February 12, 2020 at 10:54 pm

مشیر خزانہ حفیظ شیخ قومی اسمبلی کو بتایا کہ تمام مسائل کی جڑ سابقہ حکومتوں کی طرف سے لیا گیا 30 ہزار ارب روپے کا قرضہ ہے۔
انہوں نے لیکن یہ نہیں بتایا کہ ہماری حکومت نے صرف 15 ماہ میں اس قرضے کے بوجھ میں مزید 11 ہزار 610 ارب روپے کا اضافہ کر دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے اعدادو شمار کے مطابق ن لیگ کے 5 سال کے دوران پاکستان کے قرضوں اور واجبات میں مجموعی طور پر 13 ہزار 541 ارب روپے کا اضافہ رکارڈ کیا گیا۔

پی ٹی آئی نے قرضہ لینے میں ن لیگ کو 279فیصد پیچھے چھوڑ دیا


ن لیگ کی حکومت کے اختتم پر ان کا حجم 29 ہزار 879 ارب روپے تھا جو ستمبر 2019 تک 41 ہزار 490 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔
مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے یہ بھی کہا کہ ہمارے اقدامات کی وجہ سے پانچ سال میں پہلی دفعہ ایکسپورٹ میں اضافہ ہوا۔
لیکن حقائق اس سے کافی مختلف ہیں۔
پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق پاکستانی روپے کی قدر میں رکارڈ کمی کے باوجود پی ٹی آئی کے پہلے مالی سال 2019 کے دوران ملکی برآمدات میں ایک فیصد کمی رکارڈ کی گئی۔

پی ٹی آئی کا 332 ہزار 48 ارب قرضہ لینے کا ریکارڈ


رواں مالی سال پہلے سات ماہ کے دوران برآمدات میں 2 فیصد اضافہ تو ہوا ہے۔
تاہم یہ اضافہ 5 سال کے بعد نہیں ہوا۔
مالی سال 2018 کے دوران ملکی برآمدات میں 13.7 فیصد اضافہ ہوا تھا۔
اب 2018 سے 2020 تک پانچ سال کا فرق مشیر خزانہ کے کلوکیلیٹر میں ہی ہو سکتا ہے اور کسی حساب میں تو نہیں بنتا۔

مشیر خزانہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت نے رواں مالی سال اخراجات کے لیے مرکزی بینک سے قرض نہیں لیا۔
یہ تھا ان کا آدھا سچ سات ماہ میں حکومت نے مرکزی بینک سے تو نیا قرض واقعی نہیں لیا۔
لیکن حفیظ شیخ نے یہ نہیں بتایا کی آئی ایم ایف نے مرکزی بینک سے قرض لینے سے منع کیا ہے اور حکومت رواں مالی سال اخراجات کے لیے اب تک کمرشل بینکوں سے 704 ارب روپے اور غیر ملکیوں سے 477 ارب روپے قرض لے چکی ہے۔

Facebook Comments