں شروع ہو چکا ہے بازاروں میں ذخیرہ اندوزوں کے منافع خوری کے حربوں کا بھی بروقت ناکام بنانا ضروری ہے۔
یہاں ہم ارباب اختیار سے یہ اپیل کرتے کہ یہ امداد ریوڑیاں سمجھ کر اپنوں میں ہی نہ بانٹتے پھریں۔
خدانخواستہ غریب عوام کورونا وائرس جیسی مہلک وبا سے تو بچ جائیں گے لیکن کوئی بھوک سے نہ مرجائے۔
مولا علی کا قول ہے انسانیت ایک بڑا خزانہ ہے اسے لباس میں نہیں انسان میں تلاش کرو


شیئر کریں: