February 9, 2020 at 1:11 pm

Maulvi Abdul Aziz

لال مسجد سے نکالے گئے مولوی عبدالعزیز نے ہفتہ کو خواتین اور چھوٹے بچوں کو شیلڈ بناتے ہوئے لال مسجد کے گرد لگی باڑ پھلانگ کر مسجد پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔

جامعہ حفصہ کی طالبات نے اسلام آباد کے سیکٹر ایچ میں سیل کردیے جانے والے مدرسے کے گیٹ پر لگی سیل توڑی اور اندر داخل ہو گئیں۔

مولوی عبدالعزیز ایک بار پھر نوجوان عورتوں اور کم عمر کے بچوں کو شیلڈ بناکر حکومت کے اعصاب کا امتحان لے رہے ہیں۔

مولوی عبدالعزیز کا تعلق سرائیکی خطے کے پسماندہ ترین ضلع راجن پور کی بستی عبداللہ سے ہے۔

مولوی عبدالعزیز کے والد مولوی عبداللہ 1935ء میں پیدا ہوئے۔

ان کے والد غازی محمد برٹش حکومت کے خلاف سرگرمیوں کی پاداش میں جیل گئے تو وہاں ان کا تعارف دارالعلوم دیوبند اور جمعیت علمائے ہند سے تعلق رکھنے والے قیدی مولویوں سے ہوا اور ان کے خیالات میں تبدیلی آئی۔

انھوں نے اپنے سات سالہ بیٹے عبداللہ کو مقامی مدرسے میں داخلہ دلوایا۔

بعد میں مولوی عبداللہ جامعہ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی میں داخل ہوئے اور وہاں سے درس نظامی کا امتحان پاس کیا۔ مولوی عبداللہ 1966ء میں ایوب خان کے زمانے میں آبپارہ مارکیٹ کے پاس قائم محکمہ اوقاف کے کنٹرول میں موجود لال مسجد کے خطیب بنے۔

مولوی عبداللہ جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری جس ادارے میں پڑھے یہ 1955ء میں خیبر پختونخواہ کے ضلع مردان کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے مولانا سید محمد یوسف بنوری کے ہاتھوں سے بنا اور وہی اس کے پہلے مہتمم تھے۔

مولانا یوسف بنوری پشاور،کابل اور پھر دیوبند کے مدارس میں پڑھے۔

ان کو دارالعلوم دیوبند کی بڑی شخصیات مولانا انور شاہ کاشمیری، مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا حسین احمد مدنی کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا۔

مولانا کا خاندان معروف صوفی سید آدم بنوری کی اولاد میں سے تھے اور حسینی سید تھے۔

ان کو مولانا اشرف علی تھانوی سے کئی سلاسل میں خلافت بھی ملی اور اس طرح سے وہ خود بھی سلسلہ نقشبندیہ میں لوگوں سے بیعت لیا کرتے تھے۔

مولانا یوسف بنوری دارالعلوم دیوبند کی اصلاح پسندانہ صوفی روایت سے تعلق رکھتے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ وہ اسلامی سوشلزم کے حامی اور پہلے جمعیت علمائے ہند پھر جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ وابستہ رہے۔

وہ مولانا شبیر عثمانی کے بھی خاص شاگردوں میں سے تھے۔

مولانا یوسف بنوری دارالعلوم دیوبند کے اندر شیعہ اور صلح کل تصوف کی روایت کے پیروکاروں کے خلاف جارحانہ رویہ تو رکھتے تھے لیکن اپنے استاد مولانا انور شاہ کاشمیری کی طرح شیعہ لفظ کے عموم پر کفر کا فتوی نہیں دیا کرتے تھے۔

وہ اثناء عشری شیعہ پر عمومی کفر کا فتوی نہیں دیا کرتے تھے-

وہ حیات بعد الموت یعنی عالم برزخ میں زندگی کے قائل اور سماع موتی کے بھی قائل تھے۔

ایسے ہی توسل کی کئی اقسام کو شرعی خیال کرتے تھے۔

صاحب قبر کی قبر پر صاحب قبر سے خطاب کو درست خیال کرتے تھے لیکن ان کے شاگرد مولوی عبداللہ نے اس معاملے میں اپنے استاد کی پیروی نہیں کی۔

نہ اس معاملے میں انھوں نے دارالعلوم دیوبند کے بانی مولانا قاسم ناناتوی، نہ ہی مفتی محمود حسن دیوبندی اور نہ ہی اشرف علی تھانوی کی پیروی کی۔

اہل تشیع کے معاملے میں انھوں نے دارالعلوم دیوبند کے مفتی رشید احمد گنگوہی، مفتی محمود حسن دیوبندی اور مولانا حسین احمد مدنی کے جارحانہ رجحانات کی پیروی کی۔

ایسے ہی بریلوی اور دیگر صوفی روایات پر عمل پیرا گروہوں کے معاملے میں مولوی عبداللہ نے شیخ ابن تیمیہ اور شاہ اسماعیل دہلوی کی پیروی کی۔

جامعۃالعلوم السلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی مولانا یوسف بنوری کی وفات کے بعد اور ان کے داماد کی وفات کے بعد بہت تیزی سے تکفیریت اور وہابی جہاد ازم کی طرف منتقل ہوا۔

اور 80ء کی دہائی سے یہ باقاعدہ جہادی اور فرقہ پرست عسکریت پسند تنظیموں کے لیے بھرتی کا گڑھ بن گیا۔

مولوی عبداللہ نے اسلام آباد میں جامعۃ العلوم الاسلامیہ فریدیہ ای سیکٹر میں جہاد افغانستان، جہاد کشمیر پروجیکٹ کو پوری طرح سے سپورٹ کیا۔

انھوں نے اپنے بیٹے مولوی عبدالرشید غازی کو افغانستان میں حرکتہ اسلامی افغانستان کے تحت سوویت یونین اور افغان سوشلسٹ حکومت کے خلاف لڑنے بھیجا- 60ء کی دہائی میں دیوبندی فرقے سے جب یزید کے خلیفہ برحق ہونے کی ایک باقاعدہ تحریک محمود عباسی کی قیادت میں چلی تو مولوی عبداللہ نے محمد عباسی کی کتاب ‘خلافت و ملوکیت’ کی تائید کی اور ایسے ہی یزید کے حق میں لکھی گئی ایک کتاب جو 80ء کی دہائی میں شایع ہوئی اس پر تقریظ بھی لکھی-

مولوی عبداللہ جنرل ضیاء الحق کے زبردست حامیوں میں سے تھے-

بعد میں انہیں میاں محمد نواز شریف نے بھی بہت عزیز رکھا اور 1997 میں وہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چئیرمین بھی بنادیے گئے-

مولوی عبداللہ تحریک طالبان افغانستان کے زبردسۃ حامی تھے-

انھوں نے اپنے بیٹے عبدالرشید ‎سمیت اپنے ہم خیال دیوبندی علماء کے ساتھ کابل کا دورہ کیا اور وہ وہاں پر نہ صرف ملّا عمر سے ملے بلکہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن اور اس وقت القاعدہ کے آپریشنل چیف ایمن الزواہری سے بھی ملاقات کی-

ان کی مادر علمی یعنی دار العلوم السلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی سے ملّاعمر، مولوی مسعود اظہر، قاری سیف اللہ اختر، القاعدہ ہندوستان کا سربراہ عاصم عمر،اعظم طارق، فضل الرحمان خلیل، عبدالمالک ریگی سربراہ جند اللہ ایرانی بلوچستان سمیت درجنوں بڑے جہادی اور فرقہ پرستوں نے تعلیم پائی-

مولوی عبداللہ نے اپنے بیٹے مولوی عبدالعزیز کو بھی اسی دارالعلوم سے پڑھایا تھا-

مفتی نظام الدین شامزئی جن کو القاعدہ اور افغان طالبان کے نظریاتی استادوں میں سے ایک کہا جاتا ہے کا تعلق بھی اسی مدرسے سے تھا-

جیش محمد، سپاہ صحابہ پاکستان، حرکت الاسلامی ، حرکت الجہاد ، حرکت المجاہدین اور حرکۃ الانصار بھی اسی مدرسے کے برین چائلڈ بتائے جاتے ہیں۔

مولوی عبداللہ کو ان ابتدائی ریڈیکل دیوبندی علماء میں سے خیال کیا جاتا ہے جنھوں نے جنرل ضیاء الحق کی افغانستان اور کشمیر میں نام نہاد جہاد پالیسی کے لیے پراکسی جنگ کا حصّہ بننا قبول کیا-

یہ ان دیوبندی مولویوں میں بھی ہر اول دستہ تھے جنھوں نے سعودی عرب ایران کی باہمی پراکسی جنگ میں سعودی کیمپ کا حصّہ بننا پسند کیا-

یہ جنرل ضیاء الحق کی طرف سے پاکستان کی ریڈیکل دیوبندائزشن کے عمل کا حصّہ بھی بنے اور پاکستان میں فرقہ وارانہ منافرت کے پھیلاؤ میں اہم ترین کردار ادا کیا-

یہ ان دیوبندی علماء میں شامل تھے جو سپاہ صحابہ پاکستان کی ملک بھر میں اینٹی شیعہ تحریک کی سرپرستی کرتے تھے۔

مولوی عبدالعزیز اپنے والد کی ریڈیکل،فرقہ پرستانہ،عسکریت پسندانہ متشدد اور تکفیری فسطائی دیوبندی ازم کے جانشین ہیں۔

مولوی عبداللہ پاکستان میں افغان طالبان کی قائم کردہ امارت اسلامی افغانستان کی طرز پر پاکستانی ریاست کی تشکیل چاہتے تھے۔

اور اس زمانے میں پاکستان کی اسٹبلشمنٹ میں ضیاء الحقی باقیات کا ان کو بھرپور تعاون حاصل تھا-

ان کے عالمی (جہادی) دہشت گردوں تنظیموں جیسے القاعدہ، طالبان اور ایسے ہی علاقائی جہادی تحریکوں کی بانی قیادت سے گہرے روابط تھے۔

ان کے بیٹے اور لال مسجد ميں فوجی آپریشن کے دوران مارے جانے والے مولوی عبدالرشید کا الزام ہے کہ ان کے والد کے 17 اکتوبر 1998ء کو قتل میں حساس اداروں کے کچھ افسران ملوث تھے جنھوں نے قاتل کو گرفتار ہونے کے ایک دن بعد ہی چھوڑ دیا تھا۔

ایک مبینہ افسر نے دھمکی دی کہ اگر وہ خاموش نہ ہوئے تو اپنے والد جیسے انجام کے لیے تیار رہیں-

ایسا لگتا ہے کہ اٹھانوے کے آتے آتے مولوی عبداللہ ان ریڈیکل عسکریت پسند دیوبندی علماء میں شامل ہونے لگے تھے جو افغان طالبان کے ماڈل پر پاکستان کی طالبنائزیشن چاہتے تھے جس کے سبب ان کے اسٹبلشمنٹ سے فاصلے پیدا ہوگئے تھے۔

اسی کے بعد ان کا قتل ہوا جس کے بعد غازی عبدالرشید نے نائن الیون کے فوری بعد امریکا کے افغانستان پر حملے اور طالبان سے کابل کو چھین لینے کے بعد پاکستانی ریاست کے خلاف اعلان جہاد کردیا تھا-

اس زمانے میں مولوی عبدالعزیز نے پاکستانی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کو خلاف اسلام قرار دے ڈالا-

مولوی عبدالعزیز اور مولوی عبدالرشید نے خواتین، بچوں اور عسکریت پسندوں کے ساتھ لال مسجد اور اس سے ملحقہ سرکاری لائبریری پر قبضہ کرلیا۔

پاکستان میں طالبان طرز کے اسلام کے نفاذ کا مطالبہ کردیا جس کا نتیجہ لال مسجد ملٹری آپریشن تھا۔

لال مسجد پر ملڑی آپریشن کے بعد مختلف دیوبندی عسکریت پسند تنظیموں کے عسکریت پسندوں پر مشتمل غازی فورس بنی اور ایسے تنظیم الفرقان بنی جس نے فوج، پولیس، انٹیلی جںس ایجنسیوں ، سرکاری تنصیبات کے ساتھ ساتھ مسیحی کلیساؤں،مزارات ، شیعہ عزاداری کے جلوسوں اور مجالس پر دہشت گرد حملے کیے-

مولوی عبدالعزیز نے اعلانیہ سپاہ صحابہ کی اینٹی شیعہ مہم، تحریک طالبان کی عسکریت پسندی ، القاعدہ اور داعش کی شام ،عراق،افریقہ ، پاکستان میں کاروائیوں کی حمایت کی۔

ایسے ہی آرمی پبلک اسکول پشاور میں دہشت گرد کارروائی پر تحریک طالبان پاکستان کی مذمت کرنے سے انکار کردیا-

یہ سب اقدامات مولوی عبدالعزیز کی دیوبندی ازم کی تکفیری ریڈیکل فسطائی شکل سے وابستگی کے صاف مظہر ہیں۔

مولوی عبدالعزیز آج تک آزاد پھر رہے ہیں بلکہ سابق چیف جسٹس افتخار چودھری سے متعلق بھی بعد میں معلوم ہوا کہ وہ بھی ریڈیکل دیوبندی ازم کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں۔

انہوں نے لال مسجد پر کیے گئے آپریشن کو ناجائز قرار دیتے ہوئے مولوی عبدالعزیز کو مدرسے کے لیے متبادل جگہ فراہم کرنے کا حکم بھی دے ڈالا۔

جسے ریاست پاکستان نے چیلنج کیا ہوا ہے لیکن آج تک اس کی کوئی سماعت نہیں ہوئی۔

مولوی عبدالعزیز ایک بار پھر پاکستان کے دارالحکومت میں انتظامیہ کے لیے سردرد بنے ہوئے ہیں۔

وہ سرکاری زمین پر بنی لال مسجد جو اس وقت محکمہ اوقاف کے کنٹرول میں ہے وہاں خطیب کی نوکری واپس چاہتا ہے تاکہ وہ اپنے فرقہ پرستانہ اور فساد فی الارض والے خیالات کو سرکاری کنٹرول والی مسجد میں بیٹھ کر پھیلا سکے-

اس کا مطالبہ ہے کہ سرکاری زمین پر ایچ سیکٹر اسلام آباد میں ناجائز قائم کیا جانے والا خواتین کا مدرسہ جامعہ حفصہ جسے حکومت نے سیل کررکھا ہے اس کے متبادل اسے کم از کم 16 کنال رقبہ اور 25 کروڑ روپے دیے جائیں-

لال مسجد کے ساتھ جو سرکاری لائبریری ہے اس کا کنٹرول بھی اس کے حوالے کیا جائے۔
مولوی عبدالعزیز جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں ریڈیکل دیوبندی ازم کے لیے موجود اسٹبلشمنٹ کی سرپرستی اور نوازشات کا زمانہ واپس لوٹانے کے خواہش مند ہیں جو صرف ان کا ہی نہیں بلکہ ریڈیکل دیوبندی ازم سے جڑے نیٹ ورک کے ہر ایک شخص کا خواب ہے۔
کیا پاکستان کی سویلین اور فوجی قیادت مولوی عبدالعزیز کے آگے ہتھیار ڈال دے گی؟

کیا وہ مولوی عبدالعزیز کو اپنا نیٹ ورک چلانے کے لیے اسلام آباد کے عین مرکز میں لال مسجد کی خطابت، جامعہ حفصہ کے ازسرنو قیام کے لیے سرکاری زمین اور 25 کروڑ روپے دے گی؟

آگر مولوی عبدالعزیز کے آگے ریاست و حکومت سرنڈر کرے گی تو پھر وہ بریلوی فرقے کی تحریک لبیک ، دیوبندی انتہا پسند اینٹی شیعہ تنظیم سپاہ صحابہ، اہلحدیث جہادی تنظیم جماعت دعوہ سمیت باقی کے ریڈیکل گروپوں کو کیسے روک پائے گی؟

تحریر عامر حسینی

Facebook Comments