February 14, 2020 at 10:06 am

وزیراعظم عمران خان

سولین وفاقی خفیہ ایجنسی سے اپنی ٹیم کے ارکان بارے رپورٹس کے بعد وزیراعظم کے بعض کابینہ ارکان کے ساتھ تعلقات میں خاصی سرد مہری آگئی ھے جس کا پہلا سرعام اظہار منگل کے روز اس وقت ہوا جط وفاقی کابینہ کی ھفتہ وار میٹنگ میں وزیراعظمعمران خان نے وفاقی وزیر تجارت رزاق داؤد کے ساتھ خاصے سخت لہجے میں بات کی . ذرائع کے مطابق گزشتہ منگل کو ہونے والے کابینہ اجلاس میں دیگر وزراء سمیت سبھی شرکاء اس وقت حیرت زدہ رہ گئے جب وزیراعظم عمران خان نے رزاق داؤد کے ساتھ سخت رویہ اپنایا اور بازپرس کے انداز میں ان سے تلخ لہجے میں مکالمہ کیا . ساتھی وزراء سمیت اجلاس میں شریک افراد میں سے شائد ہی کسی کو معلوم ہو کہ وزیراعظمعمران خان کے رویے میں سرد مہری اور لہجے میں قدرے تلخی کی وجہ کیا ھے .

باخبر ذرائع کے مطابق ملک کی واحد سویلین خفیہ ایجنسی نے حال ہی میں بعض اتحادی جماعتوں کے لیڈران اور وزیراعظم کے قریبی رفقاء کے علاوہ فردا” فردا” تمام وفاقی وزراء بارے مفصل خفیہ رپورٹس وزیراعظم عمران خان کو پیش کی ہیں جن میں وزیراعظم کی نہائت قریبی رفیق اور ذاتی دوست تصور کی جانے والی بعض شخصیات اور ان کے ساتھیوں کی نجی محفلوں میں کی جانے والی گفتگو کی خفیہ آڈیو ریکارڈنگ تک شامل ھے ، جس میں یہ شخصیات اور ان کے ساتھی وزیراعظم عمران خان بارے ناپسندیدہ اور منفی ریمارکس دیتے پائے گئے .

ذرائع کا کہنا ھے کہ وزیراعظم نے خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی اپنے بارے ایسی گفتگو سن کر وہ سکتے میں رہ گئے ، ان شخصیات میں سے بعض کو وزیراعظم علیحدگی میں ملاقات کے لئے طلب بھی کر چکے ہیں جن کے ساتھ وزیراعظم “سیدھے” ہوگئے

ذرائع کے مطابق انہی خفیہ آڈیو ٹیپس کی بنیاد پر بعض اھم شخصیات کے ساتھ وزیراعظم کے تعلقات میں فاصلوں اور دوریوں نے جگہ پالی ، یہی خفیہ tapes سننے کی وجہ سے وزیراعظم عمران خان نے اپنے حالیہ دورہ لاہور میں حکومت کی ایک بڑی اتحادی جماعت ، مسلم لیگ (ق) کی اعلیٰ قیادت میں شامل سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی سے ملاقات کرنا گوارہ نہیں کیا اور ایسی ہی خفیہ آڈیو ریکارڈنگ کی بنیاد پر “کپتان” نے اپنے قریب ترین دوست جہانگیر ترین سے فاصلہ اختیار کیا .

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کو پیش کی گئیں خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئیں آڈیو رپورٹس میں سے ایک میں چوہدری پرویز الٰہی اور ان کے قریبی ساتھی وزیراعظم عمران خان بارے منفی اور ناپسندیدہ گفتگو کر رہے ہیں جبکہ ایسی ہی ایک دوسری ٹیپ میں جہانگیر ترین اپنے بعض قریبی ساتھیوں کے ہمراہ وزیراعظم عمران خان بارے غیر پسندیدہ باتیں کرتے اور منفی ریمارکس دیتے پائے گئے جس کی بنیاد پر وزیراعظم عمران خان اور جہانگیر ترین کے درمیان چند روز کے تناؤ کے بعد ہونے والی ون آن ون ملاقات قدرے ناخوشگوار ماحول میں ہوئی .

بتایا جاتا ہے کہ دونوں دیرینہ دوست شخصیات کی اس ملاقات میں وزیراعظم نےجہانگیر ترین کے ساتھ قدرے رکھائی کا رویہ اپنائے رکھا اور سپاٹ لہجے میں مکالمہ کیا .

ذرائع کا کہنا ھے کہ وفاقی خفیہ ادارے کی طرف سے وزیراعظم کو سنوائی گئی ایک خفیہ ریکارڈنگ میں وفاقی وزیر تجارت رزاق داؤد اپنے رفقاء کے ساتھ وزیراعظم عمران خان بارے ناپسندیدہ باتیں کرتے پائے گئے .

ذرائع کے مُطابق وزیراعظم عمران خان کی ٹیم یعنی وفاقی کابینہ کے تمام  اراکین کی اپنے “کپتان” کے ساتھ ذاتی وفاداری کے حوالے سے بھی خفیہ رپورٹیں وزیراعظم عمران خان کو دی گئی ہیں جن میں فواد چوہدری اور شیخ رشید جیسے بعض وزراء بارے کہا گیا ھے کہ یہ لوگ اگرچہ وقتا” فوقتا”  publicly (عوامی سطح پر) ایسے بیانات دیتے ہیں جن سے لگتا ھے کہ ان کے وزیراعظم سے اختلافات ہیں مگر وہ وزیراعظم سے loyal ہیں.

البتہ شیخ رشید کو شاہ محمود کی طرح ایک  ambitious شخص قرار دیتے ہوئے diplomacy یعنی مصلحت کیش شخصیات کے زمرے میں بھی شامل دکھایا گیا ہے جبکہ مصلحت کیش قرار دیئے گئے دیگر کابینہ اراکین میں پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی ، مخدوم خسرو بختیار اور سید فخر امام سمیت جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے تینوں اھم وزراء شامل ہیں . شیخ رشید سمیت مذکُورہ وزراء کو ایسے سینئر منجھے ہوئے سیاستدان قرار دیا گیا ھے جو محض بطور ایک سیاسی آپشن پی ٹی آئی حکومت اور “کپتان ” کی ٹیم کا حصہ ہیں ، یعنی جو ہواؤں کا رُخ بھی سمجھتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کی خواہش کا بھی ہمیشہ پاس کرتے ہیں .

مزید پڑھیں:

شخصی حوالے سے کابینہ ارکان بارے خفیہ ایجنسی کی رپورٹ میں شفقت محمود ، مراد سعید ، پرویز خٹک اور حماد اظہر کو loyal یعنی وزیراعظم عمران خان کا وفادار قرار دیا گیا ہےَ ، جنہیں “کپتان” کی “ہارڈ کور” hard Core یعنی پوری طرح committed اور وفادار “کھلاڑی” گردانا گیا ھے.

جبکہ تیسری کیٹگری میں ان کابینہ ارکان کو رکھا گیا ھے جنہیں مقتدر حلقوں نے وزیراعظم کی ٹیم میں شامل کروایا.

یاد رہے پچھلے دنوں وزیراعظم عمران خان کو مقتدر حلقوں کی طرف سے مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ سیاسی مخالفین ، بلیک میل کرنے کی کوشش کرنے والے “سرکش” اراکین اسمبلی اور “سیاسی خود سری” پر قابو پانے کی غرض سے سول سیکرٹ سروس “آئی بی” کو استعمال کریں جسے ماضی میں نہ صرف نوازشریف اور آصف زرداری بلکہ فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف بھی اھم سیاسی آپریشنز کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں .

ذرائع کے مطابق مقتدر قوتوں نے وزیراعظم کو قائل کیا کہ ایف آئی اے انٹیلیجنس ایجنسیوں کے مساوی صلاحیتوں کا حامل ادارہ نہیں ، بلکہ یہ تو کرپٹ افسران سے بھرا پڑا ھے” اس لئے بہتر ھے آپ آئی بی کو استعمال کریں جو اتنا مؤثر کردار رکھتا ھے کہ ماضی میں نہ صرف نوازشریف اور زرداری اسے استعمال کرتے رہے ہیں بلکہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے آرمی چیف ہوتے ہوئے بھی آئی بی پر rely کیا اور آپ کے وزیر داخلہ بریگیڈیئر اعجاز شاہ کو اس کا head بنا کر اس سے بہت سے نتیجہ خیز آپریشن کروائے”

ذرائع کے مطابق خفیہ ایجنسی نے وزیراعظم کی خواہش پر ان کے قریبی رفقاء ، وفاقی کابینہ میں شامل ان کی ٹیم کے ارکان ، بالخصُوص کلیدی وزرا اور اتحادی سیاسی شخصیات کی بھی جاسوسی کی ، نجی محفلوں میں وزیراعظم عمران خان بارے ان کے خیالات اور ریمارکس خفیہ طور پر ریکارڈ کر کے مفصل رپورٹ شواہد کے ساتھ وزیراعظم کو پیش کردی

Facebook Comments