February 10, 2020 at 12:26 pm

مہنگائی کا لفظ جھگیوں، کچے پکے مکانات ، کوٹھیوں اور محلات سے نکل کر وزیر اعظم ہاؤس اور ایوان بالا تک پہنچ گیا۔

جسے دیکھو امیر ہو یا غریب اس کی چیخیں مہنگائی نے نکال دی ہیں۔

پونے 2 سال سے عوام شدید مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے عوامی غیض و غضب دیکھتے ہوئے بیان داغ دیا کہ مہنگائی کے خلاف وہ ہر حدتک جائیں گے۔

ساتھ ہی وزیر اعظم عمران خان اور ان کی کابینہ یہ کہتے کہتے نہیں تھکتی کہ مہنگائی سابقہ حکومتوں کی لوٹ مار کا نتیجہ ہے۔

مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام نے اس نعرہ کو اب مسترد کر دیا تو وزیر اعظم عمران یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ عوام کو ریلیف دینا ہوگا ورنہ ہمیں حکومت کرنے کا حق نہیں۔

وزیراعظم عمران خان کے منہ سے نکلے عوامی الفاظ بہت سوں کے دلوں میں وقتی طور پر جگہ ضرور کر گئے ہوں گے۔

بہت سے ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کی جذباتی تقاریر تو ہم اپوزیشن پارٹی کی حیثیت سے مسلسل سنتے چلے ہیں عملی طور پر تو کچھ دیکھائی نہیں دیتا۔

عوام کہتی ہے مسائل محض جذباتی تقاریر سے کسی صورت حل نہیں ہوتے، وزیر اعظم عمران خان کو اپنے عمل سے ثابت کرنا ہو گا کہ وہ مہنگائی ختم کرنے میں کس قدر سنجیدہ ہیں ،عوام مزید بے وقوف بننے کو تیار نہیں۔

مہنگائی پہلے بھی تھی ایسا ہرگز نہیں کہ پہلے ہر شے سستی تھی لیکن مہنگائی میں کئی گنا اضافہ موجودہ دور حکومت میں ہوا۔

عوام اور حتی کے حلقوں کی سیاست پر یقین رکھنے والے تحریک انصاف عمران کان کے بعض اراکین بھی چیخ رہے تھے کہ مہنگائی بہت ہوگئی ہے

روز مرہ استعمال کی اشیا تیزی سے مہنگی ہورہی ہیں کنٹرول کیا جائے لیکن ایکشن لینے والوں کے کانوں میں روئی ٹھونس دی گئی۔

ملک کے عوام حکمرانوں سے سوال کررہے ہیں کہ کھانے پینے کی تمام اشیاء پاکستان میں ہی کاشت کی جاری ہیں تو پھر ان کی قیمتوں کے بڑھنے کا کیا جواز رہ جاتا ہے؟

کاروباری حضرات پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کو جوز بنا کے مہنگئی میں کئی گنا اضافہ کر دیتے ہیں۔

لیکن افسوس ناجائز منافع خوروں کو پکڑنے والا کوئی نہیں اور گھر کی چیزوں پر بھی پیٹرول چھڑکا جارہا ہے۔

بدقسمتی سے اس پیٹرول پر آگ لگانے کا کام ہمارے وزرا کر رہے ہیں۔

عوام کا کہنا ہے کہ مشرف دور میں بھی آٹے اور چینی کا مصنوعی بحران پیدا کیا گیا تھا۔

مشرف دور میں بھی جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کابینہ میں شامل تھے ناصرف عوام بلکہ حکومت میں شامل وزرا کی انگلیاں بھی انہی پر اٹھائی جارہی ہیں۔

وزیراعظم عمران خان اور وزرا مسلسل مافیا اور کرپٹ عناصر کا ذکر کر رہے ہیں۔

کرپٹ عناصر اور مافیا مافیا کے نعرے تو بلند کیے جارہے ہیں لیکن عوام کو ان کے نام نہیں بتائے جارہے۔

عوام یہ بھی سوال کر رہے ہیں کہ کیا وزیراعظم عمران خان کو علم نہیں شوگر اور آٹے کا کاروبار کون لوگ کر رہے ہیں؟

کس کو نہیں معلوم کہ چینی کے کاروبار میں جہانگیر ترین اور آٹے کے کاروبار سے خسرو بختیار منسلک ہیں۔

کیا ان سے نہیں پوچھا جا سکتا تھا کہ بھئی عوام کے اس قدر ظلم کیوں روا رکھا جارہا ہے؟

کسی بھی مسئلہ کو حل کرنے کے لیے بیان بازی یا لفاظی کافی نہیں ہوتی۔

حکومت نے عوام کو خوب سہانے خواب دکھائے اور بلند و بانگ دعویٰ بھی کیے گئے لیکن ان سب کا الٹ ہی ہوا۔

عوام کا مزید یہ بھی کہنا ہے کہ تحریک انصاف عمران خان نے حکومت میں آنے سے پہلے کرپشن اور مہنگائی ختم کرنے کے دعوے کیے تھے حکومت میں آتے ہی وہ ہوا ہوئے۔

پونے 2 سال گزر گئے کرپشن ختم یا کم ہونے کے بجائے بھڑتی ہی جارہی ہے۔

محض مہنگائی پر تشویش ظاہر کرنے سے کچھ نہیں ہوگا اگر عوام کا خیال ہے کہ جنگی بنیادوں پر ریلیف دینا ہوگا۔

اگر اب بھی کچھ نہ کیا گیا تو پھر مہنگائی کے خلاف عوام کا سڑکوں پر آنا ناگزیر ہو جائے گا۔

منشتر عوام اپنے پیٹ کے لیے پھر کچھ نہیں دیکھیں گے سب کو بہا کے لے جائیں گے۔

Facebook Comments