February 12, 2020 at 11:02 pm

سوشل میڈیا قانون نافذ، رجسٹریشن لازم، مادر پدر آزادی ختم

حکومت پاکستان نے انتہائی خاموشی کے ساتھ سوشل میڈیا کنٹرول کرنے کے لیے قوانین بنا لیے ہیں۔

پارٹی ذرائع نے خبر والے کو بتایا ہے کہ وفاقی کابینہ نے نئے سوشل میڈیا قوانین کی منظوری بھی دے دی ہے۔

پچھلے دنوں وزیر اعظم عمران خان سے سوشل میڈیا ٹیموں سے ملاقاتوں کا اس میں اہم کردار رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے وفاقی کابینہ نے قواعد میں ترمیم کردی جسے پارلیمان سے منظور کرانے کی بھی ضرورت نہیں۔

وزارت آئی ٹی کے سنئیر حکام نے قانونی مسودہ کی منظوری لینے کی بھی تصدیق کردی ہے۔

تمام عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی تین ماہ کے اندر پاکستان میں رجسٹریشن لازمی قرار دے دی جائے گی۔

یو ٹیوب، فیس بک، ٹویٹر، ٹک ٹاک اور ڈیلی موشن سمیت تمام کمپنیاں تین ماہ میں رجسٹریشن کرانے کے پابند ہوں گی۔

تمام سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے تین ماہ کے قلیل وقت کے اندر اسلام آباد میں دفتر قائم کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

تمام عالمی سوشل پلیٹ فارمز اور کمپنیوں پر پاکستان میں رابطہ افسر تعینات کرنے کی شرط بھی عائد کی گئی ہے۔

تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور کمپنیز پر لازم ہو گا کہ وہ ایک سال کے اندر پاکستان میں ڈیٹا سرور بنائیں۔

اس قانون کے نفاذ سے قومی اداروں، ملکی سلامتی کے خلاف بات کرنے والوں کے خلاف کارروائی ممکن ہو سکے گی۔

بیرون ملک سے ان اداروں کو آن لائن نشانہ بنانے والوں کے خلاف بھی کارروائی کا اختیار ہو گا۔

سوشل میڈیا کمپنیوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے نیشنل کو آرڈینیشن اتھارٹی بنائی جائے گی۔
اتھارٹی حراسگی، اداروں کو نشانہ بنانے اور ممنوعہ مواد کی شکایت موصول ہونے پر اکاونٹ بند کر سکے گی۔

اتھارٹی سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف ممنوعہ اور اشتعال انگیز ویڈیوز نہ ہٹانے پر ایکشن لے گی۔

اتھارٹی کے ساتھ تعاون نہ کرنے والی کمپنیوں کی سروسز معطل کر دی جائیں گی۔

نئے قوانین کے تحت اگر کمپنیوں نے رولز کو فالو نہ کیا تو پچاس کروڑ تک جرمانہ ہوگا۔

یوٹیوب سمیت سوشل میڈیا پر بنائے جانےوالے مقامی پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن کرانا بھی لازمی قرار دے دی گئی ہے۔

وزارت آئی ٹی حکام کہتے ہیں قوانین کو الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کا حصہ بنادیاگیا ہے اور اس پر عمل درآمد بھی شروع ہوچکاہے۔

قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلی جنس ادارے قابل اعتراض مواد پر کارروائی کرسکیں گے۔

Facebook Comments